بہترین زندگی کے راز, نفسیاتی مسائل کا حل , اپنی صحت بہتربنائیں, اسلام اورہم, ترقی کےراز, عملی زندگی کےمسائل اورحل, تاریخ سےسیکھیئے, سماجی وخاندانی مسائل, ازدواجی زندگی بہتربنائیں , گھریلومسائل, روزمرہ زندگی کےمسائل, گھریلوٹوٹکے اسلامی واقعات, کریئر, کونساپیشہ منتخب کریں, نوجوانوں کے مسائل , بچوں کی اچھی تربیت, بچوں کے مسائل , معلومات میں اضافہ , ہمارا پاکستان, سیاسی سمجھ بوجھ, کالم , طنز و مزاح, دلچسپ سائینسی معلومات, کاروبار کیسے کریں ملازمت میں ترقی کریں, غذا سے علاج, زندگی کےمسائل کا حل قرآن سے, بہترین اردو ادب, سیاحت و تفریح, ستاروں کی چال , خواتین کے لیے , مرد حضرات کے لیے, بچوں کی کہانیاں, آپ بیتی , فلمی دنیا, کھیل ہی کھیل , ہمارا معاشرہ اور اس کی اصلاح, سماجی معلومات, حیرت انگیز , مزاحیہ


ترکی: جھیل سے ہزاروں سال قدیم قلعہ دریافت اور پراسرار راز

  اتوار‬‮ 3 جون‬‮ 2018  |  2:16

حال ہی میں ترکی کی سب سے بڑی جھیل کی گہرائی سے ہزاروں سال پرانا قلعہ دریافت ہوا ہے جس کے بعد ماہرین نے کئی رازوں سے پردہ اٹھنے کے امکانات ظاہر کیے ہیں- ماہرین کے ایک محتاط اندازے کے مطابق ترکی کی یہ جھیل خود تقریباً 600,000 سال پرانی ہے-غوطہ خوروں نے اس قدیم قلعے کی باقیات ترکی کی Van نامی جھیل کی سطح سے دریافت کی ہیں جو کہ اب بھی انتہائی محفوظ حالت میں موجود ہیں- ماہرین کے مطابق یہ قلعہ 3 ہزار سال پرانا ہے جسے پراسرار تہذیب Urartu نے تعمیر کیا تھا-ماہرین گزشتہ کئی دہائیوں

دہائیوں سے اس جھیل کی گہرائی میں تحقیق کر رہے تھے جس کے نتیجے میں اب انہیں اسی جھیل کی گہرائی میں گم ہوجانے والا ایک قدیم قلعہ دریافت ہوا ہے- قلعے کو دریافت کرنے والی ٹیم میں Yüzüncü Yıl یونیورسٹی کے محققین کے علاوہ زیرِ آب فوٹو گرافی کے ماہر Tahsin Ceylan اور غوطہ خور Cumali Birol بھی شامل تھے-اس جھیل کے اردگرد کی آبادی کے پانی میں قدیم کھنڈرات کے غائب ہوجانے کے قصے سن کر محققین کی ٹیم نے یہاں تحقیق کرنے کا فیصلہ کیا-کئی دہائیوں پر مشتمل اس تحقیق کے دوران محققین نے اس جھیل سے ایک خاص قسم کی مچھلی٬ مرجان اور ایک ایسے روسی بحری جہاز کو بھی دریافت کیا جو اس مقام پر ڈوب گیا تھا- تاہم ماہرین حال ہی میں دریافت ہونے والے اس قلعے کو اب تک کی سب سے بڑی اور حیرت انگیز دریافت قرار دے رہے ہیں-اس قدیم قلعے پر پتھروں کا اعلیٰ کام ہوا ہے جو کہ جھیل کے انتہائی کھارے پانی کے باوجود بھی بالکل محفوظ رہا اور اب بھی اپنی اصلی حالت میں موجود ہے-یہ قلعہ بھی اس علاقے میں دیگر ان دیہاتوں اور دیگر تعمیرات کی مانند اس وقت تعمیر کیا گیا تھا جب یہاں پانی کی سطح کم تھی- Ceylan کا کہنا ہے کہ “ ایک وقت ایسا بھی تھا جب ترکی کی اس جھیل کے کنارے متعدد تہذیبیں اور لوگ آباد تھے- لوگوں نے اسے “اوپری سمندر“ کا نام دیا اور ان کا ماننا تھا کہ یہاں بہت سی چیزیں چھپی ہوئی ہیں“-“ لوگوں کے اس یقین کو اپنے دماغ میں رکھتے ہوئے ہم نے جھیل کے رازوں سے پردہ اٹھانے کا کام شروع کیا اور ہم اس قلعے کی دریافت کی صورت میں اپنے اس کام میں کامیاب رہے“- Urartu سلطنت پہاڑی خطے میں واقع ایک قدیم سلطنت تھی اور یہ پہاڑی خطہ کیسپین سمندر کے جنوب مغرب میں واقع تھی- آج یہ خطہ تقسیم ہو کر ارمینیا٬ مشرقی ترکی اور شمال مغرب ایران پر مشتمل ہے- تاریخ کا مطالعہ کرنے پر پتہ چلتا ہے کہ Urartu تہذیب 8 ویں اور 9ویں صدی قبل مسیح میں مشرقِ وسطی میں ایک سیاسی طاقت کے طور پر جانی جاتی تھی- ان کے ملک کا نام Biainili تھا جس کا دارالحکومت Tushpa تھا جسے آج دنیا اسی جھیل کے طور پر جانتی ہے جہاں سے یہ قلعہ دریافت ہوا ہے-

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎