بہترین زندگی کے راز, نفسیاتی مسائل کا حل , اپنی صحت بہتربنائیں, اسلام اورہم, ترقی کےراز, عملی زندگی کےمسائل اورحل, تاریخ سےسیکھیئے, سماجی وخاندانی مسائل, ازدواجی زندگی بہتربنائیں , گھریلومسائل, روزمرہ زندگی کےمسائل, گھریلوٹوٹکے اسلامی واقعات, کریئر, کونساپیشہ منتخب کریں, نوجوانوں کے مسائل , بچوں کی اچھی تربیت, بچوں کے مسائل , معلومات میں اضافہ , ہمارا پاکستان, سیاسی سمجھ بوجھ, کالم , طنز و مزاح, دلچسپ سائینسی معلومات, کاروبار کیسے کریں ملازمت میں ترقی کریں, غذا سے علاج, زندگی کےمسائل کا حل قرآن سے, بہترین اردو ادب, سیاحت و تفریح, ستاروں کی چال , خواتین کے لیے , مرد حضرات کے لیے, بچوں کی کہانیاں, آپ بیتی , فلمی دنیا, کھیل ہی کھیل , ہمارا معاشرہ اور اس کی اصلاح, سماجی معلومات, حیرت انگیز , مزاحیہ

شادی کے بعد سسرال میں پہلا رمضان

  بدھ‬‮ 6 جون‬‮ 2018  |  14:10

شادی کے بعد یہ اسکا پہلا رمضان تھا. امی کے گھر تو اس پر کوئی خاص ذمے داری نہیں تھی کیونکہ امی سحری بناکر اسکو باقی سب کےساتھ ہی اٹھایا کرتی تھیں.انکا کہنا تھا "چار دن ماں کے گھر آرام کرلے پھر سسرال جا کے ذمے داریاں ہی نبھانی ہیں"مگر اب شادی کے بعد دو مہینے کا بچہ رات بھر جگائے رکھتا تھا.اور جو ذرا آنکھ لگنے لگتی تو سحری کا وقت ہوجاتا تھا.میٹھی نیند قربان کرکے وہ اس خیال سے بہت جلد اٹھ جایا کرتی تھی کہ سب کی سحری بنانے کے لئے زیادہ وقت درکار ہوگا . اگر

اپنی اور اپنے شوہر کی سحری بنانی ہوتی تو مزید ایک گھنٹہ سونے کی گنجائش نکل ہی جاتی. مگر اب جب کہ پورے گھر کی سحری کی ذمے داری اس اکیلی کے سر پر تھی تو ایک گھنٹہ پہلے ہی اٹھنا پڑتا تھا پھر ہر ایک کی الگ الگ پسند کے مطابق سحری بنانے میں تھوڑا وقت بھی زیادہ لگتا تھا.اپنے طور پر وہ پوری کوشش کرتی تھی کہ کوئی کمی نہ رہ جائے. ہر ایک کو اسکی پسند کے مطابق ہی سحری ملے.آج انیسواں روزہ تھا اور وہ رات کو ایک لمحہ بھی نہیں سوسکی تھی. پتہ نہیں اس کے بیٹے کو کیا ہوگیا تھا. مسلسل روئے چلا جارہا تھا.رات بھر وہ اس خیال سے اپنے بیٹے کو لے کر ٹہلتی رہی تھی کہ اس کے رونے سے شوہر کی نیند نہ خراب ہوجائے.انہوں نے صبح آفس بھی تو جانا تھا.سحری کے قریب جا کے بیٹا سویا تو نجانے کیسے بچے کو سلاتے سلاتے اسکی بھی آنکھ لگ گئی تھی. رات بھر ٹہل ٹہل کر تھک بھی تو چکی تھی.ایک گھنٹہ سونے کے بعد لاشعوری طور پر احساس ذمے داری سے اسکی آنکھ کھلی تو سحری کا وقت ختم ہونے میں بیس منٹ باقی تھے وہ ہڑ بڑا کر اٹھ بیٹھی تھی اور گھبرا کر جلدی سے کچن کا رخ کیا تھا.ابھی کچن کے قریب ہی پہنچی تھی کہ اپنی ساس کی آواز اس کے کانوں میں پڑی تھی.وہ اس کی نند سے سحری لگانے کو کہرہی تھیں اور ساتھ میں اسکی بھی خبر لی جارہی تھی "کہ وہ ایک بہت ہی غیر ذمے دار بہو ہے. سونے سے ہی اسکو فرصت نہیں اور یہ کہ اگر انکی وقت پہ آنکھ نہ کھلتی تو آج اس نے سب کو شدید گرمی میں بغیر سحری کا روزہ رکھوادیا تھا"جواب میں نند کی آواز کانوں سے ٹکرائی تھی "ہاں نا امی اب انکو بھی اٹھانے کی ضرورت نہیں. رکھیں بغیر سحری کا روزہ.ہمیں رکھوانے چلی تھیں. آج مزہ آجائے گا جب خود بغیر سحری کا روزہ رکھینگی. سزا ملنی چاہئے انکو اس غیر ذمے داری کی"اور وہ حیران ہو کر بہتے آنسؤں کے ساتھ سوچرہی تھی کیا اسکی ذمے داری ہے سب کو روزہ کے لئے اٹھانے کی??روزہ تو انسان نے اپنے لئے رکھنا ہوتا ہےتو پھر کیا وہ اپنی ذمے داری پر خود اپنے روزے کی فکر میں نہیں اٹھ سکتا??وہ مزید آگے بڑھ کر انکو شرمندہ نہیں کرنا چاہتی تھی کہ اس کی امی کی تربیت ایسی نہیں تھی.آنسو پونچھ کر اپنے دل کو یہ تسلی دیتے ہوئے شوہر کو اٹھانے چلدی تھی کہ اگر وہ سب کو اٹھا کر سحری کرواتی ہے تو اس کے بدلے اللہ سے اجر بھی تو پاتی ہے.اسکی سحری اگر نہ بھی ہوتی تو کوئی بات نہیں تھی کہ سارا دن اس نے گھر میں ہی تو رہنا تھا.مگر اس کے شوہر نے تو آفس جانا تھا انکی سحری بہت ضروری تھی.ویسے بھی جو تکلیف وہ یہ باتیں سن کر اٹھا چکی تھی اس تکلیف کے سامنے بغیر سحری نہ کرنے کی تکلیف کیا معنے رکھتی تھی.۔دن کی بہترین پوسٹ پڑھنے کے لئے لائف ٹپس فیس بک پیج پر میسج بٹن پر کلک کریں

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎