بہترین زندگی کے راز, نفسیاتی مسائل کا حل , اپنی صحت بہتربنائیں, اسلام اورہم, ترقی کےراز, عملی زندگی کےمسائل اورحل, تاریخ سےسیکھیئے, سماجی وخاندانی مسائل, ازدواجی زندگی بہتربنائیں , گھریلومسائل, روزمرہ زندگی کےمسائل, گھریلوٹوٹکے اسلامی واقعات, کریئر, کونساپیشہ منتخب کریں, نوجوانوں کے مسائل , بچوں کی اچھی تربیت, بچوں کے مسائل , معلومات میں اضافہ , ہمارا پاکستان, سیاسی سمجھ بوجھ, کالم , طنز و مزاح, دلچسپ سائینسی معلومات, کاروبار کیسے کریں ملازمت میں ترقی کریں, غذا سے علاج, زندگی کےمسائل کا حل قرآن سے, بہترین اردو ادب, سیاحت و تفریح, ستاروں کی چال , خواتین کے لیے , مرد حضرات کے لیے, بچوں کی کہانیاں, آپ بیتی , فلمی دنیا, کھیل ہی کھیل , ہمارا معاشرہ اور اس کی اصلاح, سماجی معلومات, حیرت انگیز , مزاحیہ


پاکستانی ہونے پر فخر محسوس کریں

  جمعرات‬‮ 7 جون‬‮ 2018  |  17:00

جاپانی سب سے زیادہ عزت پاکستانیوں کی کرتے ہیں, بزنس کمیونٹی میں بھی وہاں پاکستانی تاجروں کو خاص اہمیت دی جاتی ہے,پاکستانی تاجر وہاں استعمال شدہ گاڑیوں کے سب بڑے خریدار ہیں اور ان کی بہت بہترین ساکھ ہے اس کاروبار میں, ہر نیلامی میں پاکستانی شامل ہوتے ہیں اور پاکستانیوں بغیر زر ضمانت بولی میں حصہ لینے کی اجازت ہے کیونکہ پاکستانی زبان کے پکے مانے جاتے ہیں,جب جاپان میں سونامی آیا۔دنیا کے ہر ترقی یافتہ اور غیر ترقی یافتہ ممالک نے اپنے شہریوں کو واپس بلا لیا۔ یہاں تک کہ بنگلہ دیش نے بھی دو جہاز بھیجے اور

دو جہاز بھیجے اور اپنے شہریوں کو لے گیا‘ لیکن آفت کی اس گھڑی میں پاکستانی وہ واحد قوم تھی جو تھویاما کے برف پوش علاقوں اور ٹوکیو کی گنجان آباد بستیوں سے دیوانہ وار سامانِ خورو نوش لے کر سونامی کے علاقوں میں جا پہنچے۔ جاپانی گرم گرم کھانا پسند کرتے ہیں۔ وہ حیران رہ گئے‘ یہ کیسی قوم ہے‘ اپنے ساتھ کھانا پکانے کا سامان لے کر آئی ہے اور ہمیں گرم گرم کھانا پکا کر کھلا رہی ہے!!وہ جگہیں جہاں ان کا ایٹمی ری ایکٹر تباہ ہوا تھا اور جاپانی بھی تابکاری کے ڈر سے نہیں جاتے تھے‘ پاکستانی وہاں بھی جا پہنچے۔ حیرت کی بات یہ کہ یہ لوگ جب وہاں گئے تو ان میں کوئی کسی جماعت یا مذہبی گروہ کا علمبردار بن کر نہیں بلکہ پاکستانی بن کر گیا۔جاپان کے وزارتِ عظمیٰ کے امیدوار پاکستانیوں کے کیمپوں میں جا کر تصویریں بناتے کیونکہ ''این ایچ کے‘‘ نے پاکستانیوں پر سونامی کے سلسلے میں امدادی کارروائیوں پر ڈاکومنٹری بنائی تھی۔ جس رات یہ ڈاکومنٹری چلی‘ پاکستانی بتاتے ہیں کہ اگلے روز ان کے جاپانی دوست اور ساتھ کام کرنے والے انہیں دیکھتے ہی جھک جاتے‘ آنکھ میں آنسو بھر لاتے اور صرف اتنا کہتے یہ قوم آپ کا شکریہ کیسے ادا کرے گی!!ملعون سلمان رشدی کی گستاخانہ کتاب کا ترجمہ جاپان کی ایک پروفیسر نے کیا، اس کی تقریب رونمائی تھی۔چند پاکستانی اس تقریب میں گئے اور کہا کہ اس کتاب سے ہمارے اور پوری امت مسلمہ کے دل دکھے ہیں۔ پولیس نے نہ صرف اس تقریب کو روکا بلکہ جاپان کے تمام بک سٹالوں سے وہ کتاب اٹھا دی۔ آج بھی وہ پاکستانیوں سے یہ سوال ضرور پوچھتے ہیں کہ وہ کتاب کہیں نظر تو نہیں آئی؟دن کی بہترین پوسٹ پڑھنے کے لئے لائف ٹپس فیس بک پیج پر میسج بٹن پر کلک کریں

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎