بہترین زندگی کے راز, نفسیاتی مسائل کا حل , اپنی صحت بہتربنائیں, اسلام اورہم, ترقی کےراز, عملی زندگی کےمسائل اورحل, تاریخ سےسیکھیئے, سماجی وخاندانی مسائل, ازدواجی زندگی بہتربنائیں , گھریلومسائل, روزمرہ زندگی کےمسائل, گھریلوٹوٹکے اسلامی واقعات, کریئر, کونساپیشہ منتخب کریں, نوجوانوں کے مسائل , بچوں کی اچھی تربیت, بچوں کے مسائل , معلومات میں اضافہ , ہمارا پاکستان, سیاسی سمجھ بوجھ, کالم , طنز و مزاح, دلچسپ سائینسی معلومات, کاروبار کیسے کریں ملازمت میں ترقی کریں, غذا سے علاج, زندگی کےمسائل کا حل قرآن سے, بہترین اردو ادب, سیاحت و تفریح, ستاروں کی چال , خواتین کے لیے , مرد حضرات کے لیے, بچوں کی کہانیاں, آپ بیتی , فلمی دنیا, کھیل ہی کھیل , ہمارا معاشرہ اور اس کی اصلاح, سماجی معلومات, حیرت انگیز , مزاحیہ

اچھا سمندر، پر کتنا گندا….

  جمعہ‬‮ 8 جون‬‮ 2018  |  15:22

ہماری زمین کے ستّر فی صد حصّے پر مشتمل سمندر، دراصل کرۂ ارض کا دل اور پھیپھڑے ہیں، کیوں کہ یہ 75 فی صد آکسیجن پیدا کرنے کے ساتھ،30 فی صد کاربن ڈائی آکسائیڈ بھی جذب کرتے ہیں، جب کہ 99 فی صد جان دار سمندروں ہی میں پائے جاتے ہیں۔ اب تک کی تحقیقات کے مطابق، سمندر میں پائے جانے والے دولاکھ جان داروں کا سراغ مل چکا ہے، جب کہ ان کی اقسام کئی ملین سے بھی زیادہ ہوسکتی ہیں۔ اقوامِ متحدہ کی رپورٹ کے مطابق، کرۂ ارض کے تقریباً3 بلین لوگوں کا روزگار کسی نہ کسی طرح

سے وابستہ ہے۔ صرف ماہی گیری ہی کی صنعت سے200 ملین سے زاید افراد روزی روٹی کما رہے ہیں۔ عالمی سطح پر سمندری صنعت اور بندرگاہوں کا کُل پیداواری مالیاتی حجم 3 ٹریلین ڈالر سالانہ ہے، جو دنیا کے کل جی ڈی پی کا 5 فی صد بنتا ہے۔ مگر سمندر کی ان تمام انسان دوست خصوصیات کے باوجود یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ سمندروں کا 40 فی صد سے زایدحصّہ انسانی سرگرمیوں سے بُری طرح متاثر ہے، بالخصوص ماحولیاتی آلودگی، ماہی گیری کے غیر محتاط طریقوں اور بندرگاہوں کی ابتر حالت کے باعث سمندری حیات تیزی سے ناپید ہورہی ہے۔ نیز، سمندروں میں بہایا جانے والا پلاسٹک کھانے سے ہر سال سیکڑوں جان دار مر جاتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق، 34 فی صد مچھلیوں،86فی صد کچھووں اور 44 فی صد سمندری پرندوں کے پیٹ میں پلاسٹک پایا جاتا ہے یا اُن کے گرد لپٹا ہوتا ہے۔ بحری جہازوں سے رِسنے والا تیل اور سمندری حادثات کی صُورت میں بڑی تعدار میں بہنے والا تیل بھی سمندری آلودگی کی ایک اہم وجہ ہے۔ یہی وہ بنیادی مسائل ہیں، جن کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے1992ء میں برازیل کے شہر، ریوڈی جنیریو میں ہونے والی’’ ارتھ سمٹ‘‘ میں 8 جون کو’’ سمندروں کا عالمی دن‘‘ کے طور پر منانے کا فیصلہ کیا گیا۔ نیز یہ دن اقوامِ متحدہ کے تحت بھی 2008 ء سے ہر سال منایا جارہا ہے۔ اس دن کو منانے کا بنیادی مقصد انسانی زندگی میں سمندر کی اہمیت کو اجاگر کرنا، آبی حیات کا تحفّظ اور سمندری آلودگی پر قابو پانا ہے۔ ماحولیاتی تبدیلیاں، سمندروں پر کس طرح اثرات انداز ہورہی ہیں، اس کی ایک جھلک آپ حال ہی میں جاری ہونے والی تحقیقاتی رپورٹ میں ملاحظہ فرماسکتے ہیں، جس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ’’ سائنس دانوں کے جمع کردہ اعداد و شمار کے مطابق دو سو برسوں کے دَوران سمندر کی سطح میں ایک میٹر یا اس سے بھی زیادہ اضافہ ہو چکا ہے۔ گرین لینڈز اور انٹار کٹیکا یا قطبِ جنوبی میں برف کے تودے اب تک کی سب سے زیادہ رفتار سے پگھل رہے ہیں، جب کہ گزشتہ برسوں کے مقابلے میں سمندروں کا درجۂ حرارت بھی بڑھا ہے۔‘‘ امریکی خلائی ادارے، ناسا کے مطابق، سمندر کی سطح میں اضافے کے دنیا پر گہرےاثرات مرتّب ہوں گے۔ قابلِ غور بات یہ ہے کہ زمین کے اس حصّے پر، جو سمندر کی سطح میں ایک میٹر اضافے کی وجہ سے غرق ہوجائے گا، 150 ملین افراد رہتے ہیں۔ سطحِ سمندر سے کم اونچائی پر موجود علاقوں میں امریکی ریاست، فلوریڈا بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ، سنگاپور اور ٹوکیو کے بھی ڈوبنے کے خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ سمندر کی سطح میں اضافے سے بحر الکاہل کے کئی جزائر زیرِ آب آ جائیں گے۔ ناسا ماہرین اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ آنے والے برسوں میں دنیا کے تمام ساحلوں کی ہیئت میں اچانک تبدیلی آسکتی ہے۔ اس تبدیلی پر مسلسل نظر رکھنے والی ٹیم کے سربراہ کا کہنا ہے کہ’’ گزشتہ چند برسوں میں عالمی حدّت میں جو اضافہ ہوا ہے، اُس سے سمندر کی سطح میں 3 فٹ تک اضافہ ہوچکا ہے۔ اگر کرۂ ارض کی حدّت اسی رفتار سے بڑھتی رہی، تو صُورتِ حال مزید خراب ہوسکتی ہے۔‘‘یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ پاکستان کے پاس بھی1050 کلو میٹر پر پھیلا ہوا ساحلِ سمندر ہے، جس کا 700 کلو میٹر بلوچستان اور350 کلو میٹر سندھ میں ہے۔ یہاں ضمناً یہ بھی عرض کرتے چلیں کہ پاکستان نے اپنی سمندری حدود میں اضافے کے لیے2009ء میں وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، بشمول پاکستان نیوی کے ہائیڈرو گرافرز اور نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اوشیانو گرافی کے ساتھ مل کر اقوامِ متحدہ کی جانب سے مطلوب فارمیٹ اور تفصیلات کے عین مطابق بہت ہی پیچیدہ قسم کا ڈیٹا جمع کروایا تھا، جسے اقوامِ متحدہ کے متعلقہ کمیشن نے منظور کرتے ہوئے پاکستان کا سمندری حدود بڑھانے کا مطالبہ قبول کر لیا اور اب پاکستان کی سمندری حدود 200 ناٹیکل میل سے بڑھ کر 350 ناٹیکل میل ہو گئی ہے۔ اس فیصلے کے نتیجے میں پاکستان کو اپنے ساحل کے ساتھ موجود 2 لاکھ 90 ہزار مربع کلومیٹر کی سمندری اراضی پر معدنیات اور ہائیڈرو کاربن کی دریافت اور استعمال کے حقوق حاصل ہو گئے ہیں۔ یہ رقبہ، پاکستان کے سب سے بڑے صوبے، بلوچستان کے رقبے کے بعد دوسرا بڑا رقبہ ہے۔ ہمارے مُلک کے 40 لاکھ سے زاید افراد ماہی گیری کے پیشے سے منسلک ہیں اور پاکستان ہر سال سمندر سے پکڑی جانے والی کروڑوں روپے کی مچھلیاں وغیرہ بیرونِ مُلک فروخت کرتا ہے، مگر اب اس میں تیزی سے کمی آرہی ہے، جس کی وجہ بڑھتی ہوئی آبی آلودگی ہے۔ پاکستان کی سمندری حدود میں آلودگی کی سب سے بڑی وجہ مچھیروں کی جانب سے ڈالی جانے والی مُردہ مچھلیاں، جہازوں اور لانچز کا بہنے والا گندا تیل اور فیکٹریز کا فضلہ ہے۔ کراچی میں 500 ملین گیلن سے زاید گندا پانیروزانہ بغیر کسی ٹریٹمنٹ کے سمندر میں پھینکا جارہا ہے، حالاں کہ شہر میں دو سے تین ٹریٹمنٹ پلانٹس موجود ہیں، مگر وہ حکومتی اداروں کی عدم توجّہی کی بنا پر عرصۂ دراز سے غیر فعال ہیں۔ کراچی میں 2 ندیاں،13 بڑے اور 250 کے لگ بھگ چھوٹے برساتی نالے ہیں، جن کے ذریعے شہر بھر کی غلاظت، گٹرکا پانی، اسپتالوں اور فیکٹریز کا کچرا بلا روک ٹوک سمندر بُرد ہو رہا ہے۔ درمیان میں کوئی ایسا ٹریٹمنٹ پلانٹ نہیں، جو اس کچرے کو سمندر میں جانے سے روک سکے۔ نیز، ہمارے ساحلوں پر قائم دو فعال ترین بندر گاہیں، کراچی پورٹ ٹرسٹ اور بن قاسم پورٹ بھی سمندری آلودگی کو بڑھانے میں اپناحصّہ ڈال رہی ہیں۔ یوں تو کراچی پورٹ ٹرسٹ کے حکّام سمندر کو صاف رکھنے کے لیے کوششوں کا دعویٰ کرتے ہیں، مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔ یہ بندرگاہ شاید دنیا کی سب سے آلودہ ترین بندرگاہ ہے، کیوں کہ اس کے قرب و جوار میں تیل بہنے کے واقعات عام ہیں اور 2003 ء میں تسمان اسپرٹ کا تیل بہنے کا واقعہ تو دنیا کے بدترین واقعات میں شمار کیا جاتا ہے۔ کراچی پورٹ ٹرسٹ کے قریب، تسمان اسپرٹ نامی یونانی جہاز کے پھنس جانے اور اُس سے ہزاروں ٹن خام تیل بہنے سے ساحل آلودہ ہو گیا تھا اور ہزاروں کی تعداد میں مچھلیاں اور پرندے جان سے گئے تھے۔ اس حادثے کے اثرات آج بھی محسوس کیے جاسکتے ہیں۔سمندر کے سینے میں دفن پوشیدہ خزانوں تک رسائی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ گو کہ پاکستان میں بھی سمندری سروے اور زیرِ سمندر قدرتی وسائل کی مقدار کا درست اندازہ لگانے اور نکالنے کے لیے مناسب وسائل اور تیکنیک کے حصول کی کوششیں جاری ہیں، لیکن اس میں ہمیں مناسب منصوبہ بندی اورحقیقی حکومتی دِل چسپی کی اشد ضرورت ہے ۔ اسٹاک ہوم ڈیکلیریشن کے مطابق، ہر مُلک اس بات کا ذمّے دار ہے کہ وہ اپنے معاشی فائدے اور اپنی آیندہ نسلوں کی خاطر محتاط منصوبہ بندی اور مناسب انتظامی اقدامات کے ذریعے اپنی سمندری حدود میں موجود قدرتی وسائل کا تحفّظ یقینی بنائے، مگر بد قسمتی سے ہمارے ہاں اس ضمن میں حکومتوں کی توجّہ نہ ہونے کے باعث بہت سے سنگین ماحولیاتی مسائل پیدا ہوچکے ہیں۔کیا آپ کو سمندر اچھا لگتا ہے؟ کیا آپ سمندر کو اپنا ایک دیرینہ دوست خیال کرتے ہیں ؟ اگر آپ کا جواب ہاں میں ہے، تو پھر دنیا کو آپ کی کہانی کی ’’ #World Oceans Day ‘‘نامی مہم کے لیے اشد ضرورت ہے۔ اگر آپ نے بھی کبھی کراچی کے ساحل کی صفائی میں حصّہ لیا ہے یا کسی ساحلی قطعے کی حفاظت کی مہم چلائی ہے، تو اس طرح آپ نے زمین پر سب سے قیمتی وسائل میں سے ایک وسیلے کی حفاظت کرنے میں بھرپور مدد کی ہے، لیکن آپ کی سمندر سے دوستی کی یہ کہانی اب مزید گم نامی میں نہیں رہنی چاہیے۔ سمندر کی حفاظت اور اس کی بقا کے لیے اُٹھایا گیا ہر قدم، بنایا گیا ہر پروجیکٹ اور اپنی ہر کہانی #World Oceans Day مہم میں شرکت کرکے دوسرے لوگوں تک پہنچائیے اور یوں عین ممکن ہےکہ آپ کے سمندر دوست خیالات اور کام سے متاثر ہوکر #World Oceans Day کی انتظامیہ کی طرف سے آپ کو’’ یوتھ ایڈوائزری کاؤنسل‘‘ کا عالمی لیڈر منتخب کرلیا جائے۔ #World Oceans Day اپنے منتخب کیے گئے لیڈرز کو نہ صرف دنیا بھر میں سمندر کے سفیر کے طور پر پیش کرتی ہے بلکہ سمندر کی حفاظت کے حوالے سے ہونے والی عالمی کانفرنسز میں شرکت کے لیے مدعو بھی کرتی ہے۔ اس کے لیے آپ ورلڈ اوشین ڈے کی آفیشل ویب سائٹ پر جاکر یا اس مختصر لنک http://wi.cr/CKwtnuv پر کلک کر کے با آسانی یوتھ ایڈوائزری کاؤنسل کی رکنیت کے لیے خود کو رجسٹر کرواسکتے ہیں۔گہرے سمندر کے چندگہرے حقائق سمندر کی گہرائی اپنے اندر کئی پُراسرار راز چھپائے ہوئے ہے اور سائنس دان صدیاں گزرنے کے باوجود ان رازوں سے پردہ نہیں اٹھا پائے، اب تک سمندر کا جتنا بھی حصّہ دریافت کیا گیا ہے، وہ 5 فی صد سے بھی کم ہے۔ آئیں، ہم آپ کو سمندر کے کچھ دِل چسپ حقائق سے آگاہ کریں۔(1) سمندر کا زیادہ ترحصّہ اندھیرے میں ڈوبا ہوا ہے، کیوں کہ روشنی سمندر میں صرف 300 میٹر کی گہرائی تک پہنچ سکتی ہے۔ (2) گہرے سمندر میں پانی کا دباؤ آٹھ ٹن فی انچ تک ہوتا ہے، جو انسان کی دباؤ برداشت کرنے کی صلاحیت سے ہزارہا گُنا زیادہ ہے۔ سمندر میں گہرے پانی کا ہلکا سا بھی دباؤ انسان کے اندرونی اعضاء کو باآسانی توڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ نیز سمندر کی انتہائی گہرائی کا دباؤ کسی شخص پر ایک ساتھ 50 جمبو جیٹ 747 طیارے رکھ دینے کے برابر ہے۔ (3) سمندری پانی کے دباؤ ہی کی وجہ سے سمندر کی بہت زیادہ گہرائی میں ڈوب جانے والی چیزوں، جیسے جہاز وغیرہ کو نکالنا تقریباً ناممکن ہے۔ جیسے ہزار کوشش کے باوجود ٹائی ٹینک جہاز کو سوسال بعد بھی نکالا نہیں جاسکا، کیوں کہ وہ سمندر میں تقریباً چار کلومیڑ نیچے پڑا ہے،جہاں تک کسی غوطہ خور انسان کی رسائی ممکن نہیں۔ اب تک سمندری سنار گاڑی ہی وہاں تک پہنچ پائی ہے، وہ بھی صرف تصاویر اور ویڈیوز بنانے کے لیے۔ (4) سمندری لہروں سے پیدا ہونے والی توانائی کا صرف 0.1 فی صد استعمال کریں، تو اتنی بجلی پیدا کرسکتے ہیں جو پوری دنیا کی بجلی کی طلب سے بھی 5 گنا زاید ہوگی۔ (5) دنیا بھر کے سمندری پانی میں تقریباً 20 ملین ٹن خالص سونا پایا جاتا ہے، لیکن اب تک ایسا کم لاگت طریقۂ کار دریافت نہیں کیا جاسکا، جس کی مدد سے یہ قیمتی سونا حاصل کیا جاسکے۔(6 ) سمندر کا اوسط درجۂ حرارت 17 سینٹی گریڈ یعنی 60.6 ڈگری فارن ہائیٹ ہوتا ہے۔(7 )سمندر میں آواز انتہائی تیزی سے سفر کرتی ہے۔ زیرِ زمین آواز کے سفر کی رفتار 1435 میٹر فی سیکنڈ ہے۔ جو ہوا میں آواز کے سفر کرنے کی نسبت پانچ گنا زیادہ ہے۔(8 ) سمندر کا گہرا ترین مقام، جسے انسان نے اب تک دریافت کیا ہے وہ Mariana Trench کہلاتا ہے۔ یہ مقام، 36, 000 فٹ گہرا ہے۔ اگر دنیا کی بلند ترین عمارت ایمپائر اسٹیٹ بلڈنگ جیسی30 عمارتوں کو اُوپر تلے رکھیں تو شاید ہم سمندر کی اس گہرائی کا مشاہدہ کرسکیں گے، جب کہ ایک انسان غوطہ خوری کا جدید ترین لباس پہن کر بھی سمندر کی 2000 فٹ گہرائی تک ہی جاسکتا ہے۔

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎