بہترین زندگی کے راز, نفسیاتی مسائل کا حل , اپنی صحت بہتربنائیں, اسلام اورہم, ترقی کےراز, عملی زندگی کےمسائل اورحل, تاریخ سےسیکھیئے, سماجی وخاندانی مسائل, ازدواجی زندگی بہتربنائیں , گھریلومسائل, روزمرہ زندگی کےمسائل, گھریلوٹوٹکے اسلامی واقعات, کریئر, کونساپیشہ منتخب کریں, نوجوانوں کے مسائل , بچوں کی اچھی تربیت, بچوں کے مسائل , معلومات میں اضافہ , ہمارا پاکستان, سیاسی سمجھ بوجھ, کالم , طنز و مزاح, دلچسپ سائینسی معلومات, کاروبار کیسے کریں ملازمت میں ترقی کریں, غذا سے علاج, زندگی کےمسائل کا حل قرآن سے, بہترین اردو ادب, سیاحت و تفریح, ستاروں کی چال , خواتین کے لیے , مرد حضرات کے لیے, بچوں کی کہانیاں, آپ بیتی , فلمی دنیا, کھیل ہی کھیل , ہمارا معاشرہ اور اس کی اصلاح, سماجی معلومات, حیرت انگیز , مزاحیہ

محفوظ بچے،محفوظ مستقبل

  ہفتہ‬‮ 9 جون‬‮ 2018  |  21:50

بچے ہمارا سرمایہ اور پاکستان کا مستقبل ہیں اور ہمارے اس مستقبل کو محفوظ بنانے کیلئے اکادمی ادبیات اطفال، ماہنامہ پھول اور پاکستان چلڈرن میگزین سوسائٹی بچوں کے ادیبوں کی فلاح وبہبود،تربیت ، منظم طریقے سے جاری رکھے ہوئے ہے جوکہ قابل تحسین ہے ۔بچوں کے ادیب بچوں کی کردار سازی کرتے،انہیں معاشرے کا اچھا شہری بناتے،ان کے مستقبل کو سنوارتے اور ان میں نکھار پیدا کرتے ہیں ۔نئی نسل کی تربیت ،تفریح اور تعلیم مہیا کرنے کیلئے بچوں کے ادیبوں کا اہم کردار ہے ۔ ادیب پاکستان کے مستقبل کے معماروں کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لئے کوشاں

۔حکومتی سرکاری علمی و ادبی اداروں،تنظیموں کو بچوں کا ادب اور ادیبوں کی سرپرستی کرنی چائیے ان کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے انہیں وہ عزت اور مقام دینا چائیے جس کے وہ حق دار ہیں ،بچوں کے حقوق اور ان کے تحفظ کیلئے ادیب ہی مدد گار ثابت ہوسکتے ہیں حکومت اور محکمہ تعلیم بچوں کے تحفظ،جنسی استحصال سے محفوظ رکھنے کیلئے لٹریچر ،کتب اور نصابی کتب میں ان ادیبوں سے رہنمائی اور مدد حاصل کر سکتے ہیں ۔ بچے ہمارے محفوظ ہوں گے تو ہمارا مستقبل بھی محفوظ ہوگا ۔پاکستان چلڈرن میگزین سوسائٹی ،ماہنامہ پھول اوراکادمی ادبیات اطفال کے زیر اہتمام بچوں کے ادیبوں کی تیسری قومی کانفرنس میں ادیبوں اور بچوں کے رسائل کا کردار اور محفوظ بچے،محفوظ مستقبل کے حوالے سے پرل کانٹی نینٹل ہوٹل لاہور میں منعقدہ کانفرنس میں نامور دانشوروں ادیبوں نے شرکت کی۔ایک روزہ کانفرنس میں ملک بھر سے دو سو سے زائد بچوں کے نامور ادیب،شاعر، ممتازدانشوراورماہرین تعلیم شریک تھے۔قاری احمد ہاشمی اور محمد عبداﷲ کی تلاوت کلام پاک سے باقاعدہ کانفرنس کا آغاز ہوا،معروف نعت خواں سرور حسین نقشبندی نے نعت رسول مقبول پڑھنے کی سعادت حاصل کی جبکہ فاطمہ ریحان،نویرابابر اور شباہت قمر نے نظامت کے فرائض سر انجام دئیے۔معروف ننھی مقررہ الوینہ علی خان اور نویرابابر نے بچوں کے ادیبوں کوبھر پور خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ آج کے نفسا نفسی کے دور میں بچوں کا ادب بچوں کی تربیت اور انہیں مثبت تفریح فراہم کرتا ہے ۔کانفرنس کے پہلے سیشن میں ادیب وبراڈ کاسٹر ابصار عبدالعلی،ڈاکٹر فرحت عباس،تنویر شہزاد،فریدہ گوہر ،شعیب مرزا اوروسیم عالم مہمانان خصوصی تھے۔اکادمی ادبیات اطفال کے سیکرٹری وسیم عالم نے کانفرنس کے تمام معزز مہمانوں اور شرکاء کو خوش آمدید کہاجبکہ محمد شعیب مرزا صدر پاکستان چلڈرن میگزین سوسائٹی نے کہا کہ بچوں کے ادب سے منسلک ہر شخص،ادارے،تنظیم سے ہم تعاون جاری رکھیں گے ،انہوں نے کہا کہ حکومت، علمی و ادبی سرکاری تنظیموں کی بچوں کے ادب اور ادیبوں کے ساتھ بے اعتنائی انتہائی افسوسناک ہے ۔فریدہ گوہر نے کہا کہ تعمیری ادب بچوں پر مثبت اثرات مرتب کرتا ہے۔ناموربراڈ کاسٹر تنویر شہزادنے کہا کہ ریڈیو ابلاغ عامہ کا بہترین ذریعہ ہے اور ریڈیو پروگرامز کے ذریعے سے بچوں کے تحفظ کو ممکن بنایا جاسکتا ہے ،ڈاکٹر فرحت عباس نے کہا کہ بچوں کو شاعری سے تربیت دی جاسکتی ہے ۔نامور ادیب ابصار عبدالعلی نے بچوں کے ادب کے حوالے سے اکادمی ادبیات اطفال اور پھول کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ہر سال حکومتی سرپرستی کے بغیرقومی سطح پر کانفرنس منعقد کرنا یہ آسان کام نہیں ہے۔حکومت کو چائیے کہ بچوں کے ادیبوں کی حوصلہ افزائی اور ان کی سرپرستی کریں۔کانفرنس کے دوسرے سیشن میں ماہر نفسیات ڈاکٹر عمران مرتضی،ظفر علی راجا،ڈاکٹر اشفاق احمدورک،سینئر کالم نگار سلمان عابد اورڈاکٹر فوزیہ سعید مہمانوں میں شامل تھے ۔ڈاکٹر فوزیہ سعید نے انجمن ہلال احمر کی جانب سے بچوں کے تعلیمی اداروں میں دی جانے والی ابتدائی طبی امداد اور تربیت کے حوالے اظہار خیال کیا جبکہ ظفر علی راجا نے بچوں کے ساتھ نارواسلوک اوربچوں کے تحفظ کے حوالے سے قطعات پیش کیے۔مزاح نگار ڈاکٹر اشفاق ورک نے بچوں کی تربیت کے حوالے سے والدین کی غفلت کومزاحیہ انداز میں پیش کیا جبکہ بچے ہمارے عہد کے چالاک اور شریر ہوگئے کا احوال بیان کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا بچے اب بچے نہیں رہے بڑے ہوگئے ہیں وہ اکیسویں صدی میں پیدا ہوئے ہیں اور ان کی جدید دور کے مطابق تربیت کرنے کی اشد ضرورت ہے ۔سینئر کالم نگار سلمان عابد نے کہا کہ میڈیا پر بچوں کے حوالے سے جرائم و کرائم کو محتاط طریقے سے دیا جانا چائیے ہم سول سوسائٹی کا ایک حصہ ہیں اور معاشرے کی اصلاح کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے ۔ماہر نفسیات ڈاکٹر عمران مرتضی نے کہا کہ فاؤنیٹن ہاؤس ان کا گھر ہے جن کا کوئی گھر نہیں ہوتا اور کوئی بھی شخص ذہنی عارضے میں مبتلا ہوسکتا ہے اور ہم اس یقین کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ جو بھی یہاں آیا تو خوبصورت ماحول سے مانوس ہوکر جلد صحت یاب ہوجاتا ہے ۔کانفرنس کے تیسرے سیشن کے مہمانوں میں معروف ادیبہ ،ناول نگار بشری رحمن،محمد حفیظ طاہر ،پروفیسر امجد شاکر اورپروفیسر مسرت کلانچوی شامل تھے۔پروڈیوسر ،شاعر اور کالم نگار محمد حفیظ طاہر نے کہا کہ ہم بچوں ذہنی ہم آہنگی اور دلچسپی کو مد نظر رکھتے ہوئے جو بھی لکھیں گے وہ بچے لازمی پسند کریں گے ۔ڈرامہ نگار پروفیسر مسرت کلانچوی نے کہا ہے کہ ڈرامہ ایک فن ہے اس کو لکھنے کے لئے بہت زیادہ ریاضت اور مہارت کی ضرورت ہوتی ہے ،لکھنے والا علم کا جتنا وسیع خزانہ رکھتا ہوگا تو اتنا زیادہ اچھا ڈرامہ لکھ پائے گا۔ ناول نگاربشری رحمن نے کہا کہ بچوں کی تربیت اور تحفظ کے حوالے سے والدین کو توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔ہمارے معاشرے کے بدلتے اقدار کی وجہ سے بچوں پر کڑی نظر رکھیں اور والدین بچوں کو وقت دیں اور ان کی اخلاقی تربیت کریں جو ان کا فرض بھی بنتا ہے ۔پروفیسر امجد شاکر نے کہا کہ رائٹرز گلڈ ادب اطفال ایوارڈ کا 35سال بعد بچوں کی کتابوں پر دوبارہ اجراء کیا جانا لائق تحسین بات ہے جس پرہم سیکرٹری رائٹرز گلڈ جاوید طفیل کے ممنون ہے ۔کانفرنس کے چوتھے اور اختتامی سیشن میں معروف آرٹسٹ اور چیئرمین لاہور آرٹس کونسل توقیر ناصر،شاعرہ و ادیب پروفیسر مختار احمد عزمی اور مذہبی ،سماجی رہنما ماہر تعلیم ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی اور ماہر تعلیم ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ بچوں کے لئے لکھنا نسل نو کی تربیت کے مترادف ہے یہ ایک نیک اور اہم فریضہ ہے جب ہم کوئی کام نیک نیتی سے کرتے ہیں تو اس کے حوصلہ افزا مثبت نتائج بھی نکلتے ہیں ۔پروفیسر مختار احمد عزمی نے کہا کہ بچوں کے لئے لکھنے والے ادیبوں کی خدمات کو سامنے لایا جانا چائیے اور ان پر ایم فل اور پی ایچ ڈی کے مقالے لکھوانے چائیے بچوں کے ادب کی اہمیت بڑوں کے ادب سے بھی زیادہے۔مستقبل کو محفوظ بنانے کے لئے بچوں کے ادب کو بھی محفوظ بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے ۔چیئرمین لاہور آرٹس کونسل توقیر ناصر نے کہا کہ جب سے ہمارا آنگن اور تخت پوش اختتام کو پہنچا تب سے بچوں کا بڑوں سے رابطہ ختم ہو کر رہ گیا ہے پہلے پہل بچوں کی اسلامی ،اخلاقی اور معاشرتی اقدار نانی اور دادی کی ذمہ داری سمجھی جاتی تھی اب بچے انٹرنیٹ کی دنیا سے اچھا برا سب سیکھ رہے ہیں لیکن وہ اپنی اقدار سے لاعلم ہیں۔کانفرنس میں تمام مقالہ نگاروں، معززمہمانوں کو ادب اطفال ایوارڈ دئیے گئے جن میں عبدالعزیزچشتی،ساجدہ حنیف،اختر سردار چودھری،شیخ فرید،ارشد سلیم پروفیسر ریاض احمد عبداﷲ نظامی ،ڈاکٹر فضلیت بانو،قاری احمد ہاشمی ،سرور حسین نقشبندی،الوینہ علی خان،نویرا بابر،شباہت قمر ،ڈاکٹر امجد طفیل ،سدرہ امبرین یونس،اسامہ منور،فاطمہ ریحان شامل ہیں۔کانفرنس میں شریک تمام شرکاء کو خوبصورت بیگز،لیٹرہیڈز،پرنٹڈ بال پوائنٹس،میگزین اور اسناد پیش کی گئیں۔راقم الحروف کو بھی ادب اطفال ایوارڈ سے نوازا گیاجو قومی سطح پر ملنے والے کسی بڑے ایوارڈ سے کم نہیں تھا۔کانفرنس کے مہمانوں اور شرکاء نے وسیم عالم سیکرٹری اکادمی ادبیات اور محمد شعیب مرزا صدر چلڈرن میگزین سوسائٹی کی بچوں کے ادب کے حوالے سے خدمات کو سراہا اور انہیں خراج تحسین پیش کیا ۔آخر میں کانفرنس کی کامیابی پر منتظمین مبارکباد کے مستحق ہیں ،اس طرح کی بچوں کے حوالے سے تقریبات منعقد کرنے سے بچوں اور بڑوں میں شعور اجاگر کرنے میں مدد ملتی ہے جبکہ بچوں کے ساتھ ساتھ والدین،اساتذہ اور معاشرے کے ہر فرد کو بھی احساس دلایا جاسکتا ہے جس سے پاکستان کے روشن مستقبل بچوں کے تحفظ کو ممکن بنایا جاسکتا ہے۔اس وقت بچوں کو تحفظ دینا اور ان میں حفاظت کا شعور بیدار کرنا ہم سب کی اہم ذمہ داری ہے ۔

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎