بہترین زندگی کے راز, نفسیاتی مسائل کا حل , اپنی صحت بہتربنائیں, اسلام اورہم, ترقی کےراز, عملی زندگی کےمسائل اورحل, تاریخ سےسیکھیئے, سماجی وخاندانی مسائل, ازدواجی زندگی بہتربنائیں , گھریلومسائل, روزمرہ زندگی کےمسائل, گھریلوٹوٹکے اسلامی واقعات, کریئر, کونساپیشہ منتخب کریں, نوجوانوں کے مسائل , بچوں کی اچھی تربیت, بچوں کے مسائل , معلومات میں اضافہ , ہمارا پاکستان, سیاسی سمجھ بوجھ, کالم , طنز و مزاح, دلچسپ سائینسی معلومات, کاروبار کیسے کریں ملازمت میں ترقی کریں, غذا سے علاج, زندگی کےمسائل کا حل قرآن سے, بہترین اردو ادب, سیاحت و تفریح, ستاروں کی چال , خواتین کے لیے , مرد حضرات کے لیے, بچوں کی کہانیاں, آپ بیتی , فلمی دنیا, کھیل ہی کھیل , ہمارا معاشرہ اور اس کی اصلاح, سماجی معلومات, حیرت انگیز , مزاحیہ


مفت علاج

  پیر‬‮ 11 جون‬‮ 2018  |  14:33

صحت انسان کے لئے کس قدر ضروری ہے، یہ بات حکومت خوب جانتی ہے، یہ علم اور ضرورت کی آگاہی ہی تھی کہ وزیراعظم پاکستان جناب نواز شریف بہ نفسِ نفیس رحیم یار خان پہنچے اور غریب اور مستحق لوگوں میں ہیلتھ کارڈ تقسیم کئے۔ ان کارڈز کے حاملین کو سرکاری ہسپتالوں میں مفت علاج کی سہولت حاصل ہوگی۔ پنجاب میں اس کی یہ افتتاحی تقریب تھی، وزیراعظم نے از راہِ کرم اس کی ابتدا پنجاب کے آخری جنوبی ضلع سے کی،اسی کامکا آغاز وہ لاہور سے بھی کرسکتے تھے، یہ غریب اور دور دراز علاقوں کی محبت ہی تھی،

جس کی کشش میں وہ رحیم یار خان تک کھِنچتے چلے گئے۔ وہ ائیرپورٹ سے اترے تو انہیں سیدھا آڈیٹوریم لایا گیا، ایک مقامی سیاستدان جو کہ سابق وفاقی وزیر بھی رہ چکے ہیں، وزیراعظم کی گاڑی میں ہی گئے۔ یہ بات اہم ہے کہ چھوٹے علاقوں میں حکمران قدم رنجہ فرماتے ہیں، تو جس کو وہ اپنی گاڑی میں بٹھا لیں، یا جس کو وہ اپنی گاڑی چلانے کا شرف بخش دیں، اس کا بیڑہ پار ہو جاتا ہے، حکمران مقامی انتظامیہ کو خط نہیں لکھتی ،فون نہیں کرتی ،دراصل یہ قربتوں کے لطیف اشارے ہوتے ہیں، یوں مقامی انتظامیہ جان جاتی ہے کہ کن صاحب کو پروٹوکول دینا اور ان کی بات ہر قیمت پر ماننی ہے۔وزیراعظم نے شیخ خلیفہ آڈیٹوریم میں ہیلتھ کارڈز تقسیم کرنے تھے، ہال میں داخلہ بھی میرٹ پر ہی دیا جارہا تھا، ایسا ہی ہونا چاہیے تھا۔ جو لوگ بڑے کرّوفر کے ساتھ رہتے ہیں اور مقامی طور پر بڑے پروٹوکول میں وقت گزارتے ہیں، وہ قطاروں میں کھڑے تھے۔ جن کے پاس دعوت نامہ تھا، مگر شناختی کارڈ نہیں تھا، وہ بھی واپس گئے، جن کے پاس شناختی کارڈ تھا دعوت نامہ نہیں تھا انہیں بھی داخلے کی اجازت نہیں مل سکی۔ کچھ صاحبان زیادہ بے عزتی برداشت نہ کر سکے، انہوں نے واپسی میں ہی عافیت جانی، مگر بعض کے نزدیک واپس جانا بھی بے عزتی تھی، سو وہ ڈٹے رہے، ان میں سے کچھ منت سماجت اور سفارش وغیرہ کے ذریعے اندر جانے میں کامیاب بھی ہوگئے۔ اس تقریب کا ایک حُسن یہ بھی تھا کہ جنلوگوں کے لئے یہ تقریب برپا کی گئی ان میں سے صرف دس لوگوں کو اندر جانے کی اجازت تھی، یعنی صر ف دس لوگ ہی منتخب کئے گئے جنہیں وزیراعظم کے ہاتھ سے کارڈ نصیب ہونا تھا۔ یہ الگ بات ہے کہ وزیر صحت نے بتایا کہ اس سکیم سے رحیم یار خان کے پانچ لاکھ تین ہزار آٹھ سو تہتر افراد مستفید ہونگے۔ ایک لاکھ تنتالیس ہزار ایک سو اکہتر گھرانوں کو رجسٹر کیا ہے۔ اگر اُن میں سے کچھ لوگ اپنے مُحسن کی جھلکی دیکھ لیتے تو ان کی نسلیں بھی یاد رکھتیں، چلیں کوئی بات نہیں، جھلکی نہ سہی ، کارڈ ہی سہی۔اس تقریب میں وزیراعظم نے بہت سی باتیں کیں، یہ خوشخبری بھی سنائی کہ ملک بھر میں پچاس جدید ہسپتال بنائے جارہے ہیں، جن میں غریبوں کے ہر مرض کا علاج مفت ہوگا، صحت پر آدھا بجٹ بھی خرچ کرنا پڑا تو کریں گے، غریبوں کی فلاح و بہبود پر اﷲ تعالیٰ کے سامنے جوابدہ ہونا پڑے گا۔ یہ بھی ہوا کہ غریبوں کی مشکلات کا ذکر کرتی ہوئے وزیراعظم کی آواز بھرّا گئی، آنکھوں میں نمی کے آثار بھی دیکھے گئے۔ میاں صاحب یقینا دردِ دل رکھنے والے انسان ہیں، غریبوں کی مشکلات وہ برداشت نہیں کرسکتے، مگر ستم یہ ہے کہ وہ تیسری مرتبہ پاکستان کے وزیراعظم بنے ہیں، پنجاب میں کم وبیش بیس برس تک ان کی حکومت رہی ہے، گزشتہ آٹھ برس سے بھی انہی کی حکومت ہے، مگر غریبوں کے لئے مفت علاجاور مزید پچاس ہسپتالوں کا دعویٰ کرنے والے وزیراعظم پاکستان میں ایک بھی ایسا ہسپتال نہیں بنا سکے جس میں وہ خود اپنا علاج کروا سکتے، یا جہاں غریبوں کا علاج مفت ہوتا ہو۔ وہ پچاس ہسپتال شوق سے بنائیں، غریبوں کی دعائیں لیں، لیکن یہ بھی خیال میں رکھیں کہ اس وقت جو ہسپتال پاکستان میں موجود ہیں، ان میں کس قدر عوام کو ریلیف مل رہا ہے، کتنے غریب مفت علاج کروا رہے ہیں، کتنے امراض کی مشینری ہسپتالوں میں دستیاب ہے، کتنے ہسپتالوں میں مریضوں کی دیکھ بھال اور علاج کا درست انتظام ہے؟ لاہور تک کے ہسپتالوں میں لوگ پریشانی کے عالم میں مر رہے ہوتے ہیں۔ پہلے ان ہسپتالوں کی حالت کو بہتر کر لیا جائے ، بعد میں نئے ہسپتال بھی بن جائیں گے۔ وزیراعظم غریبوں کی حالت پر آنسو نہ بہائیں، ان کی حالت بہتر کرنے کے لئے کوئی کام کرکے دکھائیں۔ آدھا بجٹ خرچ کر دینے جیسے دعوے اصل حقائق کو بھی مشکوک بنا دیتے ہیں۔

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎