بہترین زندگی کے راز, نفسیاتی مسائل کا حل , اپنی صحت بہتربنائیں, اسلام اورہم, ترقی کےراز, عملی زندگی کےمسائل اورحل, تاریخ سےسیکھیئے, سماجی وخاندانی مسائل, ازدواجی زندگی بہتربنائیں , گھریلومسائل, روزمرہ زندگی کےمسائل, گھریلوٹوٹکے اسلامی واقعات, کریئر, کونساپیشہ منتخب کریں, نوجوانوں کے مسائل , بچوں کی اچھی تربیت, بچوں کے مسائل , معلومات میں اضافہ , ہمارا پاکستان, سیاسی سمجھ بوجھ, کالم , طنز و مزاح, دلچسپ سائینسی معلومات, کاروبار کیسے کریں ملازمت میں ترقی کریں, غذا سے علاج, زندگی کےمسائل کا حل قرآن سے, بہترین اردو ادب, سیاحت و تفریح, ستاروں کی چال , خواتین کے لیے , مرد حضرات کے لیے, بچوں کی کہانیاں, آپ بیتی , فلمی دنیا, کھیل ہی کھیل , ہمارا معاشرہ اور اس کی اصلاح, سماجی معلومات, حیرت انگیز , مزاحیہ

’چیروکی‘

  پیر‬‮ 11 جون‬‮ 2018  |  16:47

ریڈ انڈینز کو کون نہیں جانتا، یہ وہ جنگلی فطرت کے لوگ ہیں جو ابھی بھی اس دنیا کے بہت سے حصوں میں پائے جاتے ہیں۔ ریڈ اندین قبیلوں کی صورت زندگی بسر کرتے ہیں۔ان لوگوں میں ایک رسم کو ’چیروکی‘ کہتے ہیں۔ اس رسم میں جب کوئی بھی لڑکا ستراں سے اٹھاراں سال کا ہو جاتا ہے تو اس کو بہادری کا ایک امتحان پاس کرنا پڑتا ہے ۔ اگر وہ اس امتحان میں پاس ہو جائے تو اس کو مرد کا بچہ سمجھا جاتا ہے۔ اگر وہ اس امتحان میں اپنی دلیری کا مظاہرہ نہ کر سکے تو

کی چاہے جو بھی عمر ہو جائے اس کو مرد نہیں سمجھا جاتا۔ پورا قبیلہ اسے ایک بزدل کی نظر سے دیکھتا ہے۔ ایک لڑکا بالغ ہوا تو اس کے باپ نے اس کے ساتھ ’چیروکی‘ کی رسم نبھائی۔ اس کو جنگل میں لے کر گیا اور اس کی آنکھوں پر پٹی باندھ دی اور اسے بتایا کہ وہ اسے اس گھنے خطرناک جنگل میںآنکھوں پر اس پٹی کے ساتھ اکیلا چھوڑ کر جا رہا ہے ۔’ چیروکی ‘کی رسم میں جو بھی لڑکا اپنی ایک پوری رات آنکھوں پر پٹی باندھ کر جنگل میں تنہا شب بسر کر لے، اسے ہی ایسا مرد سمجھا جاتا ہے جس میں مردانگی ہو۔اس کا باپ اس کی آنکھوں پر پٹی باندھ کر اس کو رات کو جنگل میں تنہاچھوڑ گیا۔ پوری رات اس پر کیا بیتی وہ بیان کے قابل نہیں ہے۔ اس نے بند آنکھوں کے ساتھ جنگل کی ہر آہٹ سنی اور ڈر لگنے کے باوجود نہ تو اس نے اپنی آنکھوں سے پٹی کھولی اور نہ ہی وہ واپس قبیلے کے رہائشی علاقے کی طرف بھاگا۔ اس نے ساری رات جانوروں کی آوازیں برداشت کیں۔ جب صبح صادق، روشنی کی پہلی کرن اس کے چہرے پر پڑی تو اس نے جلدی سے پٹی کھول دی۔ ’چیروکی‘ کی رسم میں سورج کی کرنیں جب آنکھوں کو پٹی سمیت روشن کر دیتی ہیں تو ہی کوئی بھی ریڈ انڈین لڑکا اپنی آنکھوں پر بندھی پٹی کھول سکتا ہے۔اس نے پٹی کھولی اور ڈر کر اپنے ارد گرد دیکھا کہ کہیں کوئی جنگلی جانور تو اس کی تاک میں نہیں بیٹھا،اسی دوران اس کی نظر اپنے پیچھے بیٹھے، اپنے باپ پر پڑی اور وہ چونک گیا۔ رسم یہی ہوتی ہے کہ لڑکے کو معلوم نہیں ہوتا کہ اس کا باپ ساری رات اس کی حفاظت کرتا ہے لیکن جو کوئی بھی اپنی پٹی رات میں ڈر کر اتار دے اس کا باپ قبیلے کو سچ بتا دیتا ہے اور جب تک کوئی اس رسم کا امتحان پورا نہ کر لے، اس کو بزدل گردانا جاتا ہے۔ اگر کوئی غور کرے تو’چیروکی ‘کی یہ انوکھی رسم ایک بہت اہم سبق سکھاتی ہے۔ زندگی میں اکثر اوقات ہم بالکل تنہا رہ جاتے ہیں اور ایسے لگتا ہے کہ سب غلط ہو رہا ہے اور آگے کوئی روشنی نظر نہیں آتی۔ ایسے میں یاد رکھو کہ اللہ دیکھ رہا ہے۔ کوئی بھی انسان کبھی بھی تنہا نہیں ہوتا کیونکہ اس کے ساتھ وہ ذات ہر دم ہر گھڑی اس کی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے، جو اس سے ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرتی ہے۔اس کو عام الفاظ میں توکل کہتے ہیں اور اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی انسان کبھی لاوارث نہیں ہو سکتا کیونکہ اللہ سب کے لیے۔۔۔الولی۔۔الوالی ۔۔۔الوارث۔۔۔رہے گا۔ یہ اللہ کے ایسے تین نام ہیں جن کا مطلب ہی یہ ہے کہ انسان اس کو اپنا ولی اور وارث کہہ کر پکارتا ہے کیونکہ حقیقت میں صرف وہی ہم سب کا وارث ہے۔ تمام رشتے ناتے چھن سکتے ہیں لیکن اللہ سے رشتہ ایسے ہے جیسے محا فظ۔ وہ اپنے بندے کی ہر دم حفاظت کرتا ہے۔ ہم اکثر مایوس ہو جاتے ہیں کہ اتنی مشکل اٹھائی اور کسی کو کوئی احساس نہیں تو سچ یہ ہے کہ جس نے ’کن فیکون‘ کرنا ہے، وہ سب دیکھ رہا ہے اور اس کے دیکھنے سے ہی سارا فرق پڑتا ہے۔ 

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎