بہترین زندگی کے راز, نفسیاتی مسائل کا حل , اپنی صحت بہتربنائیں, اسلام اورہم, ترقی کےراز, عملی زندگی کےمسائل اورحل, تاریخ سےسیکھیئے, سماجی وخاندانی مسائل, ازدواجی زندگی بہتربنائیں , گھریلومسائل, روزمرہ زندگی کےمسائل, گھریلوٹوٹکے اسلامی واقعات, کریئر, کونساپیشہ منتخب کریں, نوجوانوں کے مسائل , بچوں کی اچھی تربیت, بچوں کے مسائل , معلومات میں اضافہ , ہمارا پاکستان, سیاسی سمجھ بوجھ, کالم , طنز و مزاح, دلچسپ سائینسی معلومات, کاروبار کیسے کریں ملازمت میں ترقی کریں, غذا سے علاج, زندگی کےمسائل کا حل قرآن سے, بہترین اردو ادب, سیاحت و تفریح, ستاروں کی چال , خواتین کے لیے , مرد حضرات کے لیے, بچوں کی کہانیاں, آپ بیتی , فلمی دنیا, کھیل ہی کھیل , ہمارا معاشرہ اور اس کی اصلاح, سماجی معلومات, حیرت انگیز , مزاحیہ

میری عائشہ

  پیر‬‮ 11 جون‬‮ 2018  |  22:22

ہر صبح کی طرح آج بھی میں سو کر اٹھا تو میری نظر بلند بالا پہاڑوں پر پڑی، جو سر سبز شاداب اپنی خوبصورتی کا نظارہ پیش کر رہے تھے۔ لہلہاتے پھول ہر روز کی طرح آج بھی میری نظروں کو خیرا کر رہے تھے۔ میں نے انگڑائی لی اور بیڈ سے اٹھ کر کھڑکی کے پاس آ کر کھڑا ہو گیا۔ یہ میرا روز کا معمول تھا۔ پہاڑوں کی اوٹ سے سورج نکلنے کا نظارہ مجھے بچپن سے ہی دل کش لگا کرتا تھا اور میں ہر روز سورج کو ویلکم کیا کرتا تھا اسکے بعد تیار ہو کر

سکول کے لئے نکل جایا کرتا تھا۔میرا سکول گھر سے کافی دور تھا۔ اس لئے میں گھر سے ایک گھنٹہ پہلے نکلتا۔ اور آج بھی میں ناشتہ کر کے ایک گھنٹہ پہلے نکل گیا۔ گاّؤں کے انچے نیچے راستے سے ہوتا ہوا میں درختوں اور پودوں سے اٹکھیلیاں کرتا میں اس مقام پر پہنچ گیا جہاں سے وہ گزرا کرتی تھی۔ پر آج وہ نظر ہی نہیں آ رہی تھی، میں کچھ دیر وہاں رک گیا تو وہ دور سے آتی دیکھائی دی، میں اسے دیکھتے ہی کھڑا ہو گیا۔ وہ ہر روز کی طرح آج بھی بے حد حسین لگ رہی تھی جیسے کوئی ابسرا آسمانوں سے زمیں پر اتر آئی ہو۔ اسکے بالوں پر بچوں کی طرح بینڈ ہوتا تھا جس میں تازہ پھول ہوا کرتے تھے ۔ کشمیر کی وادیوں میں ایسے بینڈ بچے پہنا کرتے تھے مگر وہ ہمیشہ پہنا کرتی تھی اور وہ بینڈ اس پہ ججتا بھی بہت تھا، خیر وہ چلتی ہوئی میرے پاس سے گزری میں بھی ہر روز کی طرح اسکے ساتھ ہو لیا۔ پھر ہر روز کی طرح باتیں کرتے ہوئے سکول تک پہنچ گئے یہ پندرہ منٹ بہت جلدی ختم ہو جایا کرتے تھے جو ہم اکٹھے جاتے تھے ۔ پھر وہ اپنی کلاس اور میں اپنی ،،،ہم ایسے ہی روز ملا کرتے تھے اور ان پندرہ منٹ میں ڈھیر ساری باتیں کیا کرتے تھے۔ پھر دیکھتے ہی دیکھتے کیسے موسم بدلتے گئے اور ہم میٹرک کے امتحان دینے کے قابل ہوگئے ۔ آج ہمارہ پہلا پیپر تھا انگلش کا اور وہ میرے سامنے معصوم سی شکل بنائے بیٹھی تھی۔ اور ہر روز کی طرح آج بھی تازہ پھولوں کا بینڈ اسکے بالوں کی خوبصورتی بھرا رہا تھا۔ “ ہارون مجھے کچھ نہیں آتا آج میں نے فیل ہو جانا ہے۔ “ اسنے چہرے پر بے حد معصومیت کو اکٹھا کر کے کہا۔ “ میں ہوں نہ میرے ہوتے ہوئے کیوں پریشان ہوتی ہو ؟ “ میں نے ہر بار کی طرح اسے دلاسہ دیا۔ پھر رول نمبر سلپ لگ گئی ہم دونوں اپنے اپنے رول نمبر دیکھ کر بیٹھ گئے اسکا نمبر میرے ساتھ والی جگہ پر آیا تھا یوں میں نے اسے سارا پیپر آسانی سے کروا دیا۔پوری کلاس ہمارے پیار سے واقف تھی اور میرے گھر والے بھی جانتے تھے کہ میں دوسرے گاؤں کی کسی لڑکی کو پسند کرتا ہوں۔ اسکے گھر والے اس بات سے بے خبر تھے۔ جس دن آخری پیپر تھا تب اسنے اور میں نے خط پر رابطہ رکھنے کا وعدہ کیا اور اپنے اپنے کھر کی راہ لی۔ اسکے گاؤں میرا ایک دوست رہا کرتا تھا میں خط اسکے پتہ پر ارسال کرتا اور اسکی بہن جا کر اسے خط دے آتی۔ اور وہ خط لکھ کر اسکی بہن کو دے دیتی اور میرا دوست اسے مجھے پوسٹ کر دیتا یوں ہم مسلسل رابطہ میں رہے تھے۔ اسی طرح ہمارا رزلٹ آگیا اور میں اچھے نمبروں سے پاس ہو گیا۔ پھر میں نے اسے ایک خط لکھا۔۔۔۔۔پیاری عائشہ،،،، میں جانتا ہوں تم ٹھیک ہو گی، کیوں کہ میں ہر روز تمہاری خیریت کی دعا کرتا ہوں۔ میں بھی ٹھیک ہی ہوں تمہاری دعا سے یہ جان کر افسوس ہوی کہ تمہارے گھر والے تمہیں تعلیم جاری رکھنے کی اجازت نہیں دے رہے۔ پر میں میڈیکل کالج میں ایڈمیشن لے رہا ہوں اور میں فیوچر میں ایک ڈاکٹر بنوں گا۔ یہ کالج شہر میں ہے اور مجھے وہاں ہاسٹل میں رہنا ہوگا۔ پر ہم خط پر رانطہ رکھے گے اور میں وہاں سے تمہیں خط ارسال کرتا رہوں گا۔ جب میں ڈاکٹر بن جاؤں گا تب تمہارے گھر اپنا رشتہ بھیجوں گا بس تب تک میرا انتظار کر لینا،،،،، بس تمہارہ ہارونپھر اسکے بعد میں کالج چلا گیا اور وہی ہاسٹل میں رہنے لگ گیا۔ پر ہمارے خط کا سلسلہ ویسا ہی چل رہا تھا۔ میں نے فرسٹ ایئر کا امتحان بھی اچھے نمبروں سے پاس کر لیا تھا اب میں سیکنڈ ایئر کی تیاری میں لگا تھا۔ وہ اپنے پل پل کی خبر مجھے دیا کرتی تھی ، وہ کب سوتی، کب اٹھتی، کب کھاتی ہر چیز کا مجھے علم تھا میں ٹائم دیکھا کرتا تھا اور سوچتا تھا اب وہ یہ کر رہی ہو گی، اب یہ کر رہی ہو گی۔ اور جلدی سے پڑھائی ختم ہونے کی دعائیں کیا کرتا تھا۔ میں نے اسے آخری بار اپنے آخری پیپر کے دوران دیکھا تھا۔ کچھ دن سے میرا دل نہیں لگ رہا تھا۔ عجیب سی حالت تھی۔ اسکے خط بھی آرہے تھے سب کچھ نارمل تھا رمضان کا مہینہ چل رہا تھا اور میں سمجھا روزہ رکھنے سے ایسا ہوتا ہے خیر میں اس دن کالج نہیں گیا کچھ طبیعت بھی ٹھیک نہیں تھی۔ گھڑٰی پر نو بج رہے تھے اور میں اسی کو سوچ رہا تھا کہ وہ اس ٹائم اپنا فیورٹ ڈرامہ دیکھ رہی ہو گی۔میں ابھی اسی کے بارے میں سوچھ رہا تھا کہ ہمارے ہاسٹل کا چوکیدار ہاتھ میں اسکا خط لئے حاضر ہوا۔ میں بہت خوش ہوا اور میری ساری مایوسی ختم ہو گئی۔ میں نے چوکیدار کا شکریہ ادا کیا اور خط لے کر کمرہ لاک کر کے بیڈ پر آگیا میرے سارے روم میٹ کالج گئے ہوئے تھے۔ میں جیسے ہی بیڈ پر بیٹھا مجھے یوں لگا جیسے میرا بیڈ ہل رہا ہو ، میں نے اسے اپنا وہم سمجھا اور پھر سے خط کی طرف متوجہ ہو گیا۔ پھر میرا بیڈ زور زور سے ہلنے لگا میں سمجھ گیا کہ زلزلہ آیا ہے میں نے خط اپنی جیب میں ڈالا اور جلدی سے دروازہ کھولنے کے لئے لپکا کمرے کی ہر چیز لرز رہی تھی۔ میں دروازہ کھول کر سیڑہیوں سے نیچے اترنے لگا۔ ہر چیز زور زور سے ہل رہی تھی زلزلہ اتنا شدید تھا کی مجھ سے سہی سے چلا تک نہیں جا رہا تھا۔میں جیسے تیسے کر کے ہاسٹل سے باہر آیا تو سب لوگ ہی باہر آ چکے تھے۔ میں بھی انکے ہجوم میں جا کر کھڑا ہوگیا۔ ہاسٹل تقریبا کھالی ہو چکا تھا۔ سب لوگ باہر جمع تھے اور “ اللہ اکبر “ کی آواز فضا میں بلند تھی۔ ہر کوئی اپنے گناہوں کی معافی مانگ رہا تھا۔ ہاسٹل کے ساتھ ایک پرانی عمارت تھی جو میری آنکھوں کے سامنے ڈھے گئی۔ عمارت کے گرتے ہی ایک شور برپا ہوا اور پھر سے “ اللہ اکبر “ کی صدا میں تیزی آگئی۔ کچھ لوگ نیچے زمین پر بیٹھ گئے جو کھڑے تھے وہ بھی کسی چیز کا سہارا لئے کھڑے تھے کیوں کی زلزلہ بہت شدید تھا۔میں بھی ایک درخت کے سہار ے کھڑا تھا۔ تاکہ گر نہ سکوں کافی ٹائم بعد شدد میں کمی آ گئی پھر ختم ہو گیا۔ کچھ دیر ہم لوگ وہی بیٹھے رہے پھر جب سب کچھ تھم گیا تب ہم لوگ جو عمارت گری تھی اسکی طرف لپکے مگر اللہ کا لاکھ لاکھ شکر عمارت کے نیچھے کوئی نہیں آیا تھا۔ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔ پھر مجھے میرے گھر والوں کی فکر ہونے لگی اور میں اپنے گھر والوں کو فون کرنے گیا تو مجھ سے پہلے بھی وہاں کئے لڑکے اپنے گھر والوں کی خیریت معلوم کرنے کے لئے وہاں موجود تھے۔ وہاں کافی ہجوم تھا کوئی آدھے گھنٹے بعد میری باری آگئی۔ اور میں سب کی خیریت معلوم کر کے خوشی خوشی اپنے کمرے میں آگیا۔ اللہ کا لاکھ لاکھ شکر تھا میرے گھر والے محفوظ تھے۔ رات کافی ہو چکی تھی میرے ساتھ کے لڑکے سو چکے تھے کچھ اپنے گاؤں روانہ ہو گئےتھے۔ جب میں سونے لئے کے لیٹا تو مجھے عائشہ کا خط یاد آیا میں اسے نکال کر جلدی سے پڑھنے لگا۔اسلام علیکم! ہارون میں بلکل ٹھیک ہوں۔ آپکی خیریت پچھلے خط میں موصول ہو گئی تھی۔ میری خالہ آئی تھی اور میرے رشتے کی بات کر رہی تھی جس کی وجہ سے میں کل بہت پریشان تھی۔ تم اپنا ایف ایس سی پورا کرو اور گاؤں آ کر رشتہ بھیجوں ہم منگنی کر لیتے ہیں شادی تمہارے ڈاکٹر بننے کے بعد کر لے گے۔ ایک بار رشتہ بھیج دو اسکے بعد ہاں کا پیغام بھیجوانا میرا کام ہے۔ اور ہاں سنو اس بار جو سوٹ میں نے عید کے لئے بنوایا تھا نہ وہ اس جمعہ میں پہن کر جمعہ کی نماز پڑھنے گئی تھی۔ سب نے بہت تعریف کی جانتے ہو میں نے کیا پہنا تھا۔ سفید فروق، سفید جوتا، سفید بینڈ سفید پھولوں والا سب کہ رہے تھے پڑی لگ رہی ہو۔ پر میں چاہتی ہوں کہ اس عید پر ہی رشتہ بھیج دو جب تمہارے گھر والے آئے گے میں وہی سوٹ پہن لوگی۔ اپنا بہت سارا خیال رکھنا ،،،،،،، تمہاری عائشہمیں یہ خط پڑھ کر اسے خوابوں میں تصور کرتا جانے کب سویا صبح میری آنکھ میرے دوست کے اٹھانے سے کھلی۔ اسنے کہا کے تمہارے دوست کا گاؤں سے فون ہے میں جلدی سے اٹھا اور فون سننے کے لئے بھاگا۔ “ یار وہ ،،،،، عایشہ،،، “سلام دعا کے بعد میرا دوست مجھے وہ بتانے والا تھا جس نے میری زندگی ختم کر دی۔ “ ہاں بول کیا عایشہ ؟ “ میں نے لاپرواہ سے انداز میں کہا۔ “ یار وہ ،،،، کل اپنے گھر کے ملبے تلے دب کر زندگی کی بازی ہار گئی۔ “ اتنی بری بات وہ اتنی آسانی سے کہ گیا۔ پہلے میرے ہاتھ سے کریڈٹ چھوٹا ، پھر میرے کانوں میں سائے سائے ہونے لگی مجھے کچھ سنائی نہیں دے رہا تھا، پھر میری آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھانے لگے اور میں زمین پر لڑک گیا۔ اسکے بعد کیا ہوا میں کچھ نہیں جانتا تھا۔جب میری آنکھ کھلی تو میری پوری فیملی میرے سامنے موجود تھی میں گھر کیسے آیا مجھے کون یہاں لایا مجھے اس سے کوئی مطلب نہیں تھا۔ میرے ہوش میں آتی ہی میری ماں نے اللہ کا شکر ادا کیا کہ اسکے بیٹے کو آخر دو دن بعد ہوش آہی گیا تھا۔ جیسے میں اپنے حواسوں میں لوٹا مجھے سب سے پہلا خیال عائشہ کا آیا میں جیسے ہی اٹھنے لگا میرے بابا نے مجھے اٹھنے نہیں دیا۔ انہیں لگ رہا تھا کہ میں ابھی اس قابل نہیں کہ کہی جا سکوں۔ میں بے بسی سے رونے لگا تب میں نے اپنے بابا سے کہا کہ مجھے میرے دوست سے ایک بار بات کروا دے میں نے بابا کے موبائل سے دوست کو فون کیا اور روتے ہوے کہا کہ ، میں اسے آخری بار دیکھنا چاہتا ہوں۔ اسنے کہا اب کوئی فائدہ نہیں کیوں کے اسے رات کو ہی دفنا دیا گیا ہے۔ میں بہت رویا اس دن اتنا رویا کہ میرے گھر والے مجھے دیکھ کر رونے لگے۔ بس اس دن کے بعد بس جی رہا ہوں اپنی فیملی کے لئے ،،،،،، آج میں سوچتا ہوں ہوتا وہی ہے جو اللہ کو منظور ہوتا ہے انسان کو تو اگلے پل تک کی خبرنہیں ہوتی،،،، (ختم شدہ )

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎