بہترین زندگی کے راز, نفسیاتی مسائل کا حل , اپنی صحت بہتربنائیں, اسلام اورہم, ترقی کےراز, عملی زندگی کےمسائل اورحل, تاریخ سےسیکھیئے, سماجی وخاندانی مسائل, ازدواجی زندگی بہتربنائیں , گھریلومسائل, روزمرہ زندگی کےمسائل, گھریلوٹوٹکے اسلامی واقعات, کریئر, کونساپیشہ منتخب کریں, نوجوانوں کے مسائل , بچوں کی اچھی تربیت, بچوں کے مسائل , معلومات میں اضافہ , ہمارا پاکستان, سیاسی سمجھ بوجھ, کالم , طنز و مزاح, دلچسپ سائینسی معلومات, کاروبار کیسے کریں ملازمت میں ترقی کریں, غذا سے علاج, زندگی کےمسائل کا حل قرآن سے, بہترین اردو ادب, سیاحت و تفریح, ستاروں کی چال , خواتین کے لیے , مرد حضرات کے لیے, بچوں کی کہانیاں, آپ بیتی , فلمی دنیا, کھیل ہی کھیل , ہمارا معاشرہ اور اس کی اصلاح, سماجی معلومات, حیرت انگیز , مزاحیہ


اتحاد،ایمان،تنظیم

  پیر‬‮ 11 جون‬‮ 2018  |  23:25

فضائیہ کالونی سے باہر نکلتے ہوۓ اسلام آبادایکسپریس وے پر سامنے بنے ہوۓ ٹیلے پرقائداعظم کی نیون لائٹ سےمرصع ایک کافی بڑی تصویر پر نظر پڑی اسکے نیچے اتحاد ،ایمان اور تنظیم نظر آۓ۔۔ابھی روشنی تھی اسلیۓ ان پر اندھیرا طاری تھآ لیکن کیا یہ روشن بھی ہوتے ہیں ؟ بالفرض اسوقت روشن ہوتے بھی ہوں جب بجلی موجود ہوتی ہےتو بھی کیا ہماری زندگی میں ان اصولوں کی چنداں اہمیت بھی ہے؟اسوقت مجھے خواجہ معین آلدین کا لکھا ہوا تعلیم بالغان کا ڈرامہ شدت سے --یاد آیا جسمیں اتحاد ، تنظیم اور یقین محکم کی درگت بنتے ہوئے دکھایا

گیا ہے-اسوقت عمومی طور پر اگر ہم اپنے ملک اور اسکے حالات کا جائزہ لیں تو اندازہ ہوگا کہ قائدکے یہ ذریں اصول ہم نے بچپن سے رٹے توضرور تھے اور جا بجا ہمیں لکھے ہوئے نظر آتے ہیں، لیکن انکا ہم نے جانے انجانے میں جو حشر کر دیا ہے کہ اپنے آپ سے بھی شرم آتی ہے-سب سے پہلے اتحاد کو لیجئے کہ ہم من حیث ا لقوم کسقدر متحد ہیں ہم مذہبی۔لسانی، علاقائی، رنگ و نسل ، فرقہ وارانہ اور اقتصادی گروہوں میں بری طرح منقسم ہیں- تقسیم محض تقسیم کی حد تک غیر فطری فعل ہرگز نہیں ہے لیکن ہم تو دوسرے گروہ کو برداشت کرنیکو ہرگز تیارہی نہیں ہیں- پورے ملک میں قتل و غارتگری، دھوکے اور لوٹ مار کا ایکبازار گرم ہے کہیں کس بہانے اور کہیں کس بہانے سے -- روزانہ پورے ملک میں جدال و قتال کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہے- خود کش دھماکے ، فرقہ وارانہ کشیدگی،انتقامی کار روائیاں جنکی کوئی حد نہیں ہے، کوئی انتہا نہیں ہے- میں تو اسقدر مایوس ہوگئی ہوں یا دوسرے الفاظ میں، میرا قلم اس دہشت گردی اور قتل و غارتگری کا احاطہ کرنے سے قاصر ہے-دہشت گرد اسقدر منظم اور ظالم ہیں کہ پورے ملک کو تخت و تاراج کرنے پر تلے ہوئے ہیں-ملک کے حفاظتی دستے، قانون نافذ کرنے والے ادارے بالکل بے بس اور بے دست و پاہ نظر آرہے ہیں پھر تنظیم اور یقین محکم یا ایمان کا جو حشر ہے کہ خدا کی پناہ -اگر قوت ایمانی ہے تو سادہ لوح اور بے بس عوام میں جو ہر طرح کی صورتحال اور تشدد کے ساتھ جی رہے ہیں اور اس تمام صورتحال کو اپنا مقدر جانکر جینے کی کوشش کر رہے ہیں-اگر پچھلےچند دنوں کا جائیزہ لیں تو کیا کچھ نہیں ہوا - زیارت ریزیڈنسی پر راکٹ حملہ ، وہ مقام جہاں قائد نے اپنے آخری ایام گزارے - جب میں زیارت گئی تھی تو چشم تخیل اور تصاویر کی مدد سے قائد کے نشست و برخاست کا کمرہ ،انکی خوابگاہ ، جس سے متصل کرنل الٰہی بخش کا کمرہ تھا، فاطمہ جناح کا کمرہ ، انکی لکھنے کی میز ، انکے قیام، انکی علالت کا تفصیلی نقشہ نظروں میں گھوم رہا تھا -غسلخانوں کی جدت پر مجھے کچھ اعتراض تھا - انکو بھی اسی صورت میں رہنے دیا جاتا ،تو یہ طبعزاد -تاریخی نقشہ پیش کرتا - لیکن یہ تو محض ایک عمارت تھی-اسی ریزیڈنسی کے بارے میں لکھی ہوئی امجد اسلام امجد کی ایک نظم کے چند قطؑعات بہت اچھے لگے-حالانکہ زندہ قوموں میں عمارات بھی بہت اہم ہوتی ہیںاور پھر اسی دن بولان کالج طالبات کی بس پر حملہ کیا گیا اور جب انکوطبی امداد فراہم کرنیکے لئے میڈیکل ایمر جنسی میں لے جایا گیا تو ان ظالموں بد بختوں نے ان بے گنا ہوں کو بھی آگ اور خوں میں نہلا دیا--نانگا پربت کے بیس کیمپ میں گھس کر کوہ پیما ؤن اور انکے گائیڈ کو ہلاک کیا-کیسا بدلہ کسکا بدلہ اور کس سے لیا جا رہاہے؟ ملک اور ملکی اداروں کو تباہ و برباد کرنے کے درپے ان ظالموں کو کس طرح لگام دی جائے--تو ادھر سے ایک ڈرون آکے انکا قلع قمع کرنیکی کوشش کرتا ہے - ظلم در ظلم فساد در فساد- انکے ساتھ بھی کتنے بے گناہ لقمہ اجل ہو جاتے ہیں-"آج اس چوکی پر اتنے اہلکار اور اتنے شدت پسند ہلاک ہوئے" - میں نے تو خبریں سننی ہی چھوڑ دی ہیں - میں سنوں یا نہ سنوں اس تمام صورتحال میں میری اس مملکت خدادا د میں قاید کے اقوال کی کون پرواہ کرتا ہے جہاں پوری قوم اس میں الجھی ہوئی ہو کہ بجلی آئی، بجلی گئی - میں پچھلے تین سال سے مسلسل خوشگوار موسم بہار میں آتی ہوں اور اذیت ناک گرمیاں جھیلتی ہوںاسے میری خوش قسمتی جانیں یا بد قسمتی - ان تین سالوں میں بجلی کی صورتحال بد سے بد ترین ہوگئی پہلے سال تین گھنٹے پر ایک گھنٹہ بجلی جاتی دوسرے سال دو پر ایک گھنٹہ اور اب ہر گھنٹے پر ایک گھنٹہ جبکہ ایوان صدر ، ایوان وزیر آعظم دیگر اہم سرکاری دفاتر کے ساتھ ججز کالونی - کو بھی استثناء حاصل ہے کیوں بھئی کیا جج ان اٹھارہ کروڑ عوام سے نرالے ہیں- قانون کا نفاذ ہو تو سب کیلئے ہو-دنیا کہاں جارہی ہے اور ہم کہاں جارہے ہیں--قدرتی گیس سی این جی رفتہ رفتہ عنقا ہوتی جا رہی ہے انکے پمپ پر سینکڑوں کے حساب سے گاڑیاں گھنٹوں اپنی باری کے انتظار میں رہتی ہیں-عوام ان چھوٹی چھوٹی خوشیوں میں الجھے ہوتے ہیں اور یہ مسائل صبر و شکر اور بے بسی سے برداشت کرتے ہیں - ننھے بچے تک بجلی کو آتا دیکھ کر کھلکھلا کر اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہیںٓ-- ایک سے ایک ڈرامہ باز سیاسی رہنا سے واسطہ ہے - وہ جو پچھلے 20-25 برس سے خود ساختہ جلا وطنی اختیار کر کے تاج برطانیہ کے وفادار بنے بیٹھے تھے اور اپنی فرعونیت اور فسطائیت پر تلے ہوۓ تھے -"لو آپ اپنے دام میں صیاد آگیآ "اب تاج برطانیہ کا کھایا ہوانمک بھلا کر انکو گالیاں دینے پر اتر آئےٓٓ-انہی قائد صاحب کی کراچی میں جا بجا وتصویروں کو دیکھ کر میرے ایرانی مہمانوں کوخیال ہوا کہ یہ بانئی پاکستان ہیں اور بڑی مشکل سے انہیں ساری بات سمجھا سکی- کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی -ہم بات کر رہے تھے قائد کے ذرٰیں اصولوں کی-تنظیم، نظم ، ڈسپلن اس لفظ کو رفتہ رفتہ ہم اپنی لغت سے خارج کرتے جارہے ہیں - بھئی یہ اصطلاح تو افواج پر جچتی ہے یا ترقی یافتہ ممالک پر ، ہم تو اس سے مبراء ہیں اور جسقدر بد نظمی اور افرا تفری پھیلا سکیں آخر کو ایک آزاد قوم ہیں اور ہماری مرضی جس طرح رہیں سب سے پہلے گندگی اور غلاظت ، اپنے گھروں کو صاف کرکے کوڑا باہر پھینکنا یا پھیلانا ،جابجا کوڑا گندگی توڑ پھوڑ،افرا تفری ہمارا قومی شعار ہے- فقیروں اور ہیجڑوں کی فوج ظفرموج ٹولیوں میں بھیک مانگتی نظر آتی ہے معذور اور اپاہج تو ایک جانب صحتمند ، ھاتھ پاؤن سے سلامت پورے پورے خاندان کے ساتھ بھیک مانگ رہے ہیں -یہ کون ہیں کہاں سے آتے ہیں اور ان تمام فلاح معاشرہ کی تنظیموں میں کوئیانکا پرسان حال نہیں ہے ایک طرف ہمارے تیسری مرتبہ کے وزیراعظم کی 45 کروڑ کی گھڑی کی باز گشت ہے - کیا کسی غریب ملک کا وزیر اعظم اتنا امیر بھی ہو سکتا ہے ؟اسپر تو گینیز بک آف ورلڈ ریکارڈ کا مقابلہ ہونا چاہئے کہ اتنی مہنگی گھڑی دنیا میں اور کسکی ہے-؟ارتکاز دولت آپ سویس بنک اکاؤنٹ میں کریں یا ہاتھ پر گھڑی باندھ کر دونوں صورتوں میں ناجائز اور غیر قانونی ہے اور جو صحیح ٹیکس کی ادائیگی کریں وہ کیا ایک گھڑی پر اتنی دولت خرچ کر سکتے ہیں -کیا اسوقت ہمارے حکمران جودیندار ہونیکا دعویٰ بھی کرتے ہیں اس بڑھیا کو بھول گئے جو امیرالمؤمنین عمر رض سے سوال کرتی ہے کہ انکا کرتا اتنا لمبا کیوں اور کیسے ہوا-؟ نواز شریف اس گھڑی کا کیا جواز دینا چاہینگے-جہاں حنا گیلانی ایک معصوم ملازم کوجگ توڑنیکی پاداش میں انہی شیشے کے ٹکڑون سے مار کر موت کے گھاٹ اتار دیتی ہے - اس عورت کو کیا کسی قانون کے تحت سزا دی جائیگی- جو اس نبی کی پیروکار ہے " کہ خدا کی قسم اگر محمد صلعم کی بیٹی فاطمہ بھی چوری کرتی تو اسکا ہاتھ کاٹ دیا جاتا"لیکن کیا پاکستان میں ؟قانون کسی غریب اور بے کس کے لئے بھی ہے -اسوقت مجھے امریکہ کی ایک دعوت یاد آرہی ہے ٓجہاں پاکستانی خواتین قیمتی ملبوسات اور زیورات میں ملبوس تھیں- میری گفتگو کچھ امریکن خواتین سے ہورہی تھی جو پاکستان سے نابلد تھیں-"پاکستان ایک ترقی پذیر ، غریب ملک ہے" میںنے انکو سمجھانے کی کوشش کی -"غریب؟ آپ لوگوں نے جو لباس اور زیورات زیب تن کئے ہوئے ہیں ہم تو انکے بارے میں خواب میں بھی نہیں سوچ سکتے" -یہ وہ ممالک ہیں جہاں ٹیکس چوری ایک بہت بڑا جرم ہے اور اس کی سزا سے کوئی نہیں بچ سکتا-- خواب دیکھنے میں کیا حرج ہے زیارت ریزیڈنسی تباہ ہوگئی تو کیا ہوا - قاید کا پاکستان اللہ سلامت رکھے تا قیامت جہان ہم انکے اصولوں کی پاسداری کر ینگے انشاءاللہ--اور ایک منظم متحد اور با ایمان قوم بنکر دکھائینگے-

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎