بہترین زندگی کے راز, نفسیاتی مسائل کا حل , اپنی صحت بہتربنائیں, اسلام اورہم, ترقی کےراز, عملی زندگی کےمسائل اورحل, تاریخ سےسیکھیئے, سماجی وخاندانی مسائل, ازدواجی زندگی بہتربنائیں , گھریلومسائل, روزمرہ زندگی کےمسائل, گھریلوٹوٹکے اسلامی واقعات, کریئر, کونساپیشہ منتخب کریں, نوجوانوں کے مسائل , بچوں کی اچھی تربیت, بچوں کے مسائل , معلومات میں اضافہ , ہمارا پاکستان, سیاسی سمجھ بوجھ, کالم , طنز و مزاح, دلچسپ سائینسی معلومات, کاروبار کیسے کریں ملازمت میں ترقی کریں, غذا سے علاج, زندگی کےمسائل کا حل قرآن سے, بہترین اردو ادب, سیاحت و تفریح, ستاروں کی چال , خواتین کے لیے , مرد حضرات کے لیے, بچوں کی کہانیاں, آپ بیتی , فلمی دنیا, کھیل ہی کھیل , ہمارا معاشرہ اور اس کی اصلاح, سماجی معلومات, حیرت انگیز , مزاحیہ

ڈپٹی کمشنر کا والد کے پاؤں چومنا

  منگل‬‮ 12 جون‬‮ 2018  |  4:09

یہ واقعہ ہمارے ایک ملنے والے بابا جی جن کا نام بابا کریم بخش ہے نے سنایا۔ باباکریم بخش خان بھٹہ کہتا ہے کہ پاکستان بننے کے کچھ عرصہ بعد کی بات ہے کہ مظفرگڑھ میں ایک ایسا ڈی سی تعینات ہوا جو انتہائی نیک اور انصاف پسند تھا‘ ایک دن حسب معمول ڈی سی کھلی عدالت تحصیل دفتر کے سامنے لگائے ہوئے تھے کہ اچانک ایک بوڑھا فقیر ریچھ لیکر نمودار ہوا اور ڈی سی صاحب کی مجلس کے بالکل قریب بیٹھ کر ریچھ نچانے لگا‘ فقیر کی اس حرکت سے ڈی سی صاحب کی بارونق محفل کو بڑا

پڑا ڈی سی صاحب سخت پریشان ہوئے وہاں موجود ملازموں کو حکم دیا کہ اس فقیر کو پکڑ کر میرے سامنے لاؤ‘ فقیر ڈی سی صاحب کے سامنے آیا تو فقیر ڈر کے مارے کانپنے لگا‘ خوف سے فقیر کا بُرا حال تھا اس کے پاس ہاتھ جوڑنے کے سوا اور کوئی چارہ نہیں تھا لیکن ڈی سی صاحب خوش اخلاقی والے موڈ میں فقیر کے چہرے کو تکتے جارہے تھے‘ ڈی سی کچھ دیر بعد اپنی کرسی سے اٹھا اور انتہائی شفقت سے بوڑھے فقیر کو کھڑا کیا اور بولا باباجی میں ایک شرط پر تم کو معاف کرسکتا ہوں اگر تم نے میری شرط مان لی تو تمہیں معافی کے علاوہ اپنی طرف سے انعام بھی دونگا۔ ڈی سی صاحب کی فقیر کے ساتھ محبت کو دیکھ کر لوگ بہت حیران بھی ہوئے اور پریشان بھی لیکن فقیر کو صرف ایک فکرلاحق تھی کہ کسی نہ کسی طرح میری جان چھوٹ جائے‘ فقیر نے شرط پوچھی تو ڈی سی صاحب نے کہا کہ اپنے ریچھ کو بیچ کر جو رقم وصول ہو اور جو میں انعام کے طور پر رقم دوں اس سے کوئی کاروبار کرکے اپنے اور اپنے بیوی بچوں کی گزر اوقات کرلے‘ فقیر نے کہا جناب آپ بااختیار ہیں جو جی میں آئے کرو لیکن مجھے اس کام کے علاوہ کچھ آتا ہی نہیں‘ آپ کے جی میں جو آئے کرو لیکن میں یہ کام نہیں چھوڑ سکتا۔ وہاں موجود لوگ حیرانگی سے دونوں کی طرف متوجہ تھے۔ ڈی سی بہت گہری سوچ میں گم تھا کچھ سوچنے کے بعد فقیر سے مخاطب ہوا کہ بابا جی تجھے میری شرط منظور نہیں؟ بوڑھے نے نہ میں سرہلایا۔ ڈی سی صاحب نے ملازموں کو حکم دیا کہ اس آدمی کو ریچھ سمیت میری کوٹھی پر لے جاؤ اور جب تک میں نہ آؤں اس وقت تک اسے وہاں بٹھائے رکھنا اور بابا جی اور ریچھ کو جو بھی خوراک درکار ہووہ فراہم کرنا اور بابا جی کو نئے کپڑے اور چارپائی پر عزت سے بٹھانا کہ جیسے اسے محسوس ہو کہ یہ میرا اپنا گھر ہے۔ سب لوگوں کو حیرانگی میں ڈال کر ڈی سی صاحب نے اپنی محفل برخواست کی اور اپنی جیپ میں بیٹھ کر اپنے سفر کی طرف روانہ ہوگیا‘ اگلی صبح تیار ہونے کے بعد سیدھا بوڑھے فقیر کے پاس پہنچا حال احوال ملازموں کا برتاؤ سب کچھ پوچھنے کے بعد جب تسلی ہوگئی کہ بزرگ اور ریچھ کا ہرطرح سے خیال رکھا گیا ہے پھر بابا جی کی منت شروع کردی کہ باباجی میری شرط مان لو۔ چلو مجھے افسر سمجھ کر نہیں ایک بیٹے کا لاڈ سمجھ کر میری خواہش کو پورا کردو‘ لیکن بوڑھا فقیر اپنی ضد پر قائم تھا بلکہ ڈی سی کو کوسنے لگا کہ کل سے تم نے میرا کام بند کراکے میرے بیوی بچوں کو جو بھوکا مارا ہے اللہ اس کی سزا تمہیں ضرور دیگا۔ ڈی سی صاحب کے بہت سمجھانے کے باوجود بھی بابا اپنی ضد پر قائم رہا۔پھر ڈی سی صاحب نے اپنے ملازموں سے کہا جب تک بابا اپنی ضد پر قائم ہے اس کو وہیں پر رکھنا اور اس کا اور ریچھ کا اچھی طرح سے خیال رکھنا۔ اسی طرح ایک ماہ گزر گیا دونوں اپنی ضد پر قائم رہے۔ جب فقیر ایک ماہ گھر نہ گیا تو اس کے بیوی بچے سخت پریشان ہوگئے ان کے گھروالے پریشانی کے عالم میں خانگڑھ نوابوں کے پاس گئے اور ان کو تمام قصہ سنایا تو نوابوں نے انہیں تسلی دی کہ تم فکر نہ کرو انشاء اللہ جلد رنگیلے کو ڈھونڈ لیں گے۔ ادھر ڈی سی صاحب نے بوڑھے فقیر کو اتنا عرصہ گزرجانے کے بعد بھی بضد پایا تو اپنی بیوی کو تمام واقعہ سنایا اور بیوی سے تعاون کی اپیل کی ڈی سی صاحب کی بیوی بہت نیک تھی اس نے ساتھ دینے کی حامی بھرلی۔ایک شام کو ڈی سی صاحب نے نوکروں کے ذریعے بوڑھے فقیر کو گھر کے اندر کھانے کیلئے بلایا‘ میز پر کھانا خاص مہمانوں کی طرح سجایا گیا‘ ڈی سی صاحب نے بیوی بچوں سمیت بوڑھے فقیر کا بڑی گرم جوشی سے استقبال کیا اور خاص مہمانوں کی طرح عزت سے کرسی پر بٹھایا‘ کھانا کھانے کے بعد بھی ڈی سی صاحب نے بوڑھے فقیر کی بہت منت کی لیکن فقیر پر کوئی اثر نہ ہوا بلکہ چٹان کی طرح اپنی ضد پر ڈٹا رہا۔ تھک ہار کر ایک دن ڈی سی صاحب نے پولیس کو حکم دیا کہ خانگڑھ سے اس کے بچوں کو پکڑ کر کوٹھی پر لایا جائے پولیس نے حکم کی تعمیل کی بابا کے گھروالوں کی جھونپڑیوں سے اس کے بیوی بچوں کو پکڑ کر نہلا دھلا کر عمدہ قسم کے کپڑوں سے سجایا گیا۔ڈی سی صاحب نے آج اپنے گھر کو اس طرح سجایا کہ جیسے اس بنگلہ پر کوئی نئی خوشی آگئی ہو شام کو بوڑھے فقیر کو بیوی بچوں سمیت کوٹھی کے اندر کھانے پر بلایا۔ ڈی سی صاحب اور اس کے بیوی بچوں نے ان سب کی خوب خدمت کی کھانے سے فارغ ہوتے ہی ڈی سی صاحب نے خوشی بھرے انداز میں اپنی بیوی بچوں اور نوکروں کی موجودگی میں خوشی کے آنسو بہاتے ہوئے بے اختیار یہ اعلان کیا کہ سب لوگ یہ سن لو کہ یہ بوڑھا آدمی میرا باپ ہے‘ یہ بوڑھی عورت میری ماں ہے اور یہ سب میرے بہن بھائی ہیں۔ ڈی سی بوڑھے ماں باپ کے قدموں میں گرکر بہت رویا اور کہا تم نے فلاں نواب صاحب کو اولاد نہ ہونے کی وجہ سے مجھے دیا تھا نواب صاحب نے مجھے اپنے بیٹے کی طرح پڑھایا لکھایا۔ بابا اب آپ کی مرضی ہے ریچھ بیچو یا نہ بیچو لیکن میری التجا ہے کہ تم سب اب اس گھر میں رہو گے۔ بابا بولا بیٹا اب میں بھی بازی ہارتا ہوں اب تمہاری جو خواہش ہوگی اس پر عمل ہوگا۔

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎