بہترین زندگی کے راز, نفسیاتی مسائل کا حل , اپنی صحت بہتربنائیں, اسلام اورہم, ترقی کےراز, عملی زندگی کےمسائل اورحل, تاریخ سےسیکھیئے, سماجی وخاندانی مسائل, ازدواجی زندگی بہتربنائیں , گھریلومسائل, روزمرہ زندگی کےمسائل, گھریلوٹوٹکے اسلامی واقعات, کریئر, کونساپیشہ منتخب کریں, نوجوانوں کے مسائل , بچوں کی اچھی تربیت, بچوں کے مسائل , معلومات میں اضافہ , ہمارا پاکستان, سیاسی سمجھ بوجھ, کالم , طنز و مزاح, دلچسپ سائینسی معلومات, کاروبار کیسے کریں ملازمت میں ترقی کریں, غذا سے علاج, زندگی کےمسائل کا حل قرآن سے, بہترین اردو ادب, سیاحت و تفریح, ستاروں کی چال , خواتین کے لیے , مرد حضرات کے لیے, بچوں کی کہانیاں, آپ بیتی , فلمی دنیا, کھیل ہی کھیل , ہمارا معاشرہ اور اس کی اصلاح, سماجی معلومات, حیرت انگیز , مزاحیہ


اگر اللہ تعالیٰ کو منظور نہ ہو تو۔۔۔

  منگل‬‮ 12 جون‬‮ 2018  |  12:41

مصطفی کمال پاشا کوترک قوم اتا ترک یعنی ترکوں کا باپ کہتی ہے۔ اتا ترک فوج میں کرنل تھے۔ ان کی یونٹ گیلی پولی کے مقام پر تعینات تھی۔ ان کے پاس جوانوں اور اسلحہ کی شدید کمی تھی‘ 25اپریل 1915ءکو اچانک برطانوی فوج کا ایک بہت بڑا لشکر گیلی پولی پہنچ گیا۔ یہ لشکر سمندر میں تھا جبکہ اتا ترک کے جوان خشکی پر تھے اور ان چند جوانوں نے برطانوی لشکر کو خشکی پر اترنے سے روکنا تھا۔ اتا ترک کے جوان لڑائی کیلئے

تیار نہیں تھے کیونکہ ان کے پاس اسلحہ بھی کم تھا

اور تعداد بھی۔ برطانوی فوج نے ساحل کے قریب پہنچ کر بحری جہاز سے ترکوں کے مورچوں پر بمباری شروع کر دی۔اتاترک نے اپنے فوجیوں کو گھبرائے ہوئے دیکھا تو وہ مورچے سے نکلے اور ٹہلتے ٹہلتے پانچ فٹ اونچی دیوار پر چڑھ کر بیٹھ گئے‘ انہوںنے ٹانگ کے اوپر ٹانگ چڑھائی‘ جیب سے سگریٹ نکالا‘ سلگایا اور اطمینان سے سگریٹ پینے لگے‘ وہ اس قدر ویزی ایبل تھے کہ برطانوی فوجی انہیں اپنے جہاز سے دیکھ رہے تھے۔ برطانوی فوج نے انہیں ٹارگٹ کیا اور توپ سے ان کی طرف گولہ داغ دیا۔ گولہ اتاترک سے دو سو گز کے فاصلے پر گرا۔ بارود‘ پتھر اور مٹی اڑی لیکن اتاترک اطمینان سے سگریٹ پیتے رہے۔

اگلا گولہ ان سے سوفٹ کے فاصلے پر پھٹا لیکن وہ اطمینان سے سگریٹ پیتے رہے ۔ تیسرا گولہ ان کے سر کے اوپر سے ہوتا ہوا ان کی پشت پر پچاس فٹ دور گرا۔ ایک دھماکہ ہوا اور اتاترک دھوئیں اور غبار میں گم ہو گئے۔ ان کے ساتھیوں اور برطانوی فوجیوں کو محسوس ہوا کرنل مصطفی کمال شہید ہو چکے ہیں لیکن جب دھواں ختم ہوا تو جوان یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ اتا ترک دیوار پر بیٹھ کر اسی طرح سگریٹ پی رہے تھے۔ مصطفی کمال نے سگریٹ کا ٹوٹا نیچے پھینکا‘ اسے جوتے سے بجھایا‘ قہقہہ لگایا اور واپس اپنے مورچوں کی طرف چل پڑے۔ مورچوں کے پاس پہنچ کر انہوں نے اپنے جوانوں سے کہا ”میں تم لوگوں کو یہ بتانا چاہتا تھا اگر اللہ تعالیٰ کو منظور نہ ہو تو دنیا کی کوئی طاقت آپ کو مار نہیں سکتی“۔ وہ رکے اور دوبارہ بولے ”اور میں آپ کو یہ بھی بتا دوں موت صرف ایک بار آتی ہے‘ بار بار نہیں آتی چنانچہ ڈرنا اور گھبرانا بند کر دو“۔ اتاترک کے ان دو فقروں نے جادو کا کام کیا‘ ترک جوانوں نے حوصلہ پکڑا اور برطانوی لشکر کو بھاگنے پر مجبور کر دیا۔

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎