بہترین زندگی کے راز, نفسیاتی مسائل کا حل , اپنی صحت بہتربنائیں, اسلام اورہم, ترقی کےراز, عملی زندگی کےمسائل اورحل, تاریخ سےسیکھیئے, سماجی وخاندانی مسائل, ازدواجی زندگی بہتربنائیں , گھریلومسائل, روزمرہ زندگی کےمسائل, گھریلوٹوٹکے اسلامی واقعات, کریئر, کونساپیشہ منتخب کریں, نوجوانوں کے مسائل , بچوں کی اچھی تربیت, بچوں کے مسائل , معلومات میں اضافہ , ہمارا پاکستان, سیاسی سمجھ بوجھ, کالم , طنز و مزاح, دلچسپ سائینسی معلومات, کاروبار کیسے کریں ملازمت میں ترقی کریں, غذا سے علاج, زندگی کےمسائل کا حل قرآن سے, بہترین اردو ادب, سیاحت و تفریح, ستاروں کی چال , خواتین کے لیے , مرد حضرات کے لیے, بچوں کی کہانیاں, آپ بیتی , فلمی دنیا, کھیل ہی کھیل , ہمارا معاشرہ اور اس کی اصلاح, سماجی معلومات, حیرت انگیز , مزاحیہ

100 روپے کا نوٹ

  منگل‬‮ 12 جون‬‮ 2018  |  16:52

اس نے گاڑی پوسٹ آفس کے باہر روک دی،ابا یہ لیجیے آپ یہ 100 روپے رکھ لیجیے جب پینشن لے چکیں گے تو رکشے میں گھر چلے جائیے گا،مجھے دفتر سے دیر ہو رہی ہے۔بوڑھے باپ کو اُتار کر وہ تیزی سے گاڑی چلاتا ہوا آگے نکل گیا،افضل چند لمحے بیٹے کی دور جاتی ہوئی گاڑی کو دیکھتا رہا پھر ایک ہاتھ میں پینشن کے کاغذ اور ایک ہاتھ میں بیٹے کا دیا ہوا سو روپے کا نوٹ پکڑے وہ اُس لمبی سی قطار کے آخرمیں جا کر کھڑا ہو گیا جس میں اُسی جیسے بہت سے بوڑھے کھڑے تھے،سب

چہروں پر عمر رفتہ کے نشیب و فراز پرانی قبروں پر لگے دُھندلے کتبوں کی مانند کندہ تھے۔آج پینشن لینے کا دن تھا،قطار لمبی ہوتی جارہی تھی،پوسٹ آفس کی جانب سےپینشن کی رقم ادا کرنے کا عمل خاصا سست تھا۔سورج آگ برساتا تیزی سے منزلیں طے کرنے میں مصروف تھا،بے رحم تپتی دھوپ بوڑھوں کو بے حال کرنے لگی،کچھ اُدھر ہی قطار میں ہی بیٹھ گئے،افضل بھی بے حال ہونے لگا،اُس نے اپنے آپ کو سنبھالنے کی بہت کوشش کی مگر ناکام رہا اور لڑکھڑا کر اُدھر قطار میں ہی بیٹھ گیا،اچانک ذہن کے پردے پر اپنے بیٹے کا بچپن ناچنےلگا،وہ جب کبھی اچھلتے کودتے گر جاتا تو وہ کیسے دوڑ کر اُسے اپنی بانہوں میں اٹھا لیتا تھا،اس کے کپڑوں سے دھول جھاڑتا،اُس کے آنسو نکلنے سے پہلے ہی اُسےپچکارتا،پیار کرتا، مگر آج وہ خود لڑکھڑا کر دھول میں لتھڑ رہا تھا اور اُسے اٹھانے والا اُسے یہاں اس طرح چھوڑ کر چلا گیا تھا۔وہ مٹھی کھول کر100 روپے کے اس نوٹ کو دیکھنے لگا جو صبح بیٹا اُس کے ہاتھ میں تھما کر چلا گیا تھا،وہ سوچنے لگا کہ ساری عمر ایمانداری سے ملازمت کر کے،بیٹے کو پڑھا لکھا کر،اُس کی شادی کر کے کیا اُس کی زندگی کا سفر اس 100 روپے کے نوٹ پر آ کر ختم ہو گیا ہےاپنے والدین کا سفر100 کے نوٹ پر مت ختم ہونے دیں اپنے والدین کا خیال رکھیں کل آپ کو بھی اسی منصب پر فائز ہونا ہے۔اللہ تمام اولاد کو عقل اور ہدایت دے

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎