بہترین زندگی کے راز, نفسیاتی مسائل کا حل , اپنی صحت بہتربنائیں, اسلام اورہم, ترقی کےراز, عملی زندگی کےمسائل اورحل, تاریخ سےسیکھیئے, سماجی وخاندانی مسائل, ازدواجی زندگی بہتربنائیں , گھریلومسائل, روزمرہ زندگی کےمسائل, گھریلوٹوٹکے اسلامی واقعات, کریئر, کونساپیشہ منتخب کریں, نوجوانوں کے مسائل , بچوں کی اچھی تربیت, بچوں کے مسائل , معلومات میں اضافہ , ہمارا پاکستان, سیاسی سمجھ بوجھ, کالم , طنز و مزاح, دلچسپ سائینسی معلومات, کاروبار کیسے کریں ملازمت میں ترقی کریں, غذا سے علاج, زندگی کےمسائل کا حل قرآن سے, بہترین اردو ادب, سیاحت و تفریح, ستاروں کی چال , خواتین کے لیے , مرد حضرات کے لیے, بچوں کی کہانیاں, آپ بیتی , فلمی دنیا, کھیل ہی کھیل , ہمارا معاشرہ اور اس کی اصلاح, سماجی معلومات, حیرت انگیز , مزاحیہ


وعدے کی پاسداری

  منگل‬‮ 12 جون‬‮ 2018  |  17:08

ٹھنڈی ہواؤں نے جب سے اس شہر کا رخ کیا تھا۔ اسکول کے تپتے دنوں میں اب راحت محسوس ہونے لگی تھی۔ ایک ماہ قبل میرا ٹرانسفر یہاں ہوا تھا۔ کچی بستی تھی، سادہ سے لوگ تھے۔ یہاں رہنے میں دشورای تو تھی لیکن جو سکون یہاں ملتا تھا وہ شہر ی زندگی میں ناپید تھا۔اس دن میں جماعت سے باہر نکلی تو دیکھا مس فائزہ نے کچھبچوں کواپنے پاس بلایا ہوا ہے۔یہ پنجم جماعت کے طلبہ تھے۔ میں بھی ان کے پاس جا کے بیٹھ گئی۔ معاملہ کھلا تو پتا چلا کہ اسکول سے باہر نکل گئے تھے اور

اب چوکیدار پکڑ کر لایا ہے۔ اس اسکول کی باہر کی دیواریں چھوٹی سی تھیں، ساتھ میں کھیت تھے۔ اس لئے اکثر اساتذہ کو اس مسئلے کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔مس فائزہ بولیں:سچ سچ بتاؤ یہ کس کا منصوبہ تھا۔ان چاروں نے ایک دوسرے کو دیکھا اور پھر نظریں جھکا گئے۔بولا کوئی بھی نہیں۔دیکھو اگر تم لوگ مجھے سچ بتا دو تو میں تم سب کو معاف کر دوں گی۔مس فائزہ نے لالچ دی۔لیکن وہ چاروں اب بھی خاموشتھے،ان کی خاموشی میری سمجھ میں نہیں آرہی تھی۔انصر بولا: مس آپ نے پھر بھی مارنا ہے ،سچ بتایا یا نہ بتا یا ،مار تو پڑنی ہے۔پھینٹی لگا لیں اور جانے دیں۔انصر خاصہ منہ پھٹ بچہ تھا۔اب سارا معاملہ میری سمجھ میں آگیا تھا ،اس لئے میں بولی: اچھا بتاؤ،کس کے کہنے پہ باہرگئے تھے؟میں وعدہ کرتی ہوں میں نہیں ماروں گی۔سچی مس جی؟ انہوں نے تصدیق چاہی۔ جی ہاں۔ میں نے مسکرا کر کہا۔ مس جی،ابو بکر نے کہا تھا باہر جانے کو۔اکرم نےفوراً بتا دیا۔اچھا۔ ابو بکر تم رکو اور تم سب جاؤ۔ابوبکر سر جھکائے کھڑا تھا۔اس نے اپنی غلطی مان لی تھی۔اس نے معذرت کی اور وعدہ کیا کہ وہ آئندہ ایسی کوئی حرکت نہیں کرے گا۔اس کے جانے کے بعد مس فائزہ بولیں۔مس عائشہ آپ کو ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔ بچوں کو مار نہ پڑے تو وہ آپ کی بات کو اہمیت نہیں دیتے۔آپ نے سب کو بھیج دیا۔کیوں کہ میں نے ان سے وعدہ کیا تھا،اور اگر میں خود اپنے وعدے کی پاسداری نہیں کروں گی تو انہیں وعدے کی اہمیت کا اندازہ کیسے ہوگا؟پھر بھی مس۔۔۔مس فائزہ اپنے موقف سے ہٹنے کو تیار نہ تھیں۔س آج بچوںنے اعتبار کیا ہے ہم پہ،اور اگر ہم یہ اعتبار توڑ دیں گے تو وہ کبھی ہم سے کچھ نہیں کہیں گے۔سب کچھ چھپا کر کریں گے۔اس طرح تو ان کا بھی نقصان اور ہمارا بھی۔ایک بار اعتبار کیا ہے اب وہ ایسی کوئی حرکت نہیں کریں گے۔مس عائشہ نے تفصیل سے جواب دیا۔اگلے چند دنوں میں پنجم جماعت کے بچوں قابل ذکر تبدیلیاں آنا شروع ہوگئی تھیں۔جو کلاس سب سے زیادہ بدتمیز مشہور تھی اب ان کے سدھرنے پر سب اساتذہ کو حیرت ہو رہی تھی۔وہ شرارتی بچے ہر روز مس عائشہ کو سلام کرتے اور ساتھ ہی اپنے چھوٹے چھوٹے سے مسئلے بھی بتاتے جن کا وہ فوراً ہی کوئی آسان سا حل بتا دیتی تھیں۔ مس فائزہ بھی مان گئیں تھی کہ وعدہ کرنا اور عمل کر کے دکھانے سے ہی ہم بچوں کی اصلاح کر سکتے ہیں

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎