بہترین زندگی کے راز, نفسیاتی مسائل کا حل , اپنی صحت بہتربنائیں, اسلام اورہم, ترقی کےراز, عملی زندگی کےمسائل اورحل, تاریخ سےسیکھیئے, سماجی وخاندانی مسائل, ازدواجی زندگی بہتربنائیں , گھریلومسائل, روزمرہ زندگی کےمسائل, گھریلوٹوٹکے اسلامی واقعات, کریئر, کونساپیشہ منتخب کریں, نوجوانوں کے مسائل , بچوں کی اچھی تربیت, بچوں کے مسائل , معلومات میں اضافہ , ہمارا پاکستان, سیاسی سمجھ بوجھ, کالم , طنز و مزاح, دلچسپ سائینسی معلومات, کاروبار کیسے کریں ملازمت میں ترقی کریں, غذا سے علاج, زندگی کےمسائل کا حل قرآن سے, بہترین اردو ادب, سیاحت و تفریح, ستاروں کی چال , خواتین کے لیے , مرد حضرات کے لیے, بچوں کی کہانیاں, آپ بیتی , فلمی دنیا, کھیل ہی کھیل , ہمارا معاشرہ اور اس کی اصلاح, سماجی معلومات, حیرت انگیز , مزاحیہ


سودا کے لطیفے

  منگل‬‮ 12 جون‬‮ 2018  |  17:47

جب مرزارفیع سودا کے کلام کا شہرہ، عالم گیر ہوا تو شاہ عالم اپنا کلام اصلاح کے لیے دینے لگے اور فرمائش کرنے لگے۔ ایک دن کسی غزل کے لیے تقاضا کیا۔ انہوں نے عذر بیان کیا۔ حضور نے فرمایا،’’بھئی مرزا کی غزلیں روز کہہ لیتے ہو؟‘‘مرزا نے کہا:’’پیر و مرشد! جب طبیعت لگ جاتی ہے، دو چار شعر کہہ لیتاہوں۔‘‘حضور نے فرمایا:’’ ہم تو چلتے پھرتے چار غزلیں کہہ لیتے ہیں۔‘‘مرزا نے ہاتھ باندھ کر عرض یا:’’حضور! ویسی ہی بُو بھی آتی ہے‘‘ یہ کہہ کر چلے آئے۔ بادشاہ نے پھر کئی دفعہ بلا بھیجا اور کہا:’’ ہماری غزلیں

بنائو، ہم تمہیں ملک الشعرا کردیں گے۔‘‘ یہ نہ گئے اور کہا:’’حضور کی ملک الشعرائی سے کیا ہوتا ہے، رے گا تو میرا کلام، ملک الشعرائی کرے گا۔‘‘ایک دفعہ مرزا سودا نے، ایک انگریز شاہی ملازم کی ہجولکھی اورایک محفل میں اس کے سامنے پڑھ دی۔ انگریز خاموش بیٹھا سنتا رہا۔ جب ہجو ختم ہوئی تو اٹھ کر سامنے آبیٹھا اور اُن کی کمر پکڑ کر گالیوں کی بوچھاڑ شروع کردی۔ مرزا کو ایسا اتفاق کبھی نہیں ہوا تھا۔ حیران ہوکر کہا! خیر باشد جنابِ آغا! اس طرح کا عمل آپ کے شایانِ شان نہیں۔ انگریز نے اپنی کمر سے خنجر نکالا اور اُن کے پیٹ پر رکھ کر کہا! تم نے نظم کہی، نظم کہنی مجھے نہیں آتی، مجھے صرف نثر آتی ہے، وہ بھی عملی نثر،اب ، حوصلے سے اِسے سنو۔فخرِ شعرائے ایران، شیخ علی حزیں، ہندوستان آئے اور پوچھا! شعرائے ہند میں آج کل کوئی صاحب ِ کمالہے؟ لوگوں نے سودا کا نام لیا۔ سودا نے سنا تو خود ملاقات کو گئے۔ شیخ کی نازک مزاجی اور عالی دماغی مشہور تھی۔ کہا، کچھ اپنا کلام سنائو۔ مرزا نے اپنا یہ شعر سنایا۔ناوک نے تیرے صید نہ چھوڑا زمانے میںتڑپے ہے مرغِ قبلہ نما آشیانے میںشیخ نے پوچھا تڑپے کا معنی کیا ہے۔ سودا نے کہا! اہلِ ہند ’طپیدن‘ کو تڑپنا کہتے ہیں۔ شیخ نےدوبارہ شعر سنا اور زانوں پر ہاتھ مارکر کہا!مرزا رفیع سودا۔ تم نے قیامت کردی۔ ایک مرغِ قبلہ نماز باقی تھا، تُو نے اسے بھی نہ چھوڑا۔ یہ کہہ کر کھڑے ہوگئے اور بغل گیر ہوکر ساتھ بٹھایا۔سیّد انشاء کا عالمِ نوجوانی تھا۔مشاعرے میں غزل پڑھی:جِھڑ کی سہی، ادا سہی، چِین ِ جبیں سہیسَب کچھ سہی، پر ایک نہیں کی، نہیں سہیجب یہ شعر پڑھا کہگر نازنیں کہے سے بُرا مانتے ہو تُممیری طرف تو دیکھیے میں، نازنیں سہیسودا کا عالمِ پیری تھا۔ مشاعرےمیں موجود تھے۔مُسکراکر بولے:’’دریں چہ شک۔‘‘

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎