بہترین زندگی کے راز, نفسیاتی مسائل کا حل , اپنی صحت بہتربنائیں, اسلام اورہم, ترقی کےراز, عملی زندگی کےمسائل اورحل, تاریخ سےسیکھیئے, سماجی وخاندانی مسائل, ازدواجی زندگی بہتربنائیں , گھریلومسائل, روزمرہ زندگی کےمسائل, گھریلوٹوٹکے اسلامی واقعات, کریئر, کونساپیشہ منتخب کریں, نوجوانوں کے مسائل , بچوں کی اچھی تربیت, بچوں کے مسائل , معلومات میں اضافہ , ہمارا پاکستان, سیاسی سمجھ بوجھ, کالم , طنز و مزاح, دلچسپ سائینسی معلومات, کاروبار کیسے کریں ملازمت میں ترقی کریں, غذا سے علاج, زندگی کےمسائل کا حل قرآن سے, بہترین اردو ادب, سیاحت و تفریح, ستاروں کی چال , خواتین کے لیے , مرد حضرات کے لیے, بچوں کی کہانیاں, آپ بیتی , فلمی دنیا, کھیل ہی کھیل , ہمارا معاشرہ اور اس کی اصلاح, سماجی معلومات, حیرت انگیز , مزاحیہ


 عروج و زوال

  بدھ‬‮ 13 جون‬‮ 2018  |  13:19

وائٹ ہاؤس امریکن صدر کی سرکاری رہائش گاہ ہے‘ اس عمارت کے اندر ایک درمیانے سائز کا دفتر ہے جسے سفارتی زبان میں اوول آفس کہا جاتا ہے۔ یہ اوول آفس امریکی صدر کا دفتر ہوتا ہے اور جو بھی شخص امریکا کا صدر بنتا ہے وہ اپنی سرکاری ذمہ داریاں اسی دفتر سے سر انجام دیتا ہے‘ امریکا کے سابقہ

صدر باراک حسین اوبامہ 20 جنوری 2009ء کو امریکا کے صدر بنے تو یہ بھی اوول آفس استعمال کرتے رہے۔ہم آپ کو اوول آفس میں صدر اوباماکے دور کی چند ایکٹوٹیز کی تصویری جھلکیاں دکھائیں گے

کیونکہ کہا جاتا ہے کہ ایک تصویر ہزار لفظوں پر بھاری ہوتی ہے۔ آپ یہ ایکٹوٹیز اس وقت اپنے موبائل کی سکرین یا اپنی ایل سی ڈی پر ملاحظہ کر رہے ہیں۔ آپ دیکھئے صدراوباما کس طرح جم ڈوگلس کے ساتھ مل کراوول آفس کا صوفہ ٹھیک کررہے ہیں۔

_48935101_010078558-1 آپ نے آج تک پاکستان سمیت کسی اسلامی ملک کے کسی سربراہ کو یہ کام کرتے نہیں دیکھا ہو گا۔ ہمارے صدور اور وزرائے اعظم تو ٹشو پیپرز اٹھانے کیلئے چپڑاسی کو بلاتے ہیں۔ آپ اسی طرح صدر اوباما کو صدارتی میز کے سامنے فرش پر بیٹھ کر کوئی چیز تلاش کرتے ہوئے یا ٹیبل کو ایڈجسٹ کرتے ہوئے دیکھ رہے ہیں

261211_81_35625_ZJVfOx5ef سابق صدر اوباما تیسری تصویر میں میز کی دوسری سمت میں میز کے اندر گھس رہے ہیں جبکہ ان کی ایک خاتون کولیگ اس حرکت پر مسکرا رہی ہیں۔

128340999469 یہ تصاویر اپنی زبان سے قوموں کے عروج و زوال کی کہانی سنا رہی ہیں‘ جب کوئی قوم ترقی کرتی ہے تو اس کی لیڈر شپ اتنی ہی سادہ‘ اتنی ہی عاجز اور اتنی ہی با اصول ثابت ہوتی ہے کہ یہ صوفے شفٹ کرنے جیسے چھوٹے چھوٹے کام کرتے ہوئے کوئی عار محسوس نہیں کرتی جبکہ اس کے مقابلے میں جب قومیں زوال کا شکار ہوتی ہیں تو ان کے راہنما سوٹ پہن کر‘ ویسٹ کوٹ کی جیب میں رومال لگا کر اور پچاس پچاس ہزار روپے کی عینک پہن کر سیلاب سے متاثر لوگوں کے کیمپوں میں جاتے ہیں۔ سیلاب زدہ علاقوں کے دورے کرتے ہیں اور ان کے جوتوں کی پالش تک خراب نہیں ہوتی۔ ملک سمندر نہیں ہوتے جن میں خوشحالی‘ گڈ گورننس‘ پرفامنس‘ امن‘ شائستگی اور انصاف کے چھوٹے چھوٹے جزیرے موجود ہوں اور ہر جزیرے کے لوگ دوسرے جزیروں کے لوگوں سے مختلف زندگی گزار رہے ہوں۔ ملک مشینوں کی طرح ہوتے ہیں‘ ان کا جب کوئی پرزہ خراب ہوتا ہے تو ان کے دوسرے پرزے بھی زیادہ دیر تک صحیح نہیں رہ سکتے۔ ساری مشین تیزی سے خراب ہو جاتی ہے۔

تبدیلی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کے دو طریقے ہیں۔ ایک ہم خود ہی بدلتے ہوئے حالات کا اندازا لگائیں اور اپنے آپ کو تبدیل کر لیں۔ دو حالات کی سنگینی اور حدت میں اضافہ ہوتا چلا جائے اور ایک ایسا وقت آجا ئے جب قدرت بے رحم ہو کر ہر چیز تبدیل کر دے۔ معاشرے‘ ملک اور ماحول جب تبدیلی کے لیول پر پہنچ جاتے ہیں تو یہ سیلاب اور طوفان کی شکل اختیار کر جاتے ہیں اور اس وقت ان کے راستے میں جو طاقت‘ جو رکاوٹ آتی ہے یہ اسے اپنے ساتھ بہا کر لے جاتے ہیں۔ ہمارا معاشرہ‘ ہمارا ملک بھی تبدیلی کے آخری دھانے تک پہنچ چکا ہے اور اب اگر ہم نے اسے خود تبدیل نے کیا تو یہ فیصلہ قدرت کرے گی اور جب قدرت فیصلے کرتی ہے تو پھر تبدیلی کے راستے میں آنے والا ہر بند ٹوٹ جاتا ہے۔ پورا ملک انارکی کے سیلاب میں بہہ جاتا ہے۔

غیبت

ہم جب بھی کسی شخص سے ملتے ہیں ہم اس شخص کی اچھائیوں پر نظر نہیں کرتے صرف اس کی برائیاں ہی نظر آتی ہیں ۔شاید ہماری تربیت ہے کچھ اس طرح سے ہوتی ہے مجھے ایک بہت پرانا لطیفہ یاد آ رہا ہے آپ کو بھی سناتا ہوں ۔ایک میراثی تھا جو بڑا بزرگ آدمی تھا لیکن اس کی بیوی بڑی تنگ تھی اور اسے طعنے دیتی رہتی تھی کہ تو اپنی شکل دیکھ تو کیسے بزرگ ہو سکتا ہے،وہ بیچارہ بھی بڑا پریشان تھا ایک دن مغرب کی نماز پڑھنے کے بعد وہ دعا مانگ رہا تھا تو اس کی بیوی نے آ کر اسے ٹھڈا (ٹھوکر) مارا اور کہا تو ادھر بیٹھ کر دعائیں مانگ رہا ہے اٹھ کر کوئی کام وام کرو بیوی کی اس حرکت سے اسے جلال آگیا ، وہ اپنی جگہ سے اٹھا ، ہوا میں ابھرا اور آسمانوں میں چھا گیا ۔

اور اس نے آسمان کے تین چار بڑے بڑے چکر لگائے اس کی بیوی نیچے کھڑی دیکھتی رہی اور دل میں سوچتی رہی کہ یہ کوئی اللہ کا بڑا پیارا ہے وہ میراثی جب نیچے اتر آیا تو اپنی بیوی سے کہا دیکھا تو نے ہمارا کمال !اس کی بیوی کہنے لگی کونسا کمال ؟ کہنے لگی وہ تو اللہ کا کوئی پاکیزہ بندہ تھا۔وہ کہنے لگا ’’ اوہ میں سی ’’ تو پھر وہ کہنے لگی اچھا !’’ ایس لئے ٹیڈھا ٹیڈھا اڈ رہیا سی ’’ ( اس لیے ٹیڑھے ٹیڑھے اڑ رہے تھے )یہ بڑی پرانی بات ہے لیکن اب جب بھی ہم کسی بندے سے ملتے ہیں ہمیں اس میں ٹیڑھ نظر آتی ھے تو پھر ہماری زندگی میں ، ہماری ذات اور ہمارے وجود میں بھی ، ایک ٹیڑھ پیدا ہو جاتی ہے اور وہ ٹیڑھ نکلتی نہیں اس لیے اللہ نے خاص مہربانی فرما کر ہمیں غیبت سے منع فرمایا ہے ۔

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎