بہترین زندگی کے راز, نفسیاتی مسائل کا حل , اپنی صحت بہتربنائیں, اسلام اورہم, ترقی کےراز, عملی زندگی کےمسائل اورحل, تاریخ سےسیکھیئے, سماجی وخاندانی مسائل, ازدواجی زندگی بہتربنائیں , گھریلومسائل, روزمرہ زندگی کےمسائل, گھریلوٹوٹکے اسلامی واقعات, کریئر, کونساپیشہ منتخب کریں, نوجوانوں کے مسائل , بچوں کی اچھی تربیت, بچوں کے مسائل , معلومات میں اضافہ , ہمارا پاکستان, سیاسی سمجھ بوجھ, کالم , طنز و مزاح, دلچسپ سائینسی معلومات, کاروبار کیسے کریں ملازمت میں ترقی کریں, غذا سے علاج, زندگی کےمسائل کا حل قرآن سے, بہترین اردو ادب, سیاحت و تفریح, ستاروں کی چال , خواتین کے لیے , مرد حضرات کے لیے, بچوں کی کہانیاں, آپ بیتی , فلمی دنیا, کھیل ہی کھیل , ہمارا معاشرہ اور اس کی اصلاح, سماجی معلومات, حیرت انگیز , مزاحیہ


زہریلے سانپ

  بدھ‬‮ 13 جون‬‮ 2018  |  17:24

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک بستی کے قریبی پہاڑ پر ایک مارخور رہتا تھااس مارخور نے وہ پہاڑ اس لئے چنا تھا کیونکہ اس پہاڑ پر بہت سے چھوٹے بڑے زہریلے سانپ رہتے تھے جو اپنی خبیث حرکتوں سے دوسرے جنگلی جانوروں اور انسانوں کو تنگ کرتے رہتے تھے۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ مارخور سانپ کھا جاتا ہے تو ان سانپوں کا وہ شکار کیا کرتا تھا۔ آہستہ آہستہ پہاڑ پر بسنے والی انسانی آبادی اور تمام مخلوقات میں وہ مارخورمقبول ہوتا گیا۔ لوگ اسے نجات دہندہ سمجھنے لگے۔ اور اس سے پیار کرنے لگے۔دوسری سانپوں میں

کھلبی مچی ہوئی تھی۔وہ دن رات مارخور کو ڈسنے کا سوچتے رہتے۔ مگر جیسے ہی کوئی اسکے قریب آتا مارا جاتا۔ پھر جب کوئی سانپ مار خور کے ہاتھوں مارا جاتا تو یہ بات انکے خاندانوں میں بڑی خاندانوں میں بڑی عزت کی بات سمجھی جاتی تھی۔ جب کسی سانپ کے مرنے کی خبر آتی تو سب سانپ خوب روتے، آنسو بہاتے، اور مرنے والے سانپ کے دوستوں اور رشتےداروں کی تو اچھی خاصی مشہوری ہوجاتی تھی۔ کہ بیچارہ ظلم کے خلاف سچائی کیجدوجہد کرتا مارا گیاآہستہ آہستہ جب ان سانپوں نے دیکھا کہ مارخور کو براہ راست مقابلہ کر کے مارنا ناممکن ہے تو انہوں نے ایک خطرناک منصوبہ بنایاایک مارخور اب ہر سانپ کے پیچھے تو نہیں جا سکتا تھا تو انہوں نے سوچا کہ وہ ایک سانپ کو مارخور کے سامنے بھگائیں گے جب وہ اسکا پیچھا کرے گا اتنے میں دوسرے سانپ انسانی بستی میں داخل ہو کر انسانوں کو تنگ کیا کریں گےاور ایسا ہی ہوا۔اب مارخور کی موجودگی کے باوجود انسانی بستیاور دوسری معصوم جنگلی مخلوقات میں سے روز کوئی نہ کوئی سانپ کے کاٹنے سے مرنے لگا۔لوگوں میں سخت غم و غصہ پایا جانے لگا۔ کوئی کہتا کہ مارخور کو مار دو خوامخواہ یہ یہاں رہ رہا ہے۔ اسکے رہنے کا کیا فائدہ جب یہ کچھ کر نہیں سکتا، کوئی کہتا کہ اسکو ذبح کر دو اسکے سینگ بیچ دیں گے۔جنگلی جانور بھی بہتپریشان تھے کہ آخرایسا کیا ہوا کہ ہمارا پیارا مارخور ان سانپوں کو دیکھ نہیں پا رہا۔ایسے میں کچھ برفانی لومڑیاں جو مارخور کا گوشت کھانے کے خواب دیکھتی تھیں اور ہمیشہ ناکام رہتی تھیں میدان میں آگئیں۔ انہوں نے مارخور کے خلاف پوری مہم ہی چلا ڈالی۔ہر طرف شور مچنے لگا کہ مارخور کا کیا فائدہ ؟مارخور بیچارہ دن رات محنت سے اپنے کام پر لگا رہتا۔ اسے خبر ہی نہ تھی کہ اس سے پیار کرنے والی مخلوقات اب اسکی دشمن بنتی جا رہی ہے۔اسکے خلاف سازشیں سنتی ہے اور اسکے دشمنوں کی ہر بات کا یقین کرتی جا رہی ہے۔اب مارخور تک بھی وہنفرت پہنچنے لگی تھی۔ اور اسے نظر آرہا تھا کہ اسکا وہاں رہنےکا اب کوئی فائدہ نہیں۔اداس دل کے ساتھ ایک رات وہ بستی کے قریبی ویرانے کی طرف جانے والے راستے پر بیٹھا تھا۔کہ اس نے کچھ سانپ دیکھے مارخور کی بھوک تو کب کی مٹ چکی تھی اس نے انکا پیچھا نہیں کیااب سانپوں کو بڑی حیرت ہوئی کہ یہ پیچھے کیوں نہیں آرہا ہےاگر یہ جلدی نہ آیا تو بستی میں جانے والے سانپوں کو دیکھ لے گا اور انکا پول کھل جائے گا۔یہ سوچ کر وہ سانپ شور مچانے لگے جان بوجھ کر اسکے آس پاس منڈلانے لگے،مارخور کو یہ بات کچھ عجیب لگی وہ حقیقت جاننے سونے کا بہانہ کرنے لگا۔اب ان سانپوں نے سوچا کہ شاید اب ہمیں اس سے کوئی خطرہ نہیں رہا کیونکہ اسکو اب اسکے چاہنے والوں کی حمایت حاصل نہیں رہی تو انہوں نے اس پر آوازیں کسنا شروع کر دیں۔ اور خوشی سےناچنے لگے۔ناچتے ناچتے دوسرے سانپ بھی انکے قریب جمع ہونا شروع ہو گئے اور کچھ سانپ موقع عنیمت جانتے ہوئے بستی میں داخل ہونے لگے۔ جنہیں مارخور نے دیکھ لیا۔اب اسکی سمجھ میں ساری بات آگئی۔ اس نے نہایت پھرتی سے قریبی سانپوں کو ختم کیا اور بستی میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والے سانپوں کی گردن دبوچ لی۔کہا جاتا ہے کہ اس رات سینکڑوں سانپ مارے گئے۔ اور برفانی لومڑیاں جو مارخور کے مرنے کے انتظار میں رالیں ٹپکا رہی تھیں پھر سے بھوکی رہ گئیں۔سنا ہے کہ آج بھی اس علاقے میں سانپ ان مرنے والے سانپوں کی یادمیں موم بتیاں جلاتے ہیں اور لومڑیاں دوسری تمام مخلوقات میں خوب بن ٹھن بال کٹا کر جاتی ہیں اور مارخور کے خلاف باتیں کرتی ہیں اور اس رات والے واقعے کو مارخور کی حیوانیت، ظلم اور درندگی بتاتی ہیں۔کچھ انکا یقین کر لیتے ہیں اور کچھ انہیں مار کر بھگا دیتے ہیں۔لیکن سانپ آج بھی جب اپنے گھروں سے نکلتے ہیں تو وصیت کر کے نکلتے ہیں کہ”اگر مجھے کچھ ہوا تو اسکا ذمےدار صرف اور صرف مارخور ہوگا”ﻣﺎﺭﺧﻮﺭ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﮐﺎ ﻗﻮﻣﯽ ﺟﺎﻧﻮﺭ ﮨﮯ ﺍٓﺋﯽ ﺍﯾﺲ ﺍٓﺋﯽ ﮐﺎ ﺳﺮﮐﺎﺭﯼ ﻧﺸﺎﻥ ﻣﺎﺭﺧﻮﺭ ﺭﮐﮭﻨﮯ ﮐﯽ ﺩﻭ ﺑﮍﯼ ﻭﺟﻮﮨﺎﺕ ہوسکتی ﮨﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺗﻮ ﯾﮧ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﮐﺎﻗﻮﻣﯽ ﺟﺎﻧﻮﺭﮨﮯ ﺩﻭﺳﺮﺍ ﺍٓﺋﯽ ﺍﯾﺲ ﺍٓﺋﯽ ﮐﺎ ﮐﺎﻡ ﮨﯽ ﯾﮩﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻧﯿﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﮭﯿﺲ ﻣﯿﮟ ﭼﮭﭙﮯ ﺳﺎﻧﭗ ﭘﮑﮍﻧﺎ ﯾﮧ ﺳﺎﻧﭗ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﻠﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﭼﮭﭙﮯ ﺭﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮑﮯ ﺑﻠﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﮑﮯ ﺭﻭﺍﺑﻂ ﮐﺌﯽ ﻏﯿﺮﻣﻠﮑﯽ ﺯﮨﺮﯾﻠﮯ ﻧﺎﮔﻮﮞ ﺳﮯ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﻨﮑﯽ ﯾﮧ ﭘﻮﺟﺎ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟﺍﯾﺴﮯ ﺗﻤﺎﻡ ﺳﺎﻧﭙﻮﮞ ﮐﮯ ﺩﻝ ﺩﮨﻞ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﺐ ﯾﮧ ﻣﺎﺭﺧﻮﺭ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﺳﯽ ﻟﺌﮯ ﯾﮧ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﮔﺮ ﮨﻤﯿﮟ ﮐﭽھ ﮨﻮﺍ ﺗﻮ ﺍﺳﮑﺎ ﺫﻣﮧ ﺩﺍﺭ ﻣﺎﺭﺧﻮﺭ ﯾﻌﻨﯽ ﺍٓﺋﯽ ﺍﯾﺲ ﺍٓﺋﯽ ﮨﻮﮔﯽ۔یہ ایک عظیم اور دنیا کی سب سے بہترین ایجنسی کا نشان ہے اور اس کے پیچھے راز شاید یہ ہی ہیں کہ پاکستان کا قومی جانور اور اپنے ملک کے پیچھے لگے بھیڑیوں کو بے نقاب کرنے والی تنظیم ہے

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎