بہترین زندگی کے راز, نفسیاتی مسائل کا حل , اپنی صحت بہتربنائیں, اسلام اورہم, ترقی کےراز, عملی زندگی کےمسائل اورحل, تاریخ سےسیکھیئے, سماجی وخاندانی مسائل, ازدواجی زندگی بہتربنائیں , گھریلومسائل, روزمرہ زندگی کےمسائل, گھریلوٹوٹکے اسلامی واقعات, کریئر, کونساپیشہ منتخب کریں, نوجوانوں کے مسائل , بچوں کی اچھی تربیت, بچوں کے مسائل , معلومات میں اضافہ , ہمارا پاکستان, سیاسی سمجھ بوجھ, کالم , طنز و مزاح, دلچسپ سائینسی معلومات, کاروبار کیسے کریں ملازمت میں ترقی کریں, غذا سے علاج, زندگی کےمسائل کا حل قرآن سے, بہترین اردو ادب, سیاحت و تفریح, ستاروں کی چال , خواتین کے لیے , مرد حضرات کے لیے, بچوں کی کہانیاں, آپ بیتی , فلمی دنیا, کھیل ہی کھیل , ہمارا معاشرہ اور اس کی اصلاح, سماجی معلومات, حیرت انگیز , مزاحیہ

وہ سنت نبوی ؐ جو انسانی ذہن کو انتہائی تیز بنا دیتی ہے، سائنسدان بھی حیران رہ گئے

  جمعرات‬‮ 14 جون‬‮ 2018  |  12:09

دوپہر کو کچھ دیر کے لیے سونا یا قیلولہ کرنا آپ کی ذہنی صلاحیتوں کو ایک بار پھر بہتر بنانے میں مدد دیتا ہے۔یہ بات برطانیہ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔لیڈز یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق دوپہر کا وقت ایسا ہوتا ہے جب لوگوں کے لیے اپنے دفتری کام پر توجہ مرکوز کرنا مشکل ہوتا ہے جبکہ تخلیقی سوچ بھی زوال کا شکار ہورہی ہوتی ہے۔تو اس کا علاج دوپہر کو کچھ دیر کی نیند میں چھپا ہے۔تحقیق میں بتایا گیا کہ 20 منٹ کا قیلولہ لوگوں کی مسائل حل کرنے کی صلاحیتوں کو بڑھاتا ہے۔واضح

بڑھاتا ہے۔واضح رہے کہ قیلولہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سنت ہے جسے اب سائنس بھی تسلیم کررہی ہے۔تحقیق میں بتایا گیا کہ دوپہر کو کچھ دیر کی نیند ذیابیطس، امراض قلب اور ڈپریشن جیسی بیماریوں کا خطرہ

 بیماریوں کا خطرہ بھی کم کرتی ہے خاص طور پر اگر آپ رات کو نیند پوری نہیں کرتے۔تحقیق کے مطابق اگر آپ بھی رات کو چھ سے سات گھنٹے کی نیند نہیں لے پاتے تو دوپہر کو بیس منٹ تک کی نیند کارکردگی میں نمایاں مثبت فرق کا باعث بن سکتی ہے۔محققین کا کہنا تھا کہ دوپہر دو سے چار بجے کے دوران صرف بیس منٹ تک سونا ہی واضح فرق کا باعث بنتا ہے۔تاہم دوپہر کو کچھ دیر تک سونا ہی صحت کے لیے اچھا ہوتا ہے مگر اس دورانیہ طویل ہونا دل کے مسائل اور ذیابیطس جیسے امراض کا باعث بن سکتا ہے۔یہ انتباہ کچھ عرصے قبل امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا۔مشی گن یونیورسٹی کی تحقیق کے دوران 3 لاکھ سے زائد افراد کا جائزہ لے کر یہ نتیجہ نکالا گیا جو افراد دن میں ایک گھنٹے سے زیادہ دوپہر کی نیند لینے کے عادی ہوتے ہیں ان میں تھکاوٹ کا احساس بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے جس کے باعث ذیابیطس کا خطرہ 50 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎