بہترین زندگی کے راز, نفسیاتی مسائل کا حل , اپنی صحت بہتربنائیں, اسلام اورہم, ترقی کےراز, عملی زندگی کےمسائل اورحل, تاریخ سےسیکھیئے, سماجی وخاندانی مسائل, ازدواجی زندگی بہتربنائیں , گھریلومسائل, روزمرہ زندگی کےمسائل, گھریلوٹوٹکے اسلامی واقعات, کریئر, کونساپیشہ منتخب کریں, نوجوانوں کے مسائل , بچوں کی اچھی تربیت, بچوں کے مسائل , معلومات میں اضافہ , ہمارا پاکستان, سیاسی سمجھ بوجھ, کالم , طنز و مزاح, دلچسپ سائینسی معلومات, کاروبار کیسے کریں ملازمت میں ترقی کریں, غذا سے علاج, زندگی کےمسائل کا حل قرآن سے, بہترین اردو ادب, سیاحت و تفریح, ستاروں کی چال , خواتین کے لیے , مرد حضرات کے لیے, بچوں کی کہانیاں, آپ بیتی , فلمی دنیا, کھیل ہی کھیل , ہمارا معاشرہ اور اس کی اصلاح, سماجی معلومات, حیرت انگیز , مزاحیہ


خود اذیتی ایک خوفناک مرض مگر اس کا علاج کیا؟ جانیے

  بدھ‬‮ 20 جون‬‮ 2018  |  18:22

خود اذیتی ایک خوفناک مرض مگر اس کا علاج کیا؟ جانیے اپنے ہاتھ کاٹنا یا پھر کسی اور طریقے سے خود کو نقصان پہنچانا یہ سب نفسیاتی و طبی بیماریاں ہیں جو تب ظاہر ہوتی ہیں جب مریض خود کو اذیت سے گزارتے ہیں، جب وہ گہرے جذبات اور پریشانیوں سے نمٹنے کے لیے ایسا کرتے ہیں۔ایسے جان بوجھ کر خود کو اذیت دینے کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے اور اس مرض کی مجموعی تعداد کو جاننا بھی خاصا پیچیدہ ہو چکا ہے۔ مناسب اور مستعد علاج سنگین نتائج سے بچاؤ کا بہترین ذریعہ ہے۔ اپنے آپ کو کاٹنے

کے عمل کے پیچھے کچھ محرکات پوشیدہ ہوتے ہیں۔ ایسے افراد جو اس قسم کا برتاؤ کرتے ہیں کئی بار ایسا کر کے خود کو بہتر محسوس کرتے ہیں۔ اکثر اوقات خود کو کاٹنا ہی وہ واحد عمل ہوتا ہے جو وہ جانتے ہیں تاکہ اپنے اندر موجود ذہنی دباؤ، غصہ، احساس جرم، خالی پن اوراپنے آپ سے نفرت کرنے جیسے منفی جذبات سے نمٹ سکیں۔ اکثر لوگ جو خود کو زخم لگا کر اذیت دیتے ہیں انہیں اپنے رکے ہوئے جذبات کو کم کرنے میں مدد ملتی ہے اور اس سے انہیں سکون ملتا ہے۔کسی لت کی طرح ان لوگو ں کے اعمال ان کے مکمل قابو میں نہیں ہوتے۔ ایسے لوگ کسی شدید قسم کے آرام کی تلاش میں ہوتے ہیں جو کہ انہیں اپنے جسم میں زخم لگانے سے ملتا ہے۔ ایسا کرنے والا سمجھتا ہے کہ یہ عمل مثبت فوائد پہنچائے گا۔ اپنے آپ کو زخم دینے سے یہ اپنی توجہ زندگی کے دیگر مشکل مرحلوں سے ہٹا سکتے ہیں۔ اس سے انہیں ان کے اندر موجود احساس جرم سے نجات حاصل کرنے میں مدد ملتی ہے۔یہ جاننا ضروری ہے کہ لوگ خود کو زخمی کیوں کرتے ہیں کیوں کہ ایک دفعہ آپ اس بات کی وجہ جان جائیں تو آپ اس کا تدارک کرنے میں مدد فراہم کر سکتے ہیں۔ ایسا کرنے سے مریض اس بات کی طرف مائل ہوتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو زخمی کرنا چھوڑ دے اور دوسرے محفوظ طریقوں کا استعمال کرے جس سے وہ اپنے منفی جذبات سے نمٹ سکے۔ خود کو زخمی کرنا یا کاٹنا ایک خطرناک رویہ ہے۔ ہر مریض خود کو مختلف وجوہات کی وجہ سے زخمی کرتا ہے، تاہم ایسے میں ان کے درمیان کچھ مشترک عناصر کو بھی دیکھا گیا ہے۔ مثلاً والدین کے بے جا دباؤ کا سامنا کرنے والا ہر فرد ایسا عمل نہیں کرتا لیکن بہت سے لوگ ایسا کرتے ہیں۔ معالج کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان عوامل کا پتا چلائے جو اس صورت حال کے ذمہ دار ہیں۔ ایک بار تشخیص ہو جائے تو معالج یا ماہر کاٹنے کی بیماری کی شدت کو ماپنے ہیں۔ وہ ایک لڑی میں انٹرویو لیتے ہیں اور گفتگو کرتے ہیں۔ ان کا مقصد بیماری کی وجہ اور حد تلاش کرنا اور علاج کی نشاندہی کرنا ہوتا ہے۔ یہ گفتگو مریض یا اس سے وابستہ لوگوں سے ہو سکتی ہے۔وہ یہ سوال پوچھ سکتے ہیں کہ مریض نے کاٹنا کب شروع کیا، اس میں کتنی شدت تھی یا اب ہے،کون سے محرکات کاٹنے کے عمل کی جانب لے گئے۔ یہ سوال بھی پوچھا جا سکتا ہے کہ کیا مریض کو کبھی خود کشی کرنے کا خیال آیا۔ معالج یا ماہر سابق ذہنی بیماریوں کے بارے میں بھی پوچھ سکتے ہیں اور یہ بھی کہ اس کے بعد کس قسم کا علاج مریض کو میسر آیا۔ مریض کے مستقبل کے ارادے اور اس کے سماجی تعلقات کے بارے میں پوچھا جا سکتا ہے۔ یہ تمام سوال معالج کو بیماری کی شدت اور علاج کا بہترین طریقہ معین کرنے میں مدد کرتے ہیں۔کچھ معتدل مریضوںکو یہ مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ ایک ایسے گروپ کا حصہ بنیں جو انہیں ان کی جذباتی کشیدگی سے نمٹنے میں مدد کرے گا۔ اس گروپ میں مریض اپنے جذبات کا اظہار اپنے جیسوں کے سامنے کرتے ہیں اور اپنے مسائل پر بحث کرتے ہیں۔ گروپ میں ماہرین ان کی نگرانی و رہنمائی کرتے رہتے ہیں۔ زیادہ شدید معاملوں میں تھراپی کے ساتھ ساتھ ادویات کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ طویل مدت کے لیے خود کو کاٹنے کا عمل جذباتی بحران کے خاتمے میں مدد نہیں کرتا، اور اکثر اوقات مختلف انواع کی پیچیدگیوں کی طرف لے جاتا ہے۔کچھ پیچیدگیاں نسبتاً معمولی ہوتی ہیں۔ بدقسمتی سے کچھ ایسی پیچیدگیاں ایسی ہوتی ہیں جن کے اثرات طویل المدت ہوتے ہیں اور ان سے نجات آسان نہیں ہوتی۔خود کو کاٹنے کا عمل دراصل ایک فرد کے شرم یا پھر احساس کمتری کے جذبات کو بھڑکاتا ہے۔کاٹنے کا عمل عارضی طور پر منفی جذبات کے خاتمے کا باعث بنتا ہے مگر یہ طویل مدتی جذباتی مسائل کے خاتمے کا باعث نہیں بنتا۔ کاٹنے کے عمل سے انفیکشن ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ چاہے وہ زخم خود سے لگایا جائے یا پھر کاٹنے کے اوزاروں کے ذریعے۔کچھ تراشندہ حفظان صحت کا خیال نہیں رکھتے اور جس سے وہ معتدی امراض کا شکار ہو جاتے ہیں جو کہ آلودہ کاٹنے کے اوزاروں کو استعمال میں لانے سے ہوتا ہے۔ بعض لوگ حفظان صحت کا خیال نہ رکھنے کی وجہ سے خطرناک امراض کا شکار ہوئے اور موت کے گھاٹ اتر گئے۔ اگر اہم شریان یا پھر رگ کٹ جائے تو اس بات کا رسک بڑھ جاتا ہے کہ مریض مسلسل خون بہنے کی وجہ سے مر جائے۔ اگر خون مسلسل بہہ رہا ہو تو انیمیا کا مرض بھی لاحق ہو سکتا ہے، جسے خون کی کمی کا مرض کہا جاتا ہے۔خود کشی کا خطرہ ( چاہے وہ حادثاتی طور پر ہو یا پھرارادتاً ہو) ان لوگوں میں بڑھ جاتا ہے جو کہ خود کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ حادثاتی خودکشی میں مریض غیر ارادی طور پر اپنی اہم رگ یا شریان کاٹ بیٹھتا ہے۔ معاملات اور بھی بدتر ہوتے ہیں جب یہ مریض خود کو نشے کے زیر اثر آ کر کاٹ ڈالتے ہیں۔ ایک بار اس بات کا تعین کرنے میں کامیاب ہو گئے کہ آپ کا پیارا خود کو زخم دیتا ہے، تو آپ یقینی طور پر اس کی مدد کرنا چاہیں گے۔ صحت کی دیکھ بھال کرنے والے پیشہ ور ہمیشہ تیار رہتے ہیں کہ وہ اس بیماری کا علاج کر سکیں۔مگر آپ کے لیے اپنے عزیز کو علاج کے لیے منانا کافی مشکل ثابت ہو سکتا ہے۔ اگر آپ بغیر تیاری کے اپنے عزیز کے سامنے جائیں گے تو وہ آپ سے غصہ اور انکاری انداز میں اپنا ردعمل ظاہر کرے گا۔ اس کے لیے آپ کو مکمل منصوبہ بندی کرنا ہو گی۔

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎