بہترین زندگی کے راز, نفسیاتی مسائل کا حل , اپنی صحت بہتربنائیں, اسلام اورہم, ترقی کےراز, عملی زندگی کےمسائل اورحل, تاریخ سےسیکھیئے, سماجی وخاندانی مسائل, ازدواجی زندگی بہتربنائیں , گھریلومسائل, روزمرہ زندگی کےمسائل, گھریلوٹوٹکے اسلامی واقعات, کریئر, کونساپیشہ منتخب کریں, نوجوانوں کے مسائل , بچوں کی اچھی تربیت, بچوں کے مسائل , معلومات میں اضافہ , ہمارا پاکستان, سیاسی سمجھ بوجھ, کالم , طنز و مزاح, دلچسپ سائینسی معلومات, کاروبار کیسے کریں ملازمت میں ترقی کریں, غذا سے علاج, زندگی کےمسائل کا حل قرآن سے, بہترین اردو ادب, سیاحت و تفریح, ستاروں کی چال , خواتین کے لیے , مرد حضرات کے لیے, بچوں کی کہانیاں, آپ بیتی , فلمی دنیا, کھیل ہی کھیل , ہمارا معاشرہ اور اس کی اصلاح, سماجی معلومات, حیرت انگیز , مزاحیہ

پھیکے کی ایک کہانی 

  پیر‬‮ 2 جولائی‬‮ 2018  |  13:44

میں نے رب کو دیکھا تھا صاحب جی۔۔۔! سچ مچ میں نے رب کو دیکھا تھا۔۔۔! اپنی ان گنہگار آنکھوں سے صاحب جی۔۔۔! وہ حساب کتاب کرنے آیا تھا۔۔۔! پھیکا صبح صبح ہی ملنے آ گیا تھا اور آج یہ کیسی باتیں کر رہا تھا۔۔۔! صاحب جی کل کام سے کار آرہا تھا اسٹیشن پر پہنچا گاڑی ایک گھنٹہ لیٹ تھی میں وہیں بینچ پر بیٹھ کر انتظار کرنے لگا۔۔۔ وہاں ایک سترہ اٹھارا سال کی لڑکی بھیک مانگ رہی تھی۔۔۔! شکل صورت سےکسی طرح بھی بھیک مانگنے والی نہیں دکھتی تھی۔۔۔! جانے کیا مجبوری ُاسے سڑک پر لے آئی

صاف محسوس ہوتا تھا کہ وہ پہلی بار گھر سے نکلی ہے ۔۔۔اُس کے چہرے پر بہت بے بسی تھی صاحب جی۔۔۔! اتنے میں ایک آدمی۔۔۔! ایک میرے اور آپ جیسے آدمی نے صاحب جی۔۔۔! اس کو چند روۓ پکڑاۓ اور پکڑاتے ہوئے اس کے ہاتھ کو چھو لیا۔۔۔! صاحب جی میں وہاں بیٹھا دیکھتا رہا۔۔۔! میرے سامنے کئی مرد آۓ اور اسی قسم کی حرکتیں کرتے رہے۔۔۔! آوازیں کستے اور اس کے جسم کو مختلف طریقوں سے چھوتے یا چھونے کی کوشش کرتے۔۔۔! وہ بیچاری چادر میں چھُپنے کی کوشش کرتی۔۔۔! صاحب جی چادر کا بس نہیں چلتا تھا کہ چاردیواری بَن جاتی۔۔۔! میں نے چادر کے بَین سُنے صاحب جی۔۔۔! میں نے چادر کو چیخیں مار مار کر لڑکی کے ساتھ روتے دیکھا۔۔۔! ایک شخص نے تو حد ہی کر دی۔۔۔! صاحب جی لڑکی کے جسم کے ان حصوں کو چھوا جو اس کے عورت ہونے کی دلیل تھے۔۔۔! جو اس کی مامتا کی نشانی تھے۔۔۔! کیا عورت کے مقدس حصے جن سے وہ خونِ جگر پلا کر قوم کی نسلوں کی آبیاری کرتی ہے کیا اُن کی اِس سے زیادہ تذلیل ممکن ہو سکتی ہے۔۔۔؟؟؟ میرے سامنے میری گُڈی کھڑی تھی صاحب جی۔۔۔! ہاۓ صاحب ج۔۔۔! ہائے صاحب جی۔۔۔!پھیکا بہت رو رہا تھا۔۔۔! اس کا رُواں رُواں آہ و فُغاں کر رہا تھا اس قدر بے چین میں نے ُاسے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔۔۔! اور میں صاحب جی یوں شرمندگی سے اُس کی بات سن رہا تھا جیسے یہ سب کرنے والا میں تھا۔۔۔!میں نے حادثے ہوتے دیکھے بھی تھے صاحب جی سنے بھی۔۔۔! پر ایسا حادثہ پہلے کبھی نہیں دیکھا۔۔۔! اتنا خون کبھی نہیں دیکھا صاحب جی جو ُاس لڑکی کی آنکھوں سے آنسو بن کر بہہ رہا تھا۔۔۔! سارے ٹیشن پر خون ہی خون تھا۔۔۔! صاحب جی امّاں اُن دنوں کے قصے سُنایا کرتی تھی۔۔۔! جب پاکستان بنا۔۔۔! کس طرح لوگوں کے کار جلے کس طرح عزتیں لوٹی گئیں۔۔۔! بہت روتی تھی امّاں اپنی پکّی سہیلی کو یاد کر کے۔۔۔! ظالم گِدھوں نے بری طرح اس کو نوچا اور اس کے مرنے کے بعد تک بھی نوچتے رہے۔۔۔! امّاں کی بتائی ساری کہانی ٹیشن پر فلم کی طرح چلنے لگی میرا سارا وجود اکھاں بن گیاتھا صاحب جی امّاں کی اکھیاں۔۔۔!صاحب جی سارا ٹیشن اس منظر سے بھر گیا چیخیں تھیں طوفان تھا لاشیں تھیں۔۔۔! صاحب جی اتنے گھاؤ تھے میرے جسم پر کہ پنڈا نیلو نیل خون و خون ہوگیا۔۔۔!پھیکا روتا جاتا اور کہتا جاتا۔۔۔! میں اور بخشو ُاس کے لفظوں کی اُنگلیاں تھامے ُاس کے ساتھ ان لمحوں میں چلے جا رہے تھے گویا مر رہے تھے جاں بلب تھے۔۔۔! وقت کے نیزے کی انّی پر جسم اور روح کو دھرے ہم سب پھیکے کے ساتھ وطن کی خاطر جسم اور جاں پر لگے گھاؤ کھانے والوں کو دیکھ کر رو رہے تھے۔۔۔! پھیکا بولتا جا رہا تھا۔۔۔!صاحب جی میں چھوٹا سا تھا اِک واری جب میں نے کیلا کھا کر چھلکا سڑک پر پھینک دیا تو امّاں نے مجھے بہت ڈانٹا۔۔۔! چھلکا اُٹھا کر پلُّو میں باندھ لیا اور پھر رو پڑی۔۔۔! کہتی تھی پُتّر وطن کو گندہ مت کرنا بڑی قربانیاں دی ہیں ہم نے اس کی خاطر۔۔۔! صاحب جی مجھے امّاں کی باتیں کبھی سمجھ میں نہیں آتی تھیں۔۔۔! اب اُس کے جانے کے بعد اُس کی ہر بات سمجھ آنے لگی ہے۔۔۔! صاحب جی امّاں کی اکھوں میں چھپا وہ درد اچانک میرے دل میں بھر گیا۔۔۔! امّاں ، وطن ، لڑکی ، درد اور ہوَس کے رنگوں سے مل کر ایک بہت بھیانک تصویر بنی تھی۔۔۔! ایک لمحے میں وہ تصویر ہر گلی محلے میں لٹکی نظر آنے لگی۔۔۔! میرا وطن گندہ ہو رہا تھا صاحب جی۔۔۔! اور درد تیز سے تیزتر۔۔۔! میرے دل کی رگیں تنگ ہو کر بند ہو نے لگیں تھیں۔۔۔! صاحب جی وہ لڑکی وہیں موجود تھی۔۔۔! اُس کے ہاتھ میں روٹی کا ایک ٹُکڑا تھا اور وہ بُری طرح رو رہی تھی۔۔۔! میں نے ُپکارا بیٹی۔۔۔! اس نے چونک کر عجیب نظروں سے میری طرف دیکھا اُس کے چہرے پر بہت بے یقینی تھی ۔۔۔میں نے اُس کی آنکھوں میں رَبّ کو دیکھا اُس کی آنکھوں میں رب بیٹھا تھا صاحب جی۔۔۔! وہ میرا حساب لینے آیا تھا جیتے جی حساب کتاب شروع ہو گیا تھا ۔۔۔! لڑکی روتے روتے کہنے لگی “بیٹی کو تو کب کی بُھوک کھا گئی” ُاس لڑکی کی آنکھوں میں یقین کا سورج غروب ہو رہا تھا۔۔۔! اور صاحب جی میں سورج ڈوبنے سے پہلے ُاسے اپنے ساتھ گھر لے آیا۔۔۔! میں سمجھوں گا رب نے دو تیاں دی تھیں جی۔۔۔!میں نے پھیکے کو گلے سے لگا لیا۔۔۔! آج پھر سے پاکستان بنا تھا۔۔۔! لُٹ لٹا کر قافلہ وطن پہنچا ۔۔۔اُسی شام کو بخشو نے اپنے بیٹے کے لیئے بہت عزت سے ُاس بچی کا ہاتھ مانگ لیا۔۔۔ آج پھیکے کی بیٹی کا نکاح ہے۔۔۔! پھیکے نے سارا گند اپنے پلُّو میں باندھ لیا تھا۔۔۔! اس نے وطن کو گندہ ہونے سے بچا لیا۔۔۔!

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎