بہترین زندگی کے راز, نفسیاتی مسائل کا حل , اپنی صحت بہتربنائیں, اسلام اورہم, ترقی کےراز, عملی زندگی کےمسائل اورحل, تاریخ سےسیکھیئے, سماجی وخاندانی مسائل, ازدواجی زندگی بہتربنائیں , گھریلومسائل, روزمرہ زندگی کےمسائل, گھریلوٹوٹکے اسلامی واقعات, کریئر, کونساپیشہ منتخب کریں, نوجوانوں کے مسائل , بچوں کی اچھی تربیت, بچوں کے مسائل , معلومات میں اضافہ , ہمارا پاکستان, سیاسی سمجھ بوجھ, کالم , طنز و مزاح, دلچسپ سائینسی معلومات, کاروبار کیسے کریں ملازمت میں ترقی کریں, غذا سے علاج, زندگی کےمسائل کا حل قرآن سے, بہترین اردو ادب, سیاحت و تفریح, ستاروں کی چال , خواتین کے لیے , مرد حضرات کے لیے, بچوں کی کہانیاں, آپ بیتی , فلمی دنیا, کھیل ہی کھیل , ہمارا معاشرہ اور اس کی اصلاح, سماجی معلومات, حیرت انگیز , مزاحیہ

مجمع باز اور علامہ اقبال

  جمعرات‬‮ 5 جولائی‬‮ 2018  |  14:14

جالندھر کے رینک بازار میں میرے تایا مرحوم کی دوکان تھی۔ اس کے ساتھ والہ پلاٹ خالی تھا۔ ایک دن کوئ دس گیارہ بجے  صبح وہاں ایک مجمع باز اپنی پروڈکٹ سیل کرنے کے لۓ مجمع سے مخاطب تھا۔ اتفاق کہ لیجۓ جب وہ علامہ کا ایک مشہور شعر بلند آواز میں خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے کہ رہا تھا تو ایک شخص جو وہاں سے گزر رہا تھا اچانک رک گیا۔ اس نے مجمع باز سے کہا کہ یہ شعر میں نے اس لۓ

کہ تم اسے مجمع اکٹھا کرنے کے لۓ پڑھو۔ وہاں مجمع میں ایک صاحب فراست شخص بھی موجود تھا جو یہ جانتا تھا کہ یہ شعر علامہ اقبال کا ہے۔ اس نے سوچا کہ یہ شخص اس شعر کو اپنا شعر کہ رہا ہے کہیں یہ  شخص خود علامہ اقبال تو نہیں ۔ وہ آگے بڑھا اور اس شخص سے سوال کیا۔ کیا آپ علامہ اقبال ہیں ۔ جواب میں علامہ صاحب نے ہاں کہا تو اس نے ہاتھ ملایا اور ایک پیالی چاۓ اپنے ساتھ پینے کی درخواست کی۔ وہ انہیں  اپنی دوکان پر  جو ساتھ ہی تھی لے گیا۔ بات پھیل گئ کہ علامہ صاحب خود فلاں دوکان پر موجود ہیں ۔ لوگ اکٹھا ہونا شروع ہو گۓ ۔ان میں موجود ایک شخص نے سوال کیا کہ حضرت  جب آپ نے یہ شعر کہا تو آپ کے دل میں کیا تھا علامہ صاحب نے فرمایا کہ جب میں نے یہ شعر کہا تو میرے ذہن میں نبی ﷺ جو صاحب فراش تھے اور بیبی فاطمہ رضی اللہ عنہا آپ کے پاس سرہانے کی طرف موجود تھیں تو دروازہ پر دستک کی آواز سن کر نبی صلعم نے بیٹی سے مخاطب ہو کر کہا کہ دیکھو کون ہے۔ آپ نے باہر آ کر پوچھا کہ کون ہے۔ جواب ملا کہ میں عزرائیل ہوں۔ پوچھا کیوں آۓ ہو تو جواب ملا کہ مجھےنبی صلعم کی جان قبض کر نے کا حکم ملا ہے۔ اس کی تعمیل کرنے آیا ہوں ۔ آپ نے انتہائ غصہ کے عالم میں کہا کہ واپس جاؤ۔ مجھ سے میرے بابا کو جدا کرنے  آۓ ہو۔ عزرائیل  آگے بڑھنے کی جرآت نہ کر سکا ۔رب کریم کے حضور جواب دہی ہوئ کہ جس کام کے لۓ بھیجا گیا تعمیل کی۔ عزرائیل سر نیہوڑاۓ با ادب کھڑا تھا۔ تمام واقعہ کہ سنایا۔ اور کہا کہ بیبی فاطمہ نے دروازہ نہیں کھولا۔ اور الٹا غصے کا بھی اظہار کیا ہے۔ حکم ملا کہ دوبارہ جاؤ۔ مگر اس مرتبہ بھی بیبی فاطمہ نے مزید برہمی کا مظاہرہ کیا اور دوبارہ واپس نہ آنے کا حکم دیا۔رب عالمین نے پھر حکم دیا دوبارہ جاؤ اور دروازہ کھلنے کا انتظار کرو۔ جب دستک ہوئ تو بیبی فاطمہ باہر جانے لگیں تو آپ صلعم نے بیٹی کو واپس بلایا اور دروازہ کھولنے کا کہا۔آپ رو پڑھیں۔آپ نے نہایت شفقت سے بیٹی کو رضاۓ الہی پر راضی برضا ہونے کا کہا۔ بیبی فاطمہ رضی اللہ عنہا نے دروازہ کھول دیا۔ تمام لوگ وہاں موجود اشک بار تھے۔ یوں علامہ صاحب نے اپنے اس شعر کی تشریح بیان فر مائ۔ مگر کیا کریں زمانہ کا لوگ اب بھی اکثر اپنی تقریر کو سجانے کیلۓ یہ شعر پڑھتے ہیں اور داد بھی حاصل کرتے ہیں۔ ۔

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎