بہترین زندگی کے راز, نفسیاتی مسائل کا حل , اپنی صحت بہتربنائیں, اسلام اورہم, ترقی کےراز, عملی زندگی کےمسائل اورحل, تاریخ سےسیکھیئے, سماجی وخاندانی مسائل, ازدواجی زندگی بہتربنائیں , گھریلومسائل, روزمرہ زندگی کےمسائل, گھریلوٹوٹکے اسلامی واقعات, کریئر, کونساپیشہ منتخب کریں, نوجوانوں کے مسائل , بچوں کی اچھی تربیت, بچوں کے مسائل , معلومات میں اضافہ , ہمارا پاکستان, سیاسی سمجھ بوجھ, کالم , طنز و مزاح, دلچسپ سائینسی معلومات, کاروبار کیسے کریں ملازمت میں ترقی کریں, غذا سے علاج, زندگی کےمسائل کا حل قرآن سے, بہترین اردو ادب, سیاحت و تفریح, ستاروں کی چال , خواتین کے لیے , مرد حضرات کے لیے, بچوں کی کہانیاں, آپ بیتی , فلمی دنیا, کھیل ہی کھیل , ہمارا معاشرہ اور اس کی اصلاح, سماجی معلومات, حیرت انگیز , مزاحیہ

ایک دن شہنشاہ اکبر نے اپنے درباریوں کے سامنے ایک سوال پیش کیا جو کہ سوال یہ تھا کہ : ’’وہ کونسی چیز ہے جس پر چاند اور سورج

  جمعرات‬‮ 5 جولائی‬‮ 2018  |  17:08

ایک دن شہنشاہ اکبر نے اپنے درباریوں کے سامنے ایک سوال پیش کیا جو کہ سوال یہ تھا کہ : ’’کون سے دریا کا پانی سب سے بہترین ہے ؟‘‘تمام درباریوں نے یک زبان ہو کر کہا کہ : ’’عالی جاہ! دریائے گنگا کا پانی سب سے بہترین ہے ۔‘‘ مگر بیریل خاموش تھا ۔ شنہشاہ نے دیکھا اور اس سے دریافت کیا کہ : ’’بیربل ! تم کیوں خاموش ہو؟‘‘ بیربل نے جواب دیا کہ : مہاراج ! ’’دریائے جمنا کا پانی سب سے بہترین ہے ۔ ‘‘ شہنشاہ بڑا حیران تھا بیربل کا جواب سن کر اور اس

کہا کہ : ’’بیربل ! تہمارے پاس اس کا کیا ثبوت ہے ؟‘۔ ‘ تمہاری مقدس کتاب نے دریاگنگا کے پانی کو بہترین قرار دیا ہے خالص اور پاک اور پھر بھی تم جمنا کے پانی کو بہترین تصور کرتے ہو۔ بیربل نے کہا کہ :مہاراج !’’ہم کس طرح پانی اور آب حیات کا مقابلہ کر سکتے ہیں ؟‘‘ اور آپ جو دریائے گنگا میں بہتے ہوئے پانی کو دیکھتے ہیں ۔ پانی نہیں ہے آب حیات ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ میں نے کہا کہ : دریائے جمنا کا پانی بہترین ہے ۔‘‘ تمام درباری خاموش بیٹھے تھے اور صرف شہنشاہ ہی تھا جو بیربل کے ساتھ صحیح ہونے پر متفق تھا ۔دربارہ ایک دن شہنشاہ نے ایک دوسرا سوال درباریوں کو پیش کیا جو کہ یہ تھا کہ : ’’وہ کونسی چیز ہے جس پر چاند اور سورج کی روشنی نہیں پڑتی ؟‘‘ کسی بھی درباری کے پاس سوال کا جواب نہ تھا ۔ شہنشاہ اکبر نے یہی سوال بیربل کےہاں بھی پیش کیا ۔ بیربل نے تھوڑی دیر سوچا اور بعدازاں اس نے کہا کہ : ’’مہاراج ! صرف ایک چیز ہے جس پر چاند اور سورج کی روشنی نہیں پڑتی ۔‘‘ شہنشاہ تجس سے دریافت کہ :۔ ’’وہ کونسی ؟‘‘ بیربل نے کہا کہ :۔ ’’اندھیرا‘‘ ’’یہی ایک چیز ہے جس کو نہ چاند اور نہ سورج کی روشنی ملتی ہے ‘‘ ہر ایک نے بیربل کے دانا جواب کی بہت تعریف کی ۔

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎