بہترین زندگی کے راز, نفسیاتی مسائل کا حل , اپنی صحت بہتربنائیں, اسلام اورہم, ترقی کےراز, عملی زندگی کےمسائل اورحل, تاریخ سےسیکھیئے, سماجی وخاندانی مسائل, ازدواجی زندگی بہتربنائیں , گھریلومسائل, روزمرہ زندگی کےمسائل, گھریلوٹوٹکے اسلامی واقعات, کریئر, کونساپیشہ منتخب کریں, نوجوانوں کے مسائل , بچوں کی اچھی تربیت, بچوں کے مسائل , معلومات میں اضافہ , ہمارا پاکستان, سیاسی سمجھ بوجھ, کالم , طنز و مزاح, دلچسپ سائینسی معلومات, کاروبار کیسے کریں ملازمت میں ترقی کریں, غذا سے علاج, زندگی کےمسائل کا حل قرآن سے, بہترین اردو ادب, سیاحت و تفریح, ستاروں کی چال , خواتین کے لیے , مرد حضرات کے لیے, بچوں کی کہانیاں, آپ بیتی , فلمی دنیا, کھیل ہی کھیل , ہمارا معاشرہ اور اس کی اصلاح, سماجی معلومات, حیرت انگیز , مزاحیہ


‘‘احد احد احد’’ سیدنا بلال بن رباح الحبشی

  جمعہ‬‮ 6 جولائی‬‮ 2018  |  13:17

اعلان نبوت کے چند روز بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک رات مکہ کی ایک گلی سے گزر رہے تھے کہ انہیں ایک گھر میں سے کسی کے رونے کی آواز آئی آواز میں اتنا درد تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بے اختیار اس گھر میں داخل ہوگئے ۔دیکھا تو ایک نوجوان جو کہ حبشہ کا معلوم ہوتا ہے چکی پیس رہا ہے اور زارو قطار رو رہا ہےآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے رونے کی وجہ پوچھی تو اس نے بتایا کہ میں ایک غلام ہوں ۔ سارا دن اپنےمالک کی بکریاں چراتا

ہوں شام کو تھک کر جب گھر آتا ہوں تو،میرا مالک مجھے گندم کی ایک بوری پیسنے کے لیے دے دیتا ہے جس کو پیسنے میں ساری رات لگ جاتی ہے ۔ میں اپنی قسمت پر رو رہا ہوں کہ میری بھی کیا قسمت ہے میں بھی تو ایک گوشت پوست کا انسان ہوں ۔ میرا جسم بھی آرام مانگتا ہے مجھے بھی نیند ستاتی ہے لیکن میرے مالک کو مجھ پر ذرا بھی ترس نہیں آتا ۔کیا میرے مقدر میں ساری عمر اس طرح رو رو کے زندگی گزارنا لکھا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تمہارے مالک سے کہہ کر تمہاری مشقت تو کم نہیں کروا سکتا کیوں کہ وہ میری بات نہیں مانے گا،ہاں میں تمہاری تھوڑی مدد کرسکتا ہوں کہ تم سو جاؤ اور میں تمہاری جگہ پر چکی پیستا ہوں ۔ وہ غلام بہت خوش ہوا اور شکریہ ادا کرکے سو گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسکی جگہ چکی پیستے رہے،جب گندم ختم ہوگئی تو آپ اسے جگائے بغیر واپس تشریف لے آئے ۔دوسرے دن پھر آپ وہاں تشریف لے گئے اور اس غلام کو سلا کر اسکی جگہ چکی پیستے رہے ۔تیسرے دن بھی یہی ماجرا ہوا کہ آپ اس غلام کی جگہ ساری رات چکی پیستے اور صبح کو خاموشی سے اپنے گھر تشریف لے آتے،چوتھی رات جب آپ وہاں گئے تو اس غلام نے کہا، اے اللہ کے بندے آپ کون ہو اور میرا اتنا خیال کیوں کر رہے ہو ۔ہم غلاموں سے نہ کسی کو کوئی ڈر ہوتا ہے اور نہ کوئی فائدہ ۔ تو پھر آپ یہ سب کچھ کس لیے کر رہے ہو ؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں یہ سب انسانی ہمددری کے تحت کر رہا ہوں اس کے علاوہ مجھے تم سے کوئی غرض نہیں،اس غلام نے کہا کہ آپ کون ہو ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تمہیں علم ہے کہ مکہ میں ایک شخص نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے ۔اس غلام نے کہا ہاں میں نے سنا ہے کہ ایک شخص جس کا نام محمد ہے اپنے آپ کو اللہ کا نبی کہتا ہے،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں وہی محمد ہوں ۔یہ سن کر اس غلام نے کہا کہ اگر آپ ہی وہ نبی ہیں تو مجھے اپنا کلمہ پڑھائیے کیوں اتنا شفیق اور مہربان کوئی نبی ہی ہوسکتا ہے جو غلاموں کا بھی اس قدر خیال رکھے،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کلمہ پڑھا کر مسلمان کردیا،چمک اُٹھا جو ستارہ تیرے مقدر کاحبش سے تجھ کو اُتھا کر حجاز میں لایاسیدنا بلال ابن رباح (عربی: بلال بن رباح الحبشي) المعروف بلال حبشی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مشہور صحابی تھے۔ حبشی نسل کے غلام تھے۔اسلام کے پہلے مُوّذن تھے۔ اذاں ازل سے ترے عشق کا ترانہ بنی نماز اس کے نظارے کا اک بہانہ بنی کفار عرب نے حضرت بلال کے اسلام لانے کے وجہ سے بہت سے ظلم ڈھائے۔ سیدنا بلال حبشی امیہ بن خلف کے غلام تھے جو مسلمانوں کا سخت دشمن تھا وہ بلال حبشی رضی کو سخت گرمی میں دوپہر کے وقت تپتی ہوئی ریت پر سیدھالٹاکر ان کے سینہ پرپتھر کی بڑی چٹان رکھ دیتا تھا تاکہ وہ حرکت نہ کر سکیں اور کہتا تھا کہ یا اس حال میں مرجائیں اور زندگی چاہیں تو اسلام سے ہٹ جائیں مگر وہ اس حالت میں بھی اَحد اَحدکہتے تھے۔رات کو زنجیروں میں باندھ کر کوڑے لگائے جاتے اور اگلے دن ان زخموں کو گرم زمین پر ڈال کر اور زیادہ زخمی کیا جاتا تاکہ بے قرار ہو کر اسلام سے پھر جاویں یا تڑپ تڑپ کر مر جائیں۔ عذاب دینے والے اُکتا جاتے۔ کبھی ابو جہل کا نمبر آتا۔ کبھی امیہ بن خلف کا، کبھی اوروں کا، اور ہر شخص اس کی کوشش کرتا کہ تکلیف دینے میں زور ختم کر دے۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے اس حالت میں دیکھا تو اُن کو خرید کر آزاد فرمایا۔حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کی وفات کے بعد حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ مدینہ منورہ میں نہ رہ سکے۔ کیسے رہتے ، مسجد نبوی کا ہر گوشہ ، انھیں اپنے آقا صلی اللہ علیہ و سلم کی یاد دلاتا۔ آپ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی جدائی کے غم کی تاب نہ لاسکے اور آخر کار مدینہ منورہ سے ہجرت کرکے ملک شام کے شہر حِلب چلے گئے ۔تقریباََ ایک سال بعد حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خواب میں حضور صلی اللہ علیہ و سلم کا دیدار کیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم فرمارہے ہیں اے بلال ؓ تم نے ہم سے ملنا کیوں چھوڑ دیا ہے ، کیا تمہارا دل ہم سے ملنے کو نہیں چاہتا۔ حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی آنکھ کھل    گئی ، اضطراب بڑھ گیا  لبیک یا سیدی ﷺ کہتے ہوئے اٹھے اور راتوں رات مدینہ منورہ کی طرف چل پڑے۔مدینہ پنہچتے ہی سیدھے مسجد نبوی ﷺ پہنچے اور روضہ انور پر حاضر ہوئے اور اتنا روئےکہ روتے روتے بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ شدت غم سے بے ہوش ہوگئے ،مدینہ منورہ میں حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی آمد کا شہرہ ہوچکا تھ حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو جب ہوش آیا تو دیکھا ہر طرف لوگوں کا ہجوم ہے ۔لوگ التجائیں کررہے تھے، اے بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک دفعہ پھر وہی  اذان سنا دو جو حضور صلی اللہ علیہ و سلم کو سناتے تھے۔لوگوں نے بہت ہی اصرار کیا مگر حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ اذان کے لئے راضی نہیں ہوئے۔اتنے میں جناب حسن رضی اللہ تعالیٰ اور جناب حسین رضی اللہ تعالیٰ مسجد میں تشریف لائے اور سیدنا بلال رضی اللہ تعالیٰ سے درخواست کیاے بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ آج ہمیں وہی اذان سنا دو جو ہمارے نانا جان صلی اللہ علیہ و سلم کو سنایا کرتے تھے۔حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پیارے حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو گود میں اٹھا لیا اور کہا ”تم تو میرے پیارے آقا صلی اللہ علیہ و سلم کے جگر کے ٹکڑے ہو تم جو کہو گے وہی ہوگا۔ اگر میں نے انکار کردیا اور کہیں تم روٹھ گئے ، تو روضہ انور میں آقا صلی اللہ علیہ و سلم بھی رنجیدہ ہوجائیں گے۔ مہینوں کے بعد جب حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اذان کی پرسوز آواز مدینہ کی فضاﺅں میں گونجی تو اہلِ مدینہ کے دل ہل گئے لوگ روتے ہوئے بے تابانہ مسجد نبوی کی طرف دوڑ پڑے۔حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جس وقت ”اشہد ان محمد رسول اللہ“ زبان سے ادا کیا ، ہزارہا چیخیں ایک ساتھ فضا میں بلند ہوئیں۔ بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نظریں بے اختیار منبر رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی طرف اُٹھ گئیں۔ آہ! منبر خالی تھا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا دیدار نہ ہوسکا، بے چینی بڑھ گئی،ضبط کے بندھن ٹوٹ گئے اور بے ہوش ہوگئے۔اس واقعے کے کچھ عرصے بعد حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے شہر سے رخصت ہوئے اور واپس شام چلے گئے،جہاں 20ہجری (641ئ) کو آپؓ نے اپنا سفر حیات مکمل کرلیا۔ آپ ؓ کو دمشق میں باب الصغیر کے قریب دفن کیا گیا۔

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎