بہترین زندگی کے راز, نفسیاتی مسائل کا حل , اپنی صحت بہتربنائیں, اسلام اورہم, ترقی کےراز, عملی زندگی کےمسائل اورحل, تاریخ سےسیکھیئے, سماجی وخاندانی مسائل, ازدواجی زندگی بہتربنائیں , گھریلومسائل, روزمرہ زندگی کےمسائل, گھریلوٹوٹکے اسلامی واقعات, کریئر, کونساپیشہ منتخب کریں, نوجوانوں کے مسائل , بچوں کی اچھی تربیت, بچوں کے مسائل , معلومات میں اضافہ , ہمارا پاکستان, سیاسی سمجھ بوجھ, کالم , طنز و مزاح, دلچسپ سائینسی معلومات, کاروبار کیسے کریں ملازمت میں ترقی کریں, غذا سے علاج, زندگی کےمسائل کا حل قرآن سے, بہترین اردو ادب, سیاحت و تفریح, ستاروں کی چال , خواتین کے لیے , مرد حضرات کے لیے, بچوں کی کہانیاں, آپ بیتی , فلمی دنیا, کھیل ہی کھیل , ہمارا معاشرہ اور اس کی اصلاح, سماجی معلومات, حیرت انگیز , مزاحیہ

تاج محل میں زیر زمین پراسرار کنویں ۔۔ آخر ان کنووں میں کیا چیز موجود ہے کہ جب بھارتی سیاستدانوں نے وہاں جانے کی درخواست کی تو انہیں بھی ایسا نہ کرنے دیا گیا

  پیر‬‮ 9 جولائی‬‮ 2018  |  17:13

تاج محل کس نے ڈیزائن کیا؟ کیا وہ اطالوی عمار جیرینیم ویرونیکا تھا جس نے اس زمانے میں ہندوستان کا دورہ کیا تھا؟ یا وہ فرانسیسی سیمی گر آسٹن دوبوردوتھا جیسا کہ فرانس کے لوگ یقین رکھتے ہیں یا وہ لاہور کا استاد احمد تھا، جسے شہنشاہ شاہ جہان نے ’’نادر العصر‘‘ یعنی اپنے وقت کا عجوبہ کا خطاب عطا کیا تھا۔ تاج محل کا اصل عمار ہمیشہ ہی سے پراسرار پردوں میں اخفا رہا ہے۔ اس زمانے کی دستاویزات ’’لاہور کے عمار‘‘ کی طرف اشارے کرتی ہیں۔ سترھویں صدی کے مسودے ’’دیوان مہندس‘‘ میں، جو 1930ء میں دریافت ہوا،

جو قدیم ترین مسودہ ہے اور لطف اللہ کی شاعری کا مجموعہ ہے، بے شمار اشعار شامل ہیں جن میں وہ اپنے والد ’’لاہور کے استاد احمد‘‘ کا تاج محل اور دہلی کے لال قلعے کے عمار کی حیثیت سے ذکر کرتا ہے۔ استاد احمد ایرانی نژاد نجومی انجینئر (مہندس) تھا۔ایک اور مآخذ کے دعویٰ کے مطابق استاد احمد لال قلعے کے عماروں میں سے ایک تھا۔ اس دعویٰ کے ثبوت میں اچھی خاصی شہادتیں میسر ہیں اور اس حقیقت کو آج بھی حکومت ہند تسلیم کرتی ہے۔ دیگر بڑے بڑے منصوبوں، جن پر استاد احمد نے کام کیا تھا، کی مزید شہادتیں بھی موجود ہیں جو اس دعویٰ کی معقولیت کو تقویت پہنچاتی ہیں۔ یہ بات دلچسپ ہے کہ استاد بہت سے دیگر ناموں سے بھی معروف تھے، جیسے استاد خان افندی یا استاد محمد عیسیٰ خان اور عیسیٰ افندی۔عام اتفاق رائے یہ ہے کہ تاج محل کا ڈیزائن کسی ایک ماہر تعمیرات کے نام نہیں کیا جاسکتا۔ جس طرح دیگر بڑے تعمیراتی کاموں کو کسی نہ کسی غیر معمولی ماہر کی تخلیقی اُپچ کے نام کرسکتے ہیں۔ یہ کام ایک ارتقائی عمل کی پیداوار معلوم ہوتا ہے۔ حتمی نتیجہ، جیسا کہ ایک تحقیقی مقالے میں بیان کیا گیا ہے، یہی ہے کہ ’’مغلیہ تعمیر کی ترقی کا کامل مرحلہ ہے۔‘‘ لیکن وہ کون شخص تھا جس نے یہ سارا عمل شروع کیا اور عمارت کو موجودہ صورت عطا کی؟ یہ تسلیم کیا جاتا ہے کہ وہ شخص لاہور کا استاد احمد تھا۔ وہی تھا جس نے مغلیہ دربار کو مشورہ دیا کہ کہاں سے بہترین کاریگر ملیں گے جو ’’فی الواقع کرۂ ارض پر موجود تھے۔‘‘ اور یہ کہ ان کی تلاش کس طرح کرنا ہوگی اور ان کوکیسے تاج پر کام کرنے پر آمادہ کرنا ہوگا۔ اس کی حکمت عملی نے کمال کر دکھایا اور دنیا نے نتیجہ دیکھ لیا۔ترکی سے اسماعیل خان آیا جو ’’نیم کرہ‘‘ بنانے کا ڈیزائنر تھا اور ’’گنبد بنانے میں جوہر قابل تھا۔‘‘ لاہور ہی کا ایک اور ماہر استاد کاظم خان سفر کرتا ہوا آگرہ پہنچا تاکہ خالص سونے کے کلس کی ڈھلائی کر سکے جو ترک استاد کے گنبد کا ایک ممتاز جزو تھا۔ اس بات کا قومی امکان ہے کہ کاظم ہی نے استاد احمد کو ترک استاد ماہر تعمیر گنبد کی خدمات برائے تاج محل حاصل کرنے کا مشورہ دیا ہو۔ دلی کے مقامی نگینہ ساز چرنجی لال کو بطور سنگتراش سربراہ منتخب کیا گیا۔ شیراز کا امانت خان خطاط اعلیٰ مقرر ہوا اور اس حقیقت کا ثبوت تاج کے صدر دروازے پر موجود ہے جہاں اس کا نام کندہ ہے۔ ایک اور لاہوری محمد حنیف ’’معماروں کا نگران‘‘ مقرر تھا جبکہ لاہور کا ایک کشمیری میر عبدالکریم مالی امور کو سنبھالتا تھا۔ عین ممکن ہے یہ سب لوگ لاہور میں استاد احمد کے ساتھ کام کرتے رہے ہوں اور ہ بھی ان کی ہنرمندی کا مداح تھا۔لیکن مغلیہ دربارنے شیراز کے مقریمت خان کو روزانہ پیداواری بندوبست کا سربراہ مقرر کردیا۔ سنگتراش بخارا سے، خطاط شام اور ایران سے، کندہ کار جنوبی ہندوستان سے، پتھر چیرنے والے بلوچستان سے، آرائشی مناروں کی تعمیر کے ماہرین ایک اور کندہ کاری کا ماہر جو صرف پتھر کے پھول تراشتا تھا، مختلف پیشہ جات کے 37 ماہرین اس تخلیقی مرکز کے خالق تھے۔ ان میں سے 12 کا تعلق لاہور سے تھا۔ اس مرکزی حصے کے ساتھ 20 ہزار کاریگروں کی نفری منسلک تھی جو بہترین تھے اور اینٹوں کے معمار جو پورے شمالی ہندوستان سے اکٹھے کیے گئے تھے۔ ایسی زبردست منصوبہ بندی کی گئی تھی تاج محل کی تعمیر کے لیے!ہماری دلچسپی تو استاد احمد ’’نادر العصر‘‘ میں ہے۔ یہ شخص کون تھا؟ نصابی کتب میں اس کا زیادہ ذکر نہیں ملتا لیکن جو تھوڑا بہت ہماری تحقیق سے سامنے آیا ہے، کے مطابق وہ موچی دروازے کا رہائشی تھا۔ جہاں اس کا چھوٹا سا لیکن خوبصورت گھر تھا۔ اس چوک کے نزدیک جسے آج کل چوک نثار حویلی کہا جاتا ہے۔ اس زمانے میں اس علاقے میں ایک چھوٹا سا خوبصورت باغ تھا جس کے درمیان میں ایک فوارہ نصب تھا۔ اس کے اردگرد اینٹوں کے بنے ہوئے چھوٹے چھوٹے خوبصورت گھر تھے۔ یہ بلا شبہ ایک دلکش منظر ہوا کرتا تھا۔ خوبصورت اور صاف ستھرا اور کم گنجان آباد، وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مزید گھر تعمیر ہوتے گئے اور مسلسل بیرونی حملوں کی وجہ سے لوگ حفاظت کی خاطر اندرون شہر آباد ہونے کو ترجیح دیتے تھے۔اگر ہمیں 1883ء میں کی گئی مردم شماری پر یقین ہو، جو انگریزوں نے کرائی تھی، جس کے مطابق اندرون شہر لاہور کی آبادی ترانوے ہزار نفوس تھی۔ آج کے سرکاری اعداد و شمار پچاس لاکھ سے اوپر کے ہیں۔ اگرچہ بعض لوگ اسے ستر لاکھ بھی بتاتے ہیں۔ اگر ہمیں ایک سو بیس برس کی آبادی بڑھنے کی رفتار کا اندازہ ہوتا تو یقینا آبادی کبھی پچاس لاکھ سے تجاوز نہ کرتی۔ اس لحاظ سے لاہور باغوں، تعلیم یافتہ افراد، فنون لطیفہ، موسیقاروں، شاعروں اور ادیبوں سے عبارت تھا۔ یہ ایک مثالی دنیا تھی اور اسی لیے انگریزی کے اولیں شاعر چوسر نے اپنی رزمیہ نظم میں لاہور کا اسی طرح ذکر کیا ہے۔ایسے ماحول میں استاد احمد پیدا ہوگا جو اس شہر کے اب تک کے پیدا ہونے والے معماروں میں عظیم ترین معمار تھا۔ ہمیں اس شخص کے بارے میں مزید کھوج کرنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ اس کے تاج محل سمیت تمام کارہائے نمایاں کو مناسب تناظر میں رکھا جاسکے۔

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎