بہترین زندگی کے راز, نفسیاتی مسائل کا حل , اپنی صحت بہتربنائیں, اسلام اورہم, ترقی کےراز, عملی زندگی کےمسائل اورحل, تاریخ سےسیکھیئے, سماجی وخاندانی مسائل, ازدواجی زندگی بہتربنائیں , گھریلومسائل, روزمرہ زندگی کےمسائل, گھریلوٹوٹکے اسلامی واقعات, کریئر, کونساپیشہ منتخب کریں, نوجوانوں کے مسائل , بچوں کی اچھی تربیت, بچوں کے مسائل , معلومات میں اضافہ , ہمارا پاکستان, سیاسی سمجھ بوجھ, کالم , طنز و مزاح, دلچسپ سائینسی معلومات, کاروبار کیسے کریں ملازمت میں ترقی کریں, غذا سے علاج, زندگی کےمسائل کا حل قرآن سے, بہترین اردو ادب, سیاحت و تفریح, ستاروں کی چال , خواتین کے لیے , مرد حضرات کے لیے, بچوں کی کہانیاں, آپ بیتی , فلمی دنیا, کھیل ہی کھیل , ہمارا معاشرہ اور اس کی اصلاح, سماجی معلومات, حیرت انگیز , مزاحیہ

یہ چیز بھی شوگر کی وجہ بن سکتی ہے ،جدید تحقیق میں حیران کن انکشافات

  منگل‬‮ 10 جولائی‬‮ 2018  |  11:27

بظاہر فضائی آلودگی اور ذیابیطس کے مرض کے درمیان دور دور تک کوئی تعلق نظر نہیں آتا لیکن اب ایک تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ آلودگی بھی ذیابیطس کی وجہ بن سکتی ہے۔اس سے قبل عالمی ادارہ برائے صحت (ڈبلیو ایچ او) نے واضح طور پر اعلان کیا تھا کہ فضائی آلودگی سے ہر سال سانس، پھیپھڑوں کے کینسر، امراضِ قلب اور دیگر بیماریوں سے لاتعداد اموات ہورہی ہیں۔ لیکن اب اس کا ذیابیطس سے بھی تعلق دریافت ہوا ہے۔سینٹ لوئی میں واقع واشنگٹن یونیورسٹی اسکول آف میڈیسن نے دیگر اداروں کے ساتھ مل کر فضائی آلودگی اور ذیابیطس

درمیان تعلق کا انکشاف کیا ہے۔ یہ تحقیق لینسٹ پلانیٹری ہیلتھ نامی جرنل میں شائع ہوئی ہے۔ اس میں امریکی فوجیوں کا ساڑھے آٹھ سال تک مطالعہ کیا گیا ہے جو ذیابیطس کے شکار نہ تھے۔اس مطالعے میں کئی ماڈلوں پر تحقیق کی گئی ہے جن میں فضا میں سوڈیم کی موجودگی اور نچلے اعضا میں فریکچر کو بھی نوٹ کیا گیا ہے۔ اس بنا پرماہرین نے کہا ہے کہ فضائی آلودگی سے ہر سال 32 لاکھ افراد ذیابیطس میں مبتلا ہورہے ہیں۔ تحقیق کے سینئر محقق زائد ال علی نے کہا، ’ہماری تحقیق بتاتی ہے کہ پوری دنیا میں فضائی آلودگی اور ذیابیطس کے درمیان گہرا تعلق تھا۔ یہاں تک کہ ڈبلیو ایچ او اور امریکی محکمہ ماحولیات کے تعین کردہآلودگی کے کم معیار پر بھی ذیابیطس لاحق ہوسکتی ہے۔اب تک ماہرین ذیابیطس اور آلودگی کے درمیان تعلق کو سمجھ نہیں سکے ہیں۔ تاہم آلودگی کے اجزا سانس کے ذریعے جسم کے اعضا اور ٹشوز تک میں جذب ہوجاتے ہیں۔ اس طرح سے جسم میں انسولین کی حساسیت متاثر ہوتی ہے جس سے لوگ شوگر کے مرض میں مبتلا ہورہے ہیں۔ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ غریب ممالک اس سے زیادہ لوگ متاثر ہورہے ہیں جن میں بھارت اور انڈونیشیا جیسے ممالک شامل ہیں جبکہ کینیڈا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ جیسے ممالک میں یہ شرح بہت کم ہے کیونکہ وہاں فضائی آلودگی قدرے کم ہے۔ دوسری جانب آلودگی کی کم ترین سطح بھی انسانوں میں ذیابیطس پیدا کرسکتی ہے۔پوری دنیا میں ہوا کے معیار کا ایک ڈیٹا بیس بنایا گیا ہے اور 2018 کا قدرے اضافی ڈیٹا بیس ظاہر کرتا ہے کہ دنیا کے 80 فیصد شہروں میں ہوا کا معیار بہت برا ہے جو کسی بھی طرح ڈبلیو ایچ او کے معیارات کے تحت نہیں۔

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎