بہترین زندگی کے راز, نفسیاتی مسائل کا حل , اپنی صحت بہتربنائیں, اسلام اورہم, ترقی کےراز, عملی زندگی کےمسائل اورحل, تاریخ سےسیکھیئے, سماجی وخاندانی مسائل, ازدواجی زندگی بہتربنائیں , گھریلومسائل, روزمرہ زندگی کےمسائل, گھریلوٹوٹکے اسلامی واقعات, کریئر, کونساپیشہ منتخب کریں, نوجوانوں کے مسائل , بچوں کی اچھی تربیت, بچوں کے مسائل , معلومات میں اضافہ , ہمارا پاکستان, سیاسی سمجھ بوجھ, کالم , طنز و مزاح, دلچسپ سائینسی معلومات, کاروبار کیسے کریں ملازمت میں ترقی کریں, غذا سے علاج, زندگی کےمسائل کا حل قرآن سے, بہترین اردو ادب, سیاحت و تفریح, ستاروں کی چال , خواتین کے لیے , مرد حضرات کے لیے, بچوں کی کہانیاں, آپ بیتی , فلمی دنیا, کھیل ہی کھیل , ہمارا معاشرہ اور اس کی اصلاح, سماجی معلومات, حیرت انگیز , مزاحیہ


بہت زیادہ میٹھا۔۔زہر ہوتا ہے

  منگل‬‮ 10 جولائی‬‮ 2018  |  18:51

مجھے واٹر فیسٹیول دیکھنے میں کوئی دلچسپی نہیں تھی ، مجھے انتظار تھا نور محمد کا جو بانس کے سیمپل لے کر ابھی تک نہیں آیا تھا ، میں نے سوچا اگر میں چلا گیا تو پھر مجھے دوبارہ اس کے لائے ہوئے نمونے دیکھنے آنا پڑے گا اس لیے میں نے رکنا ہی مناسب سمجھا تاکہ ایک دو کونٹینر بھی اپنے سامنے لوڈ کروا کر جانے سے دل کوسکون رہے گا ،پندرہ اپریل کو سب مارکیٹیں آفس عدالت بند ، سڑکیں سنسان نظر آنے لگیں اکا دکا پی کپیں جن میں لڑکے لڑکیاں پیچھے ہُڈ میں کھڑے ہو کر

شور مجاتے ہوئے پانی پھینکنے والے منچوں کے پاس جا کر جی بھر کر اپنے اوپر پانی ڈلواتے ہوئے آگے نکل جاتے، کسی منچ پر جہاں لڑکیاں زیادہ پانی ڈال رہی ہوتیں وہاں تو لمبی لائن میں گاڑیاں کھڑی نظر آتیں،ہم لوگ بھی یعقوب کے ساتھ تماشہ دیکھنے نکلے ریاض نے گاڑی کے تمام شیشے بند کروا دیے پھر بھی پانی پھینکنے والے بالٹیاں بھر بھر کر گاڑی کے سامنے آتےاور پورے زور سے ونڈ اسکرین پر پھینک کر ہنستے ہوئے واپس چلے جاتے کیونکہ جن لوگوں میں منچ بنانے کی استطاعت نہیں تھی وہ ڈرم بھر کر سڑک کے کنارے رکھ کر یہ فریضہ انجام دے رہے تھے ،کچھ منچلے نشے میں دھت ہو کر لڑکیوں کو چھیڑنے میں مصروف تھے ، جس کی شاید ان تین دنوں میں کھلی اجازت تھی ، کہیں کہیں ایسے لوگوں کا جھگڑا ہوتے ہوئے بھی دیکھا، مگر پولیس کا کہیں نامُ نشان نہیں تھا ہو سکتا ہے وہ بھی اسی مذ ہبی فریضے کو سر انجام دینے میں مصروف ہوں ، ان بے حیائی کے منظر وں کو اور دیکھنے کی ہمت نہ پا کر میں نے یعقوب کو واپس چلنے کو کہا،ٹھکانے پر پہنچ کر ریاض نے کھانا پکانے کے لیے فریج کا جائزہ لیاتو اُس میں ایک دو اڑھائی کلو کی رہو مچھلی رکھی دیکھ کر میں نے پوچھا کیوں بھئی کیا آج مچھلی کھانے کا ارادہ ہے؟ تو ظفیر نے میری بات کا جواب دیتے ہوئے کہا انکل ریاض بھائی یہاں کی مچھلی نہیں کھاتے، یہ تو کسی کو دینے کے لیے رکھی ہے، مجھے سن کر بڑا عجیب سا لگا کہ مچھلی کا کام کرنے والا مچھلی نہیں کھاتا !! میں نے سوالیہ نظروں سے ریاض کی طرف دیکھا تو اس نے معذرت کرتے ہوئے کہا، انکل سوری میں مچھلی نہیں کھاتا ،ایسی بات نہیں مگر یہ فارم کی مچھلی جس کی خوراک حرام چیزوں سے تیار ہوتی ہے اس سے مجھے ذرا کراہیت آتی ہے ہاں سمندر کی مچھلی کو کھانے میں مجھے بھی مزا آتا ہےاگر آپ نے یہ مچھلی کھانی ہو تو میں ابھی تیار کر دیتا ہوں، میں نے بھی انکار کرتے ہوئے کہا ، نہ بھئی نہ میرے اکیلے کے لیے یہ سب کرنے کی ضرورت نہیں جو کچھ تم کھاﺅ گے میں بھی ساتھ کھا لوں گا ،ویسے اس کی یہ منطق میری سمجھ میں نہیں آئی کہ ایک حلال چیز سے کراہیت کیونکر ہو سکتی ہے جبکہ سمندر میں مچھلی کیا کیا کھا کر پلتی ہمیں اس سے کیا مطلب ہمارے لیے تو اس کو حلال قرار دیا گیا ہے بس اتنا ہی کافی ہے۔دو دن جب گھر میں بیٹھنا پڑا تو چھٹیا ں کھلنے لگیں، تیسرے دن فریدہ نے آکر کہا ،انکل آج آپ کو ایک ایسی جگہ دکھاتے ہیں جو یہاں بڑی متبرک مانی جاتی ہے ، میں نے ہنستے ہوئے کہا ، کیا کسی مندر میں لے جانے کا ارادہ ہے، اُس نے حیرت زدہ ہو کر کہا آپ کو کیسے معلوم ہوا کہ میں آپ کو ایک مندر دکھانے لے جارہی ہوں، میں نے لاپرواہی سے جواب دیا ، بھئی جب تم نے ہولی پلیس کا نام لیا تبھی میں نے اندازہ لگا لیا تھا،اُس نے اپنی تجویز کی خوبی بتاتے ہوئے کہا، انکل یہ ایک دریا کے بیچوں بیچ مندر ہے اور وہاں خاص بات یہ ہے کہ اُس کے باہر سیڑھیوں پر کھڑے ہو کر آپ مچھلیوں کو ڈبل روٹی کے ٹکڑے یا کوئی بھی کھانے کی چیز قریب سے کھلا سکتے ہیں دریا کی مچھلیاں آپ کے اتنے قریب آ جائیں گیکہ آپ ان کو چھو سکتے ہیں اور اگر آپ کے دل میں ان کو پکڑنے کا ارادہ بھی کیا تو وہ فوراً غائب ہو جائیں گی، میں نے اُس کی بات کو اہمیت نہ دیتے ہوئے کہا اس میں کونسی حیرت والی بات ہے آپ لوگ کسی بھی جانور کوکھانے کی چیز متواتر دینے لگیں تو وہ جانور آہستہ آہستہ مانوس ہو جاتے ہیں، ایسا منظرتو میں بنگلہ دیش کے شہر چٹاگانگ میں ”حضرت بایزید بسطامی ؒ“ کے مزار کے پاس ایک تالاب میں بھی دیکھ چکا ہوں جس میںبہت بڑے بڑے دیو قامت کچھوے جن کو مقامی لوگ جنوں سے تعبیر کرتے ہیںکہ صاحب مزار نے ان کو اس تالاب میں قید کر رکھاہے ، اُن کو بچے بوڑھے عورتیں سبھی قریب جا کر ڈبل روٹی کے ٹکڑے تنکوں میں پرو کر کھلاتے ہیں بعض عقیدت مند تو اُن کی پیٹھ پر ہاتھ پھیر کر اپنے منہ اور بدن پر بھی مل لیتے ہیں کہ ان کے مطابق ایسا کرنے سے بیماریاں دور ہو جاتی ہیں ۔ فریدہ جس کو میں اپنی بیٹی کی طرح سمجھتا تھا اور اُس کی نظریں بھی مجھے ایک بزرگ کی حیثیت سے دیکھتی تھیں، میری بات سن کر اس کا چہرہ اُتر سا گیا جسے دیکھ کر میں اس کی دلجوئی کرتے ہوئے کہا، ہاں بھئی اگر تم مجھے یہ سب چھٹیوں کی بوریت سے بچانے کے لیے کر رہی ہو تو کسی ایسی جگہ لے چلوجہاں پہاڑ ہوں اور بانس کے جنگل ہوں تا کہ میں سیر کے ساتھ ساتھ اپنے مطلب کا مال بھی تلاش کر سکوں، فریدہ نے خوش ہو کر ہاتھوں کو تالی کی طرح ملاتے ہوئے کہا، انکل راستے میں پہاڑ بھی ہیں اور ان پر بانس کے جھاڑ بھی لگے ہیں ،میری ہاں پر سب لوگ جن میں فریدہ اس کی سہیلی ظہیراور ریاض یعقوب کی گاڑی میں روانہ ہوئے، یہ تقریباً پچاس میل کا سفر تھا ، راستے میں کچھ پہاڑی علاقہ بھی تھا مگر میرے مطلب کی چیز مجھے نظر نہیں آئی،منزل پر پہنچے مندر جو دریا کے بیچوں بیچ تھا اس کے پاس ایک کشتی کے ذریعے پہنچےاور اندر جانے کی بجائے باہر سیڑھیوں پر مچھلیوں سے کھیل کر واپس ہوئے تو راستے میں ایک جگہ سڑک کے کنارے” کٹھل“ بکتے ہوئے دیکھ کر گاڑی رکوائی ، کٹھل ایک جنگلی پھل ہے جو بنگلہ دیش میں بھی بڑے شوق سے کھایا جاتا ہے اس کی خوشبو اور ٹیسٹ آم سے ملتا جلتا ہے بہت بڑے بڑے سائز میں پیڑ کی ٹہنیوں کی بجائے تنے سے لٹکا رہتا ہے اس کا حجم ایک بڑے تربوز سے بھی بڑا ہوتا ہے دو کلو سے پچاس کلو تک وزن کا مگر گولائی میں بانکا ٹیڑھا ہونے کی وجہ سے دیکھنے میں بھدا سا لگتا ہے زرد رنگ کی کھال پر کانٹے سے اُگے ہوتے ہیں پکنے پر خود بخود ٹوٹ کر گر جاتا ہے ،پاکستان میں اس کے بارے سوائے بنگالیوں کے کوئی نہیں جانتا، میں نے چونکہ بنگلہ دیش میں اس کا مزہ چکھا تھا اس لیے ایک دانہ جو برمی کرنسی میں پانچ سو کا ملا خرید کر گاڑی میں رکھ لیا، اس کے بارے میں ایک لطیفہ جو میں نے ایک بنگلہ دیشی دوست سے سنا تھا اُن سب کو سنایا کہ مشرقی پاکستان کے رہتے ہوئے میرے ایک دوست ایک بڑے سائز کا کٹھل کراچی لے گئے ا ور کھانے کی ٹیبل کے نیچے رکھ کر خود باتھ روم چلے گئے اتنے میں اُن کے چھوٹے بھائی جب ان کو ڈھونڈتے اُس کمرے میں آئےاور اچانک ان کی نظر ٹیبل کے نیچے رکھے کٹھل پر پڑی جو عجیب سا لگا انہوں نے اس کے بارے میں پہلے کبھی دیکھا نہ سنا تھا کہ ایسا بھی کوئی پھل ہوتا ہے، وہ خوف زدہ سے ہو کر فوراً بندوق نکال لائے اور نشانہ لے کر فائر کر دیا ، بندوق چلنے کی آواز سن کر بڑے بھائی گبھرا کر بھاگے بھاگے آئے تو دیکھا کٹھل بیچارہ پرزے پرزے ہو کر پورے کمرے میں بکھرا پڑا تھا ، بھائی سے کہنے لگے ،ارے تم نے یہ کیا کیا ؟چھوٹے بھائی جو حیرانی سے فرش پر بہتے ہوئے پیلے رنگ کے سیال کو گھور رہے تھے کہنے لگےبھیا یہ عجیب جانور ہے جس کا خون بھی زرد رنگ کا ہے، بڑے بھائی نے افسوس کرتے ہوئے کہا ارے بھائی میں اسے بنگلہ دیش سے اتنی محبت سے ہوائی جہاز میں یہاں تک لے کے آیا کہ تم سب کو اس پھل کی خوبیاں اور ٹیسٹ بتاﺅں گا اور تم نے ایک منٹ میں اس کا تیا پانچہ کر دیا،یہ کوئی جانور نہیں ایک پھل ہے جو بہت لذیز اور اکسیر ہوتا ہے، چھوٹے بھائی اور بھی حیرت زدہ ہو کر کہنے لگے یہ پھل تھا ؟؟؟میں تو سمجھا کوئی کنڈیالے چوہے کی طرح کا جانور جانے کہاں سے گھر میں گھس آیا ہے، لا حول ولا قوہ ، اس لطیفے پر سب کے چہروں پر ہنسی چھا گئی اور سفر آسان ہو گیا۔ (جاری ہے)نوٹ ۔ قارئین کی دلچسپی کے لیے کٹھل کی تصویر بھی اٹیچ کر دی ہے۔

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎