بہترین زندگی کے راز, نفسیاتی مسائل کا حل , اپنی صحت بہتربنائیں, اسلام اورہم, ترقی کےراز, عملی زندگی کےمسائل اورحل, تاریخ سےسیکھیئے, سماجی وخاندانی مسائل, ازدواجی زندگی بہتربنائیں , گھریلومسائل, روزمرہ زندگی کےمسائل, گھریلوٹوٹکے اسلامی واقعات, کریئر, کونساپیشہ منتخب کریں, نوجوانوں کے مسائل , بچوں کی اچھی تربیت, بچوں کے مسائل , معلومات میں اضافہ , ہمارا پاکستان, سیاسی سمجھ بوجھ, کالم , طنز و مزاح, دلچسپ سائینسی معلومات, کاروبار کیسے کریں ملازمت میں ترقی کریں, غذا سے علاج, زندگی کےمسائل کا حل قرآن سے, بہترین اردو ادب, سیاحت و تفریح, ستاروں کی چال , خواتین کے لیے , مرد حضرات کے لیے, بچوں کی کہانیاں, آپ بیتی , فلمی دنیا, کھیل ہی کھیل , ہمارا معاشرہ اور اس کی اصلاح, سماجی معلومات, حیرت انگیز , مزاحیہ


’’عمران کو وزیراعظم بنانے کا مطلب ہو گا کہ میں اپنی سیاسی قبر کھود لوں‘‘میری مرضی کے بغیر عمران وزیراعظم نہیں بن سکتا کیونکہ ۔۔۔! آ صف زرداری نے آرمی چیف قمر باجوہ کے بارے میں حیرت انگیز دعویٰ کردیا

  منگل‬‮ 10 جولائی‬‮ 2018  |  21:13

’’عمران کو وزیراعظم بنانے کا مطلب ہو گا کہ میں اپنی سیاسی قبر کھود لوں‘‘میری مرضی کے بغیر عمران وزیراعظم نہیں بن سکتا کیونکہ ۔۔۔! آ صف زرداری نے آرمی چیف قمر باجوہ کے بارے میں حیرت انگیز دعویٰ کردیا، تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز اسلام آباد میں پیپلزپارٹی کے اہم ترین رہنما آصف علی زرداری نے معروف صحافی سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہکہ اگر میں عمران کو وزیراعظم بننے دوں اس کا مطلب ہے کہ میں اپنی سیاسی قبر خود کھود رہا ہوں۔ میری مرضی کے بغیر عمران جتنا زور لگا لے، وزیراعظم نہیں بن سکتا

کیونکہ وہ کبھی بھی سادہ اکثریت نہیں لے گا اور جس نے بھی حکومت بنانی ہے اس کو پی پی کی حمایت چاہیے ہوگی،انہوں نے ازراہ مذاق کہا کہ اگر نیازی کو ہی وزیراعظم بننے دینا ہے تو پھر کیوں نہ باجوہ صاحب سے اقتدار سنبھالنے کی فرمائش کر دوں۔انہوں نے کہا پی ٹی آئی کے اقتدار میں آنے کا مطلب ہے کہ پی پی پی پاکستان کی سیاست سے اپنا بوریا بستر سمیٹ لے جو کہ میں کبھی نہیں ہونے دوں گا۔ میں بلاول کو 2023 میں وزیراعظم بناؤں گا اور وقت یہ ثابت کرے گا کہ میری یہ بات کتنیسچی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں 2018 میں کسی بھی سنجرانی کے ساتھ کھڑا ہو جاؤں گا مگر وہ بھی تب جب مجھے پنجاب میں ایک بڑا حصہ دیا جائے۔ بصورت دیگر مجھے شہبازشریف کے ساتھ بھی ہاتھ ملانے میں کوئی اعتراض نہیں ۔انہوں نے کہا کہ ہم پہلے بھی مل کر حکومت بنا چکے ہیں دوبارہ کیوں نہیں بنا سکتے۔ یہاں تک کہ آصف زرداری اس بات پر بھی تیار ہیں کہ جیتنے کی صورت میں پرویز الہی یا شیخ رشید کو یہ عہدہ دیا جائے۔آصف زرداری نے کہا کہ یہ پیراشوٹر ابھی اتنے طاقتور نہیں ہیں کہ پی پی اور نون کے اتحاد کے سامنے ڈٹ جائیں۔ہم پاکستان کی ایک بہت بڑی سیاسی طاقت ہیں چاہے حکومت میں ہوں یا اپوزیشن میں اور مجھے پتا ہے دوست مجھے اور شہباز کو ایک ساتھ اپوزیشن میں کبھی نہیں دیکھنا چاہیں گے۔ مجھے یہ بھی پتا ہے کہ اگر میں نہ مانوں تو میرے خلاف کیسز بنانے کی تیاری کر لی گئی ہے اور نواز کے بعد اگلی باری میری لگانے کا پورا انتظام بھی ہے۔ مگر یہ وقت ہی بتائے گا کہ ہم کیا کرتے ہیں۔

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎