بہترین زندگی کے راز, نفسیاتی مسائل کا حل , اپنی صحت بہتربنائیں, اسلام اورہم, ترقی کےراز, عملی زندگی کےمسائل اورحل, تاریخ سےسیکھیئے, سماجی وخاندانی مسائل, ازدواجی زندگی بہتربنائیں , گھریلومسائل, روزمرہ زندگی کےمسائل, گھریلوٹوٹکے اسلامی واقعات, کریئر, کونساپیشہ منتخب کریں, نوجوانوں کے مسائل , بچوں کی اچھی تربیت, بچوں کے مسائل , معلومات میں اضافہ , ہمارا پاکستان, سیاسی سمجھ بوجھ, کالم , طنز و مزاح, دلچسپ سائینسی معلومات, کاروبار کیسے کریں ملازمت میں ترقی کریں, غذا سے علاج, زندگی کےمسائل کا حل قرآن سے, بہترین اردو ادب, سیاحت و تفریح, ستاروں کی چال , خواتین کے لیے , مرد حضرات کے لیے, بچوں کی کہانیاں, آپ بیتی , فلمی دنیا, کھیل ہی کھیل , ہمارا معاشرہ اور اس کی اصلاح, سماجی معلومات, حیرت انگیز , مزاحیہ

بے چارہ شوہر (فکاہیہ تحریر)

  جمعرات‬‮ 12 جولائی‬‮ 2018  |  17:41

اس کائناتِ خداوندی میں شوہر ہونا جتنی نعمت ہے، اُتنا ہی باعثِ زحمت بھی ہے۔اگر کسی کو اپنی آزادی سے اُکتاہٹ ہونے لگے، تو وہ ضرور شوہر بننے کا شوق پورا کر لے۔ ہمارے ایک دوست کالج کے زمانے سے ہی شوہر بننے کے لیے انتہائی مضطرب تھے اور اکثر یہ پوچھنے پر کہ بڑا ہوکر کیا بنے گا؟ برجستہ جواب دیتے کہ ’’شوہر بنوں گا۔‘‘ اب اُس بیچارے کو شاید یہ اندازہ ہی نہ تھا کہ بڑا ہو کر شوہر بننا نہیں پڑتا بلکہ شوہر بن کر چھوٹا ہونا پڑتا ہے۔خیر، اب اُس کے ساتھ جو ہوا ہوگا اُس

اندازہ یوں لگایا جاسکتاہے کہ نکاح پڑھا کے مجھے اُس نے یہ اِرشاد کیا جا تجھے کشمکشِ دہر سے آزاد کیا ہمیں تو فطرت سے یہ شکوہ ہے کہ جتنی جاذبِ نظر یہ صنفِ نازک ہوا کرتی ہے، اگر اُتنی میٹھی بولی بھی عنایت کی گئی ہوتی، تو کیا خوب ہوتا۔ شاید میر تقی میرؔ کو بھی یہی شکایت رہی، تبھی تو فرمایا: صورت آئینے میں ٹُک دیکھ تو کیا صورت ہے بدزبانی تجھے اِس منھ پہ سزاوار نہیں اب تو ہمیں اپنی جوانی کی سوچ پربھی حیرت ہوتی ہے کہ اس زمانے میں کسی بھی صنفِ نازک کی قربت کے احساس سے ہی دورانِ خون میں نمایاں تیزی آتی اور اپنے حسین احساسات کے سہارے ان کی معطر سانسوں کے طفیل خود کو رومانوی دنیا کے ہیرو سمجھ بیٹھتے۔ دنیا رہنے کے قابل لگتی، لیکن اب ہمارے بھیجے میں یہ بات آگئی ہے کہ رومانیت کی تو ایسی کی تیسی، اپنی سالمیت برقرار رکھ لیں، تو یہ بڑی غنیمت ہے۔ مبادا کوئی برتن یا جوتے کا وار ہمارے کامل وجود میں کمی کا باعث نہ بنے۔اب ہم پر یہ راز بھی افشا ہوچکا ہے کہ گھر کے میدانِ کارزار میں ایک ہارے ہوئے سپاہی کی طرح نہ سہی، تو کم ازکم ایک مظلوم قیدی کی مانند رہنے میں ہی بہتری ہے۔ قارئین، شوہروں کی کئی اقسام واقع ہوئی ہیں۔ ان تمام اقسام میں جو قدریں مشترک ہیں، اُن میں سے ایک بیگم کے ساتھ بقدرِحاجت جھوٹ بولنا ہے۔کم از کم اپنے ماضی اور حال کی مصروفیات کے بارے میں سب ہی بامرِ مصلحت اپنی بیگمات کو اندھیرے میں رکھتے ہیں۔ شوہر تابع فرمان ہو، تابع دار ہو یا تابع نما، گھر کے باہر ایک الگ شخصیت کا مالک ہوتا ہے۔ ہمارے ایک دوست کہتے ہیں کہ شوہر کی مثال ’’سپلٹ اے سی‘‘ (Split A.C) کی مانند ہوتی ہے جس کا اندر والا حصہ خاموش اور باہر والا حصہ شور مچاتا ہے۔

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎