بہترین زندگی کے راز, نفسیاتی مسائل کا حل , اپنی صحت بہتربنائیں, اسلام اورہم, ترقی کےراز, عملی زندگی کےمسائل اورحل, تاریخ سےسیکھیئے, سماجی وخاندانی مسائل, ازدواجی زندگی بہتربنائیں , گھریلومسائل, روزمرہ زندگی کےمسائل, گھریلوٹوٹکے اسلامی واقعات, کریئر, کونساپیشہ منتخب کریں, نوجوانوں کے مسائل , بچوں کی اچھی تربیت, بچوں کے مسائل , معلومات میں اضافہ , ہمارا پاکستان, سیاسی سمجھ بوجھ, کالم , طنز و مزاح, دلچسپ سائینسی معلومات, کاروبار کیسے کریں ملازمت میں ترقی کریں, غذا سے علاج, زندگی کےمسائل کا حل قرآن سے, بہترین اردو ادب, سیاحت و تفریح, ستاروں کی چال , خواتین کے لیے , مرد حضرات کے لیے, بچوں کی کہانیاں, آپ بیتی , فلمی دنیا, کھیل ہی کھیل , ہمارا معاشرہ اور اس کی اصلاح, سماجی معلومات, حیرت انگیز , مزاحیہ


جب بینظیر بھٹو نے پہلی دفعہ حکومت بنائی تو نواز شریف نے انکے خلاف کیا کیا سازشیں کیں جان کر آپ پر مسلم لیگ ن کی تحریکوں کی اصلیت واضح ہوجائے گی

  جمعرات‬‮ 12 جولائی‬‮ 2018  |  23:25

جس طرح منہ میں سونے کا چمچہ لے کر پیدا ہونے والا بچہ ساری زندگی اپنے آپ کو رئیس ہی سمجھتا رہتا ہے اور زندگی بھر کوئی کام ہاتھ سے نہیں کر پاتا بالکل ویسے ہی آمریت کی گود میں پلنے والا نوازشریف سیاست کا وہ بچہ ہے جو بڑے ہی ناز و انداز کے ساتھ فوجی جرنیلوں کی گود میں پلا بڑھا ہے۔اس لیے اس سیاسی رئیس بچے کو یہ نہیں پتہ کہ تحریک کیا ہوتی ہے اور سیاسی جدوجہد کس چڑیا کا نام ہے۔والد گرامی نمبر 1 گورنر پنجاب جنرل جیلانی نے نوازشریف کو صوبائی فنانس منسٹر بنا

دیا اور والد گرامی نمبر 2 صدرِ پاکستان جنرل ضیاء الحق نے نوازشریف کو بغیر کسی سیاسی جدوجہد یا تربیت کے وزیراعلیٰ پنجاب بنا دیا۔ اور یہی وہ بری عادتیں تھیں جو نوازشریف کو سیاسی زندگی کے شروع میں ہی لگ گئی تھیں۔نوازشریف کی شروع سے ہی یہ سوچ بن گئ تھی کہ اقتدار میں آنے کا صرف ایک ہی راستہ ہے اور وہ ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آمر کی گود1987میں جب جنرل ضیاءالحق اس دنیا سے رخصت ہوئے تو نوازشریف ایک حساب سے سیاسی یتیم ہو گئے تھے لیکن چچا آئی ایس آئی نے اس وقت یتیم بھتیجے کے سر پر ہاتھ رکھا اور آئی جے آئی بنوانے میں مدد دی لیکن دائیں بازو کی منافق سیاست کچھ زیادہ کامیاب نہ ہو سکی تو صرف 53 سیٹیں جیتنے میں کامیاب ہو سکے۔ ان انتخابات کے نتیجے میں بےنظیر بھٹو نے پہلی قومی حکومت بنائی۔ اب ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اس حکومت کو پانچ سال پورے کرنے دیے جاتے لیکن اس وقت نوازشریف کے اندر کا جنرل ضیاءالحق زندہ تھا اور ابھی کچھ نظریاتی بھی نہیں ہوئے تھے، اس لیے بےنظیر کی حکومت کے خلاف سازشیں کر کے اس کی حکومت گرا دی۔ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اب کی بار نوازشریف ایک بہترین سیاست کرتے اور لوگوں سے اپنی نظریات اور منشور کی بنیاد پر ووٹ مانگتے لیکن ایک دفعہ پھر سے آئی ایس آئی کی مدد لی گئی اور سیاستدانوں میں پیسے بانٹے گئے اور بےنظیر کو متوقع جیت سے دور رکھ کر پہلی بار وزراتِ عظمیٰ ہتھیا لی۔ یوں سمجھیے کہ یہ بھی ایسٹبلشمنٹ کی طرف سے سیاسی بھتیجے کے لیے ایک تحفہ تھا جو پلیٹ میں کر رکھ پیش کیا گیا تھا۔ طبیعت کا آمرانہ پن اس قدر شدید تھا کہ دو سال میں ہی اپنی پہلی حکومت سے ہاتھ دھو بیٹھے۔نوازشریف ساری زندگی موومنٹ کی بجائے موٹی ویشن پر یقین رکھتے چلے آئے اور اس دفعہ بھی بجائے کسی حقیقی سیاسی تحریک کے پھر سے ایسٹبلشمنٹ کے کندھوں پر سوار ہو کر اور ایسٹبلشمنٹ کے ساتھ سازباز کر کے بےنظیر بھٹو کی دوسری حکومت ختم کروائی کیونکہ نوازشریف کو صرف آمرانہ راستہ ہی آتا تھا، وہ کاروباری شخص تھا، وہ پیسے دے دلا کر ہر تحریک کھڑی کر سکتا تھا۔ سو وہی کچھ اس نے اس بار بھی کیا۔وقت گزرتا چلا گیا اور 1999 آ گیا۔ اب کی بار پھر اپنے اندر کی ظالمانہ اور آمرانہ طبیعت کی وجہ سے ایک فوجی جرنیل سے پنگا لے بیٹھے۔ جنرل مشرف نے لات مار کر اقتدار سے آؤٹ کر دیا۔ شاید یہ پہلا وقت تھا جب دنیا سوچ رہی تھی کہ نوازشریف اس بار کوئی بڑی تحریک چلائیں گے اور بالکل ویسے ہی ایک انقلاب برپا کریں گے جیسا کہ ذوالفقار علی بھٹو کے بعد ان کی بیٹی بے نظیر بھٹو نے ایک عوامی انقلاب برپا کیا تھا لیکن حیرت کا جھٹکا اس وقت لگا جب چار دن بعد موصوف اپنے خاندان اور چالیس صندوقوں کے ساتھ ڈیل کر کے جدہ بھاگگئے۔ وائے افسوس !!میاں صاحب کی سیاسی تحریک دیکھنے کی حسرت دل میں ہی رہ گئی۔ 2009 میں عدلیہ بحالی تحریک کو کامیاب بنانے میں سب سے زیادہ کردار وکلاء اور اینٹی ایسٹبلشمنٹ قوتوں کا تھا۔ لیکن نوازشریف نے ہمیشہ کی طرح اس کو بھی ایک بزنس ڈیل کے طور پر لیا، اخبارات اور ٹی وی چینلز کو خرید لیا گیا اور عین آخری دن آ کر اپنی صوبائی حکومت کی بحالی کے لیے اسلام آباد چڑھائی کرنے کا اعلان کر دیا اور زرداری کو ان کے مطالبات ماننے پڑے اور یوں پیسے کے زور پر ایک تحریک کو ہائی جیک کرنے میں کامیاب رہے۔نااہلی کے بعد ایک بار پھر نوازشریف کو تحریک چلانے کا بخار چڑھا لیکن یہ تحریک اس بھیانک طریقے سے رسوا ہوئی کہ نوازشریف خود ہی بری طرح سے ایکسپوز ہو گئے اور سب جان گئے کہ اب اس بندے کے پلے کچھ نہیں رہا۔ یعنی تاریخ کا طاقتور ترین آدمی تحریک کی سربراہی کر رہا ہے اور جی ٹی روڈ پر محض پانچ ہزار بندے ؟؟ میرے خیال میں یہ شرم سے ڈوب مرنے کا مقام ہے۔میں آج بھی اس دن کے انتظار میں ہوں جب میں دیکھ سکوں کہ نوازشریف ایک حقیقی اور نظریاتی سیاسی تحریک چلا کر دکھائے گا لیکن اس میں شاید سب سے بڑا مسلہ یہ ہے کہ ان کے اپنے پٹواری کارکنان بھی یہ بات جانتے ہیں کہ اگر برا وقت آیا تو نوازشریف تو ڈیل کر کے بھاگ جائے گا، ہمارا کیا بنے گا ؟ یعنی اعتبار کا یہ عالم ہے کہ اپنے کارکنان بھی جانتے ہیں کہ یہ ایک مفاد پرست بزنس مین ہے۔.اب نوازشریف نے “عدلیہ مخالف تحریک” چلانے کا اعلان کیا ہے اور اب یہ خبریں آ رہی ہیں کہ نوازشریف نے مریم نواز کے سمدھی چوہدری منیر، ملک ریاض، میاں منشاء اور دوسرے بزنس تائیکون سے بیس ارب روپے مانگ لیے ہیں تا کہ وہ ایک بار پھر سے کاروباری تحریک چلا سکیں اور میڈیا، اخبارات، ٹی چینلز، صحافی، ادیب، قلم کار، اینکرز اور دانشوروں کو خرید کر چائے کی پیالی میں ایک طوفانی تحریک چلا سکیں۔ لیکن یقین کیجیے نوازشریف ایک آمر کی گود میں پل کر جوان ہوا ہے، یہ شخص نہ تو جمہوریت کی الف ب سے واقف ہے اور نہ جمہوری رویوں سے۔ اس شخص کو ہمیشہ اور ہر دور میں حکومتیں پلیٹ میں رکھ کر دی گئی ہیں۔یہ وہ بچہ ہے جو آمروں کی گود میں بڑے ہی ناز و انداز کے ساتھ پلا بڑھا ہے، اس نے کبھی زندگی بھر کوئی کام اپنے ہاتھ سے نہیں کیا، ان ہاتھوں سے تحریک کیا چلے گی ؟ بقول شاعر، یہ بازو میرے آزمائے ہوئے ہیں۔ میں دیکھتا ہوں کہ اس بار نوازشریف میں کتنا پانی ہے اور وہ کیسے تحریک چلا سکتا ہے۔ یہ وہ کھسرا ہے جو تکلیف تو برداشت کر سکتا ہے لیکن بچہ کبھی نہیں پیدا کر سکتا ۔۔۔۔۔!!۔

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎