بہترین زندگی کے راز, اسپیشل نفسیاتی مسائل کا حل , اپنی صحت بہتربنائیں, اسلام اورہم, ترقی کےراز, عملی زندگی کےمسائل اورحل, تاریخ سےسیکھیئے, سماجی وخاندانی مسائل, ازدواجی زندگی بہتربنائیں , گھریلومسائل, روزمرہ زندگی کےمسائل, گھریلوٹوٹکے اسلامی واقعات, کریئر, کونساپیشہ منتخب کریں, نوجوانوں کے مسائل , بچوں کی اچھی تربیت, بچوں کے مسائل , معلومات میں اضافہ , ہمارا پاکستان, سیاسی سمجھ بوجھ, کالم , طنز و مزاح, دلچسپ سائینسی معلومات, کاروبار کیسے کریں ملازمت میں ترقی کریں, غذا سے علاج, زندگی کےمسائل کا حل قرآن سے, بہترین اردو ادب, سیاحت و تفریح, ستاروں کی چال , خواتین کے لیے , مرد حضرات کے لیے, بچوں کی کہانیاں, آپ بیتی , فلمی دنیا, کھیل ہی کھیل , ہمارا معاشرہ اور اس کی اصلاح, سماجی معلومات, حیرت انگیز , مزاحیہ


قائداعظم اور عمران خان کی مشترکہ اوصاف

  ہفتہ‬‮ 28 جولائی‬‮ 2018  |  17:57

قائداعظم محمد علی جناح اپنی سیرت،کردار بلند حوصلہ اور ہمت میں یکتا تھے۔ایسے رہنما بہت کم ملتے ہیں جن کی مثالیں دی جا تی ہیں۔ اگر آپ تھوڑا غوا و فکر کریں تو جان جائیں گے کہ وقت کی پابندی، نظم و ضبط کی پاسداری، خوش اخلاقی، خوش لباسی، خاندانی طور اطوار، مسلسل محنت، ورزش،وسیع ووکیبیولری، کامن مین کے حق کے لیے آواز اٹھانا اور بہت سی ایسی اقدار ہیں جو دونوں لیڈروں میں مشترک ہیں.قائداعظم محمد علی جناح ایسی ہستی ہیں جو صدیوں میں پیدا ہوتی ہیں ان کے جیسا انسان نہ کبھی آیا ہے اور نہ آئے گا

وہ اپنی سیرت ،کردار بلند حوصلہ اور ہمت میں یکتا تھے ۔ایسے رہنما بہت کم ملتے ہیں جن کی مثالیں دی جا تی ہیں ان کی عظمت کی تعریف تو ان کے مخالفین بھی کیا کرتے تھے ۔قائد اعظم غیر معمولی شخصیت کے مالک تھے ۔انہوں نے بر صغیر کے مسلمانوں کے لئے بے لوث اور بے غرض خدمات انجام دیں ،قائد اعظم عظمت کے اصولوں پر پورا اترتے ہیں ۔ان کی عظمت اور اصولوں کا یہ عالم تھا کہ انہوں نے پہلے اپنے آپ کو عیش و عشرت نمائش اور دکھاوے سے دور کیا اور ایک عظیم رہنما کی مثال قائم کی۔وہ زندگی میں سخت ڈسپلن کے قائل تھے اور اس کا اطلاق سب سے پہلے خود پر کیا کرتے تھے پھر دوسروں کو اس کی تلقین کیا کرتے تھے ۔وہ صرف کام کام اور کام کے اصولوں پر کاربند تھے اور یہ ہی وجہ ہے کہ انہوں نے اپنی زندگی میں وہ کارنامہ انجام دیا جسے سوچنے میں بھی لوگوں کی زندگیاں ختم ہو جاتی ہیں۔قائد اعظم میں وہ وصف تھا جس کی بناءپر لوگوں کے ہجوم کو ایک قوم میں تبدیل کیا جاتا ہے انہوں نے یہ کام نہات خوبی کے ساتھ ادا کیا انہوں نے ڈرے سہمے بکھرے ہوئے مسلمانوں کو اکٹھا کیا انہیں ہندو اور انگریزوں کا سامنا کرنے کے قابل بنایا ،انہیں اپنے حق کے لئے لڑنے پر آمادہ کیا انہیں بتایا کہ ان کے ساتھ نا انصافی ہو رہی ہے اور انہیں اس نا انصافی کے خلاف متحد ہونا ہے ۔وہ حقیقت میں ایک لیڈر تھے ،ایک رہنما تھے ۔قائد اعظم نے ٹوٹے بکھرے مسلمانوں کو حوصلہ دیا انہوں نے بہت کم عمری میں قانون کی ڈگری حاصل کی اور پھر اپنے ہنر کو مسلمانوں کے لئے وقف کر دیا ،قائد اعظم نے بر صغیر کے مسلمانوں میں نیا حوصلہ پیدا کیا ۔ان میں جذبہ پیدا کیا اور یہ جذبہ ان کی رگوں میں خون بن کر دوڑنے لگااور یہ ہی وہ جذبہ ہے جس کی بدولت ایک نا ممکن کام ممکن ہوا ،اور پاکستان معرض وجود میں آیا۔قائداعظم نے اپنی جدوجہد کا آغاز کانگریس سے کیا ،بہت جلد انہوں نے کانگریس میں نمایاں مقام حاصل کیا ،لیکن پھر کانگریس کے ہندو لیڈران کا مسلمانوں سے امتیازی سلوک ،ہندوﺅں کے مسلمانوں پر بڑھتے مظالم ،ان کا معتصبانہ رویہ ان سب چیزوں نے مل کر قائد اعظم کو بد دل کر دیا اور انہوں نے کانگریس چھوڑ کر مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کرلی اور پھر مسلمانوں کے لئے وہ خدمات انجام دیں جس کا آج کے دور کے لیڈروں سے تصور کرنا نا ممکن ہے ۔قائداعظم نے مسلمانوں میں حیرت انگیز جوش و ولولہ پیدا کیا ان کی قیا دت میں مسلمان ایک جھنڈ سے ایک قوم بن گئے ان کے درمیان وہ بھائی چارگی پیدا ہو گئی جس کی آج کے مسلمانوں کو شدید ضرورت ہے۔انہوں نے مسلمان اور پاکستان کے لئے جدوجہد کرتے ہوئے اپنی صحت کی بھی پرواہ نہیں کی اور گیارہ ستمبر انیس سو اڑتالیس کو اکہتر برس کی عمر میں ان سے محبت کرنے والے پاکستانیوں کو سوگوار چھوڑ کر اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔یہ نوزائدہ پاکستان کے لئے سب سے بڑا دھچکا تھا کیونکہ ان کے بعد پاکستان کو کوئی ایسی قیادت میسر نہیں آئی جو اس کے لوگوں کو ایک قوم کی طرح جوڑے رکھے ۔ان کے بعد پاکستان کا وجود تو باقی ہے لیکن پاکستانیوں کا وجود کہیں نظر نہیں آتا ۔یہ پاکستان کی بد قسمتی ہے کہ قائداعظم کے بعداسے ان کے جیسا سچا ،کھرا رہنما میسر نہیں آیا ،اب تو جو لوگ پاکستان پر حکومت کرتے ہیں وہ صرف اسے سونے کی چڑیا سمجھ کر لوٹنا جانتے ہیں ۔اگر قائدا عظم اس وقت ہوتے تو اتنی جدوجہداور قربانیوں سے حاصل کئے گئے پاکستان کا یہ حال دیکھ کر رو پڑتے ۔جب تک وہ زندہ تھے کسی کی ہمت نہیں تھی کہ وہ پاکستان پر آنکھ اٹھا کر دیکھ سکے لیکن ان کے بعد پاکستان کو باہر سے زیادہ اندرونی خطرات لاحق ہیں کیوںکہ باہر کے دشمنوں کو اندر آنے کا راستہ اس کے اپنے ہی لوگ فراہم کرتے ہیں ۔اگر ہم اپنے اندرونی اختلافات ،فرقہ پرستی اور آپسی دشمنی کو بھلا کر یکجا ہو جائیں تو آج بھی ہمارا پاکستان وہ پاکستان بن جائے گا جسے قائد اعظم نے اپنے ہاتھوں سے بنا یا تھا ابھی بھی دیر نہیں ہوئی بس ہمیں قائد اعظم کے اصولوں پر عمل کرنا ہے اور جناح سے قائد تک کا سفر طے کرنا ہے


دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎