بہترین زندگی کے راز, نفسیاتی مسائل کا حل , اپنی صحت بہتربنائیں, اسلام اورہم, ترقی کےراز, عملی زندگی کےمسائل اورحل, تاریخ سےسیکھیئے, سماجی وخاندانی مسائل, ازدواجی زندگی بہتربنائیں , گھریلومسائل, روزمرہ زندگی کےمسائل, گھریلوٹوٹکے اسلامی واقعات, کریئر, کونساپیشہ منتخب کریں, نوجوانوں کے مسائل , بچوں کی اچھی تربیت, بچوں کے مسائل , معلومات میں اضافہ , ہمارا پاکستان, سیاسی سمجھ بوجھ, کالم , طنز و مزاح, دلچسپ سائینسی معلومات, کاروبار کیسے کریں ملازمت میں ترقی کریں, غذا سے علاج, زندگی کےمسائل کا حل قرآن سے, بہترین اردو ادب, سیاحت و تفریح, ستاروں کی چال , خواتین کے لیے , مرد حضرات کے لیے, بچوں کی کہانیاں, آپ بیتی , فلمی دنیا, کھیل ہی کھیل , ہمارا معاشرہ اور اس کی اصلاح, سماجی معلومات, حیرت انگیز , مزاحیہ


کوڑے کرکٹ کے ڈھیر سے بزنس ایمپائر

  جمعہ‬‮ 14 ستمبر‬‮ 2018  |  12:20

ایک پرانے ٹرک کے ساتھ کاروبار کا آغاز کرنے والے اس تاجر کا کاروبار آج 95 فرنچائز پارٹنر ز کے ساتھ شمالی امریکا کے 50 بڑے شہروں میں سے 47 شہروں میں پھیلا ہوا ہے ۔کو لمبیا کے محنت شعار اسٹوڈنٹ سکڈا مور نے کوڑا کرکٹ جیسی چیز کو بین الاقوامی شہرت کے حامل کاروبار میں بدل دیا، جسے عام طور پرایک وقت

کی روٹی کے گزارے کے طور پراختیار کیا جاتا ہے۔ دراصل نفسیاتی ٹوٹ پھوٹ، جمود، احساسکمتری، خوف ، اکتفائ، لاپروائی اور قوت فیصلہ کی حد درجہ کمی انسان کو لے بیٹھتی ہے۔ جس کے

باعث وہ ہمیشہ وہ ہمیشہ مزدور، دائم کوڑا کرکٹ چننے والا اور مسلسل یکساں زندگی میں جکڑا ہی رہتا ہے۔ آئیے! پڑھتے ہیں سکڈا مور نے کیسے کوڑا کرکٹ سے بزنس کا بُرج تعمیر کیا؟کچھ بڑی بات نہیں، اگر ہر مسلمان حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کی تجارت والی سنت کو حتی الامکان اپنالے ، دھیرے دھیرے غربت کی اندھیرنگری سے نکل کر ایک وقت آئے گا کہ اﷲ اسے بہت سارے لوگوں کے رزق کا کفیل بناچکے ہوں گے۔ تب وہ لینے والا نہیں، بلکہ ڈھیروں کے حساب سے لٹانے والا بن جائے گا،وہ پیدائشی مہم جو تھا۔ مقابلہ بازی اُس کی گھٹی میں پڑی ہوئی تھی۔ جب اس کے

ہمسائے لڑکے نے سڑک پار 2 ڈالر فی کس گاڑی دھونے کا کام شروع کیا تو وہ اُسی کے ساتھ بالکل سید ھ میں کھڑا ہوا ڈیڑھ ڈالر لے کر گاڑی دھورہا تھا۔ پھرجب بورڈنگ اسکول کے لڑکے اُس سے ملنے جلنے لگے تو اُس نے اسکول میں ہی اپناذاتی اسٹور بنالیا، جہاں وہ گولیاں، ٹافیاں اور طلبہ کی ضرورت کی دیگر چھوٹی چیزیں فروخت کرنے لگا۔ کاروبار کا شوق، علمی پیاس پر غالب آےا تو وہ اسکول چھوڑنے کے لیے پر تولنے لگا۔ اس نے تعلیم ادھوری چھوڑدی اور ڈپلومہ نہ کرسکا۔ لیکن اس کے دل میں یہ خلش بھی تھی کہ کم از کم کاروبار کے لیے مزید پڑھنا چاہیے۔ ضروری تعلیم حاصل کرنے کے بعدایک مرتبہ میکڈونلڈ میں بیٹھے ہوئے اُس نے کھڑکی سے کوڑا کرکٹ کا ایک ٹرک دیکھا جوسیکنڈ ہینڈ چیزوں سے بھرا ہوااُس کے پاس سے گزرا۔ اُس نے سوچا یہ میرا ٹرک ہے۔ مجھے ایک کاٹھ کباڑ اٹھانے والا ٹرک خریدنا چاہیے اور لوگوں سے معاوضہ لے کر کاٹھ کباڑ اٹھانا چاہیے۔ سکڈا مور نے اپنے ذہن میں آنے والے پر جوش خیال کی پیروی کی۔ اُس نے 700 ڈالر میں ایک پک اپ خرید کر اپنے کام کا آغاز کر دیا۔

جلد ہی اُس کا کاروبارچمک اٹھا اور اب اسے مزید وقت دینا پڑرہا تھا۔ اس نے کاروبار پر دھیان دینا شروع کردیا۔ پھر اس کے پاس 3 ٹرکہوگئے۔ یوں اسے ایک کمپنی قائم کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی۔ 1998ء میں ایک دن جب وہ بوون آئی لینڈ برٹش کو لمبیا میں اپنے والدین کے گھر بیٹھا ہوا تھا۔اس نے مستقبل کی کمپنی کا ایک خاکہ بنا یا اور جلدی سے اسے 2 صفحات پر لکھ کر ایک واضح ہدف متعین کیا۔ 5 سالوں میں وہ ایک ایسی کمپنی بنانا چاہتا تھا جو کینڈا اور امریکا کے تیس بڑے شہروں میں کام کررہی ہو۔ اس نے تمام رکاوٹوں کو عبورکر کے سارے وسائل اورصلاحیتوں کو جھونک دینے کا فیصلہ کر لیا۔ نتیجتاً اپنے شیڈول سے 16دن پہلے ہی اس نے اپنے ہدف کو حاصل کر لیا۔ وہ ایک ایسی قابل فخر کمپنی قائم کرچکاتھا۔ جو مارکیٹ پر چھاگئی اور اس کی کایا پلٹ دی۔ ایک پرانے ٹرک اور 700 ڈالر کی انوسٹمنٹ کے ساتھ 1989 میں کاروبار کا آغاز کرنے والے اس تاجر کا کاروبار آج 95 فرنچائز پارٹنر ز کے ساتھ شمالی امریکا کے 50 بڑے شہروں میں سے 47 شہروں میں پھیلا ہوا ہے۔اس وقت کمپنی کے پاس ایک ہزار ٹرک ہیں، جن سے حاصل ہونے والی آمدنی 107 ملین ڈالر سے بھی زائد ہے۔ اُس کی کمپنی کو اُس وقت مزید شہرت ملنے لگی، جب اُس نے قومی میڈیا کی توجہ حاصل کرنا شروع کی۔

اُسے اوپرا ونفری شو (The Oprah Winfrey Show) میں بلایا گیا۔ اوپرا شو کے لیے اس کا عملہ ایک بہت بڑے کباڑ خانے کو صاف کررہا تھا۔ جہاں فضول چیزوں کا ایک انبار جمع تھا۔ اس کباڑ خانے میں انہیںایک ایسا ڈبا ملا جس میں ہیروں سے جڑا کان کے بُندوں کا ایک جوڑا موجود تھا۔ یہ یقینا ایک ایسی چیز تھی جسے کوئی جان بوجھ کر تو نہیں پھینک سکتا تھا۔ وہ کباڑ میںسے خزانہ تلاش کرچکے تھے۔ اسی طرح کے ایک واقعے میں وینکور ریسٹورنٹ میں جب اس کا عملہ ہال سے کوڑا کرکٹ، کباڑ اور ایسا فرنیچر اٹھا رہے تھے جو گزشتہ 10 سالوں سے بے کار پڑا ہوا تھا۔ وہاں پھپھوندی زدہ کپڑوں کے بیچ مشہور اور مچھلی کیخاص اقسام کے زنگ آلود ڈبوں کا انبار ایک ایسا خزانہ تھا، جس کی کسی کو یہ توقع نہیں تھی کہ اس کی حالیہ قیمت 5 ملین کے لگ بھگ ہے۔ (اسلام میں اس قسم کی گری پڑی چیز کا حکم مختلف ہے، براہ راست اُسے اپنی ملکیت میں نہیں لیا جا سکتا۔) ایک ٹرک سے شروع ہونے والا کام اب بہت پھیل چکا ہے۔ یونیفارم پہنے ہوئے عملہ ہر وقت ٹرک کچرا اٹھانے کے لیے دستیاب ہے۔

شمالی امریکا اور آسڑیلیا میں 200 فرنچائز کے ساتھٹرک کی آمدنی100 ملین ڈالر ہے۔ اپنے پچھلے 20 برسوں کے تجربے کا حاصل بتاتے ہوئے اس کا کہنا ہے: اس حوالے سے آپ کا ایک واضح وژن ہونا چاہیے کہ آپ کیا کرنا اور کیا بننا چاہتے ہیں؟ نیز یہ جاننا بھی از حد ضروری ہے کہ آپ کے معیارات اقدار اور ترجیحات کیا ہوں گی؟ کچھ بڑی بات نہیں، اگر ہر مسلمان حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کی تجارت والی سنت کو حتی الامکان اپنالے ، دھیرے دھیرے غربت کی اندھیرنگری سےنکل کر ایک وقت آئے گا کہ اﷲ اسے بہت سارے لوگوں کے رزق کا کفیل بناچکے ہوں گے۔ تب وہ لینے والا نہیں، بلکہ ڈھیروں کے حساب سے لٹانے والا بن جائے گا۔

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎