بہترین زندگی کے راز, نفسیاتی مسائل کا حل , اپنی صحت بہتربنائیں, اسلام اورہم, ترقی کےراز, عملی زندگی کےمسائل اورحل, تاریخ سےسیکھیئے, سماجی وخاندانی مسائل, ازدواجی زندگی بہتربنائیں , گھریلومسائل, روزمرہ زندگی کےمسائل, گھریلوٹوٹکے اسلامی واقعات, کریئر, کونساپیشہ منتخب کریں, نوجوانوں کے مسائل , بچوں کی اچھی تربیت, بچوں کے مسائل , معلومات میں اضافہ , ہمارا پاکستان, سیاسی سمجھ بوجھ, کالم , طنز و مزاح, دلچسپ سائینسی معلومات, کاروبار کیسے کریں ملازمت میں ترقی کریں, غذا سے علاج, زندگی کےمسائل کا حل قرآن سے, بہترین اردو ادب, سیاحت و تفریح, ستاروں کی چال , خواتین کے لیے , مرد حضرات کے لیے, بچوں کی کہانیاں, آپ بیتی , فلمی دنیا, کھیل ہی کھیل , ہمارا معاشرہ اور اس کی اصلاح, سماجی معلومات, حیرت انگیز , مزاحیہ

اللہ کی مخلوق

  جمعہ‬‮ 14 ستمبر‬‮ 2018  |  13:08

ایک جج نے اپنا واقعہ سنایا : " میں ایک جگہ سیشن جج لگا ہوا تھا ۔ ایک کیس آیا ،ایک ملزم میرے سامنے پیش کیا گیا جس پر قتل کا الزام تھا‘ سارے ثبوت اس کے خلاف تھے ۔مگر وہ تھا بہت معصوم شکل ،اور روتا اور چیختا بھی تھا کہ میں نے یہ قتل نہیں کیا۔ اس کی معصومیت سے یہ پتہ چلتا تھا کہ اس نے قتل نہیں کیا لیکن ثبوت یہ بتاتے تھے کہ اس نے قتل کیا ہے۔میری زندگی کا تجربہ تھا ،میرے تجربات اور اس کی معصومیت یہ بتا تی تھی کہ اس نے

نے قتل نہیں کیا۔ اس لیے میری کوشش یہ شروع ہوگئی کہ اس کو بچالوں۔

اسی کوشش میں تقریباً تین مہینے میں نے اس فیصلے کو لمبا کیا لیکن میری کوشش ناکام رہی۔ میں سارا دن اسی کے بارے میں سوچتا رہتا تھا۔ میری زندگی کا کوئی یہ عجیب فیصلہ تھا۔ آخر کار میں نے اس کو سزائے موت لکھ دی۔دوسرے دن اس کو سزائے موت ہونی تھی میں اس کے پاس گیا اور پوچھا کہ سچ سچ بتاؤ تم نے قتل کیا ہے؟کہنے لگا ،جج صاحب میں سچ کہتا ہوں کہ میں نے قتل نہیں کیا۔ میں نے کہا ،تم نے کونسا ایسا جرم کیا ہے جس کی تمہیں یہ سزا مل رہی ہے ؟ کچھ دیر سوچنے کے بعد کہنے لگا ،صاحب جی میں نے ایک گناہ کیا ہے،

مجھے یاد آگیا ہے، وہ یہ کہ میں نے ایک کتیا کو بڑی بے دردی سے مارا تھا اور وہ مرگئی تھی، بس وہ قتل میں نے کیا ہے۔ میں فوراً چونک پڑا، اور اسے کہا، تبھی تو جب سے تمہارا کیس میرے پاس آیا ہے، آج تین مہینے ہوگئے ہیں، روزانہ جب میں گھر جاتا ہوں تو ایک کتیا میرے دروازے پر بیٹھی ہوتی ہے، اور چیاؤں چیاؤں کرتی ہے اور اپنی زبان میں مجھ سے انصاف کا کہتی ہے۔" جج صاحب نے بتایا کہ دوسرے دن اس شخص کو پھانسی ہوگئی اور مجھے سبق ملا ،وہ یہ کہ اللہ کی مخلوق پر ظلم کرنے والے کو اللہ ضرور سزا دیتا ہے، اس کے گھر میں دیر ہے اندھیر نہیں۔ ہماری نظر میں جو مخلوق حقیر اور نجس ہے لیکن بنانے والے کو وہ مخلوق کتنی پیاری ہے۔

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎