بہترین زندگی کے راز, نفسیاتی مسائل کا حل , اپنی صحت بہتربنائیں, اسلام اورہم, ترقی کےراز, عملی زندگی کےمسائل اورحل, تاریخ سےسیکھیئے, سماجی وخاندانی مسائل, ازدواجی زندگی بہتربنائیں , گھریلومسائل, روزمرہ زندگی کےمسائل, گھریلوٹوٹکے اسلامی واقعات, کریئر, کونساپیشہ منتخب کریں, نوجوانوں کے مسائل , بچوں کی اچھی تربیت, بچوں کے مسائل , معلومات میں اضافہ , ہمارا پاکستان, سیاسی سمجھ بوجھ, کالم , طنز و مزاح, دلچسپ سائینسی معلومات, کاروبار کیسے کریں ملازمت میں ترقی کریں, غذا سے علاج, زندگی کےمسائل کا حل قرآن سے, بہترین اردو ادب, سیاحت و تفریح, ستاروں کی چال , خواتین کے لیے , مرد حضرات کے لیے, بچوں کی کہانیاں, آپ بیتی , فلمی دنیا, کھیل ہی کھیل , ہمارا معاشرہ اور اس کی اصلاح, سماجی معلومات, حیرت انگیز , مزاحیہ

جب ٹرمپ نے پاکستانی کو اپنی قمیض بیچی

  جمعہ‬‮ 14 ستمبر‬‮ 2018  |  14:05

ایک صبح امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے گھر سے ایک سرکاری میٹنگ کے لیے روانہ ہوا تو اسے راستے میں ایک غریب ایفرو امریکین عورت ملی جو سلش SLUSH (بچوں کا مشروب) بیچ رہی تھی۔ ٹرمپ نے ایک ڈالر کا نوٹ اس کی طرف بڑھایا اور اس کو ایک سلش دینے کو کہا، غریب نیگرو عورت نے جیسے ہی سلش کا گلاس آگے بڑھایا تو وہ شربت کا گلاس ٹرمپ کی شرٹ کے اوپر گر گیا۔ یہ دیکھ کر ٹرمپ آپے سے باہر ہو گیا اور اس نے نیگرو عورت کو بالوں سے پکڑ کر چلانا شروع کر دیا "نامراد

دیا

"نامراد عورت تمہاری وجہ سے میری اتنی مہنگی شرٹ کا ستیاناس ہو گیا ہے۔ پتہ ہے یہ کتنے کی شرٹ تھی ؟" وہ بے چاری غریب عورت معافیاں مانگتی رہ گئی لیکن ٹرمپ ایک بات بار بار کہتا تھا کہ مجھے اس شرٹ کی قیمت ادا کر دو تو میں تم کو جانے دوں گا ورنہ تب تک میں تمہاری جان نہیں چھوڑنے والا اس نیگرو عورت نے روتے ہوئے پوچھا کہ ۔۔۔۔ "آخر کتنے کی ہے

تمہاری شرٹ ؟" ۔۔ تو ٹرمپ نے جواب دیا ۔۔۔۔۔۔۔۔ "ایک ہزار ڈالر" "کیا ؟ " ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ سن کر وہ عورت بھونچکا گئی ۔۔۔۔۔ "لیکن میرے پاس اتنے پیسے تو نہیں ہیں، میں کیسے ادا کروں گی اتنی بڑی قیمت؟" یہ کہہ کر وہ غریب حبشی عورت رونے لگی۔ لیکن ٹرمپ دولت اور طاقت کے نشے میں بدمست تھا، اس نے کہا "مجھے نہیں پتہ، مجھے میرے کپڑوں کی قیمت ادا کرو، ورنہ تب تک تم میری غلام رہو گی" ابھی بات یہیں تک پہنچی تھی کہ سامنے ایک ٹیکسی ڈرائیور یہ سب کچھ دیکھ رہا تھا،

وہ قریب آیا اور اس نے مزدور عورت سے پوچھا کہ آخر ماجرا کیا ہے ؟ تو عورت نے سب کچھ بتا دیا کہ یہ ظالم ٹرمپ مجھ سے چھوٹی سی غلطی کے ہزار ڈالر مانگ رہا ہے، اتنا تو میرے گھر کا ماہانہ خرچہ بھی نہیں ہے تو میں اسے اتنی بڑی رقم کیسے ادا کروں گی" ۔۔۔۔ یہ سن کر ٹیکسی ڈرائیور نے اس مظلوم عورت کو دلاسہ دیا اور ٹرمپ سے کہا "اس عورت کو چھوڑ دو، میں تم کو اس شرٹ کی قیمت دینے کو تیار ہوں"۔ یہ کہہ کر اس آدمی نے جیب سے ایک ہزار ڈالر نکالے اور ٹرمپ کے منہ پر دے مارے۔ ٹرمپ نے خوشی خوشی وہ پیسے لیے اور جیب میں ڈال کر چلنے لگا تو ٹیکسی ڈرائیور نے اسے روک لیا

"ارے ٹرمپو بیٹا ، ذرا یہ تو بتاؤ کہ یہ پیسے تم نے کس چیز کے لیے ہیں ؟ " ٹیکسی ڈرائیور نے پچکارتے ہوے پوچھا "اس شرٹ کے" ۔۔۔۔۔ ٹرمپ لے لہجے میں حیرت تھی "تو پھر اگر پیسے شرٹ کے لیے ہیں تو پھر شرٹ تو میرے حوالے کرو" ۔۔۔ وہ ٹیکسی ڈرائیور غصے سے چلایا "کیا ؟ تمہارا دماغ خراب ہے ؟ اگر شرٹ تم کو دے دی تو کیا میں سرکاری میٹنگ میں ننگا جاؤں گا " ۔

۔۔۔۔۔۔ ٹرمپ غصے سے لال پیلا ہو گیا اب ٹیکسی ڈرائیور اطمنیان سے کھڑا سلش پی رہا تھا اور بولا "ننگے جاؤ یا جیسے بھی جاؤ، مجھے پرواہ نہیں ہے لیکن اگر شرٹ نہ دی تو میں پولیس کو بلوا کر تمہیں میرے ایک ہزار ڈالر چوری کرنے کے الزام میں ہتھکڑی لگوا دوں گا ورنہ دوسری صورت میں مجھے میری شرٹ واپس کر دو کیونکہ میں اس کی قیمت ادا کر چکا ہوں"۔ ٹیکسی ڈرائیور ایک توقف کے بعد قدرے مسکراتے ہوئے بولا ۔۔۔۔ "اور اگر تم یہ شرٹ پہنے رکھنا چاہتے ہو تو پھر تم کو اب یہ شرٹ مجھ سے واپس خریدنی پڑے گی" اب ٹرمپ کی جان پر بن آئی تھی کہ وہ گھر اور میٹنگ پلیس کے درمیان میں تھا اور وہ بغیر شرٹ کے نہ گھر جا سکتا تھا اور نہ آفس۔ اس نے غصے سے پوچھا اچھا بتاؤ تم کتنے پیسے لو گے ؟ ایک ہزار ؟ اب کی بار وہ ٹیکسی ڈرائیور کھلکھلا کر ہنسا اور بولا "

نہیں !! ایک ہزار تو وہ قیمت تھی جو تم نے لی تھی، اب تو میں اس کو پانچ ہزار ڈالر میں فروخت کروں گا کیونکہ یہ شرٹ امریکی صدر کی ہے، شاید یہ اس سے بھی مہنگی بکے"۔ یہ سن کر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنا سر پکڑ لیا کیونکہ اب وہ ایسا پھنس چکا تھا کہ اس کو جان بچانے کا اور کوئی راستہ نظر نہیں آ رہا تھا ٹرمپ نے چار و ناچار اس ٹیکسی ڈرائیور کو پانچ ہزار ڈالر دیے اور شرٹ خرید لی۔ ٹیکسی ڈرائیور نے اس میں ایک ہزار ڈالر اپنی جیب میں واپس رکھا اور بقایا چار ہزار ڈالر اس غریب ریڑھی والی حبشی عورت کو دے دیے تا کہ وہ اپنا گزر اوقات بہتر طریقے سے کر سکے۔ یہ سب کچھ دیکھ کر وہ بوڑھی حبشی عورت فرطِ جذبات سے رونے لگی اور اس نے ٹیکسی ڈرائیور سے لپٹ کر پوچھا "اے اجنبی فرشتے تم کون ہو اور میری مدد کے لیے کہاں سے آئے ہو"

ٹرمپ بھی ساتھ کھڑا حیرت سے یہ سب کچھ دیکھ رہا تھا۔ یہ سن کر ٹیکسی ڈرائیور بولا  اماں میں اس قوم کا باشندہ ہوں جس سے ٹرمپ نے 33 بلین ڈالر کا حساب مانگا ہے۔ اس کو بتا دو ابھی تو میں نے صرف ایک ہزار ڈالر کا حساب کیا ہے اور اس کو جیب سے پانچ ہزار ڈالر دینے پڑ گئے ہیں۔ ابھی تو بقایا 32 بلین 999 ملین 9 لاکھ اور 99 ہزار کا حساب چکتا کرنا باقی ہے۔ اگر آج کے بعد اس پرانے کنستر کے منہ والے نے کسی غریب اور غیرت مند ملک کے ساتھ زیادتی کی تو ایسا حساب چکتا کروں گا کہ پورا امریکہ بیچ کر ہمیں پیسے بھرنے پڑ جائیں گے"۔ یہ کہہ کر وہ ٹیکسی ڈرائیور وہاں سے چلا گیا اور وہ غریب حبشی عورت اور امریکی صدر حیرت سے وہیں کھڑے دیکھتے رہ گئے۔ وہ عورت ٹرمپ کو دیکھ کر حیرت ناک انداز میں بولی "اوئے ٹرمپا ۔۔۔۔ یہ تو کس قوم سے پنگا لے بیٹھا ہے

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎