بہترین زندگی کے راز, نفسیاتی مسائل کا حل , اپنی صحت بہتربنائیں, اسلام اورہم, ترقی کےراز, عملی زندگی کےمسائل اورحل, تاریخ سےسیکھیئے, سماجی وخاندانی مسائل, ازدواجی زندگی بہتربنائیں , گھریلومسائل, روزمرہ زندگی کےمسائل, گھریلوٹوٹکے اسلامی واقعات, کریئر, کونساپیشہ منتخب کریں, نوجوانوں کے مسائل , بچوں کی اچھی تربیت, بچوں کے مسائل , معلومات میں اضافہ , ہمارا پاکستان, سیاسی سمجھ بوجھ, کالم , طنز و مزاح, دلچسپ سائینسی معلومات, کاروبار کیسے کریں ملازمت میں ترقی کریں, غذا سے علاج, زندگی کےمسائل کا حل قرآن سے, بہترین اردو ادب, سیاحت و تفریح, ستاروں کی چال , خواتین کے لیے , مرد حضرات کے لیے, بچوں کی کہانیاں, آپ بیتی , فلمی دنیا, کھیل ہی کھیل , ہمارا معاشرہ اور اس کی اصلاح, سماجی معلومات, حیرت انگیز , مزاحیہ

شریف خاندان زندگی کیسے بسر کرتا ہے؟

  جمعہ‬‮ 14 ستمبر‬‮ 2018  |  17:53

ملک کے معروف ادیب، کالم نگار، مزاح نگار عطا الحق قاسمی اپنے کالم میں ایک جگہ لکھتے ہیں کہ میاں نواز شریف کے ساتھ میری بہن سعادت آپی کی تعزیت کے لئے ہمارے گھر آئیں تو یہ لوگ میرے یہ خاندان کے ایک فرد لگتے تھے۔ اسی طرح جب یہ خاندان جدہ میں جلا وطن تھا تو میں انہیں دیکھنے جدہ گیا اور ایک ہفتہ ان کے ساتھ گزارا۔ اس وقت میاں شریف مرحوم و مغفور بھی حیات تھے۔ سارا خاندان کھانے کے وقت فرش پربچھے قالین پر بیٹھ جاتا تھا،میاں شریف مرحوم اوران کی اہلیہ ویل چیئر پر ہوتیں،

چیئر پر ہوتیں، نواز شریف کے چھوٹے بھائی عباس شریف مرحوم و مغفور ایک ملازم کی طرح ان کے قریب کھڑے رہتے اور ان کے اشارے کے منتظر رہتے۔ باقی اہل خانہ کھانے پر ایک دوسرے کے ساتھ اسی طرح کی باتیں اور چھیڑ چھاڑ کرتےجیسے ہم مڈل کلاس اور لوئر کلاس کے لوگ کرتے ہیں۔ مجھے وہاں سات دنوں میں بیگم کلثوم نواز کو زیادہ قریب سے دیکھنے کا موقع ملا ،سادہ لباس، سادہ گفتگو، محبت بھرالہجہ،ایسی خواتین کی متعدد مثالیں ملتی ہیں جن میں فاطمہ جناح، نصرت بھٹو، بے نظیر بھٹو، عاصمہ جہانگیر اور خود کلثوم نواز کے نام نمایاں ہیں۔کئی ہفتے وینٹیلیٹر پر پڑے رہنے کے بعد وہ اس جہانِ فانی سے 68 سال کی عمر میں کوچ کرگئیں

مگر جس دھج سے وہ ہم سے جدا ہوئیں وہی ان کی ’شان‘ کی سلامتی کی ضمانت ہے۔جب جب تاریخِ پاکستان کی نڈر، دلیر اور جرات مند خواتین کا باب لکھا جائے گا تو کلثوم نواز کے ذکر کے بغیر یہ ادھورا رہے گا۔ ان کی وفات کی خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیلی تو ان کے ایسے نڈر اقدامات کی خبریں بھی منظرِ عام پر آنے لگیں جنہیں نہ تو انہوں نے کبھی اپنی ذاتی تشہیر کے لیے استعمال کیا تھا اور نہ زیادہ تر لوگ واقف تھے۔سوشل میڈیا پر عوامی ورکر پارٹی کے رہنما فاروق طارق نے میاں نواز شریف کے تیسرے دورِ حکومت میں اٹھائے گئے 5 بلاگروں کی رہائی میں کلثوم نواز کے کلیدی کردار کی خبر دی جس کے بارے فاروق کو عاصمہ جہانگیر نے مطلع کیا تھا۔ یہ جرات یقیناً انہیں اپنے نانا اور عالمی شہرت یافتہ گاما پہلوان سے وراثت میں بھی ملی ہوگی،

مگر اس کا سیاسی اظہار انہوں نے ڈکٹیٹر جنرل مشرف کے مارشل لاء کے خلاف چلائی جانے والی تحریک میں پہلی مرتبہ کیا تھا۔کلثوم نواز 1950ء میں ڈاکٹر حفیظ کے گھر مصری شاہ میں پیدا ہوئیں۔ لیڈی گریفن اسکول گڑھی شاہو سے ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد اسلامیہ کالج کوپر روڈ سے ایف اے کیا۔ ایف سی کالج سے بی اے کرنے کے بعد کلثوم نواز نے پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے کیا۔ 3 دفعہ وزیرِاعظم بننے والے پاکستان کے واحد رہنما اور مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف سے ان کی شادی اپریل 1971ء میں ہوئی۔وہ ایک پڑھی لکھی خاتون تھیں اور نواز شریف کی ہمراز بھی کہ سیاست کے راز و نیاز سے وہ برابر باخبر رہی ہوں گی۔ چوتھے مارشل لاء تک وہ 2 بار خاتونِ اول بھی رہ چکی تھیں۔ طاقت اور مفادات کے کھیل کو نزدیک سے بھی دیکھا ہوگا اور راج دربار کی غلام گردشوں میں بھارتی وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کے دورہ لاہور کے بعد امڈ آنے والی بلند سرگوشیوں سے بھی واقف ہوں گی۔

یہی وجہ ہے کہ انہیں 11 اکتوبر 1999ء کو اس وقت بھی خدشات نے گھیر رکھا تھا جب نواز شریف لاہور سے اسلام آباد روانہ ہو رہے تھے۔کلثوم نواز کی گاڑی کرین کے ذریعے اٹھائی جا رہی ہے۔ انہوں نے باہر آنے سے انکار کرتے ہوئے خود کو اندر لاک کرلیا تھا۔ اس عمل سے انہوں نے یہ جتا دیا کہ وہ کہیں جانے والی نہیں— فوٹو اظہر جعفریان واقعات کا اظہار انہوں نے مفصل انداز میں اپنی کتاب ’جبر اور جمہوریت‘ میں کیا اور ’روشن خیال اعتدال پسندی‘ کے پیچھے چھپے ڈکٹیٹر کا چہرہ بے نقاب کر ڈالا۔ ان کی تمام باتوں سے آپ اتفاق نہ بھی کریں تب بھی یہ بات تسلیم کرنی پڑتی ہے کہ کلثوم بی بی نے جس جرات کا مظاہرہ کیا اس کا مقابلہ بڑے بڑے ’مرد‘ بھی نہیں کرسکتے۔

کلثوم کی کتاب کی مکمل پی ڈی ایف کتابوں کی سائبر خزانے (آرکائیو ڈاٹ او آر جی) سے ڈاون لوڈ کی جاسکتی ہے۔جبر و جمہوریت کا سرورقمشرفی مارشل لاء لگا تو کلثوم ماڈل ٹاؤن والے گھر مقیم تھیں جب ان کی گھر پر فوجی قبضہ بحکم مشرف ہوگیا مگر گامے کی نواسی تمام پہروں کو توڑتی رہی اور پہرے دار افسران سے کہتی رہی کہ مارسکتے ہو تو مار لو، روک سکتے ہو تو روک لو۔ انہیں اپنے باپ کے چہلم پر جانے سے روکا گیا تو اس ’مردِ حر‘ نے رائیونڈ سے نکل کر پیدل مارچ شروع کردیا اور پہرے دار افسران کے ہوش اڑ گئے۔

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎