بہترین زندگی کے راز, نفسیاتی مسائل کا حل , اپنی صحت بہتربنائیں, اسلام اورہم, ترقی کےراز, عملی زندگی کےمسائل اورحل, تاریخ سےسیکھیئے, سماجی وخاندانی مسائل, ازدواجی زندگی بہتربنائیں , گھریلومسائل, روزمرہ زندگی کےمسائل, گھریلوٹوٹکے اسلامی واقعات, کریئر, کونساپیشہ منتخب کریں, نوجوانوں کے مسائل , بچوں کی اچھی تربیت, بچوں کے مسائل , معلومات میں اضافہ , ہمارا پاکستان, سیاسی سمجھ بوجھ, کالم , طنز و مزاح, دلچسپ سائینسی معلومات, کاروبار کیسے کریں ملازمت میں ترقی کریں, غذا سے علاج, زندگی کےمسائل کا حل قرآن سے, بہترین اردو ادب, سیاحت و تفریح, ستاروں کی چال , خواتین کے لیے , مرد حضرات کے لیے, بچوں کی کہانیاں, آپ بیتی , فلمی دنیا, کھیل ہی کھیل , ہمارا معاشرہ اور اس کی اصلاح, سماجی معلومات, حیرت انگیز , مزاحیہ

عروج کے دنوں میں ایک بار وسیم اکرم نے پاکستانی ٹیم کی کپتانی سے استعفیٰ دینے کا فیصلہ کر لیا اور مشورے کے لیے اپنی اہلیہ ہما اکرم کو فون کیا تو

  جمعہ‬‮ 14 ستمبر‬‮ 2018  |  17:29

سرفراز نواز نے اس سے قبل بھی میاں داد اور بخاطر پر جوئے کے الزامات عائد کئے تھے جس پر دونوں نے اس کے خلاف مقدمہ کیا مگر میاں داد نے مقدمہ واپس لے لیا تھا۔کرکٹرز کی غیر ذمہ دارانہ حرکات اور بیرون ملک سرگرمیوں کے حوالے سے راقم کی کرکٹر مشتاق احمد سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے بتایا کہ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ نوجوان کرکٹرز بیرون ملک دورے پر ہوں تو کلبوں وغیرہ میں جاتے اور غیر ذمہ دارانہ حرکات کرتے تھے۔ مشتاق احمد جب سے اسلام کی طرف آئے ہیں ان کی کایا ہی پلٹ

کایا ہی پلٹ گئی ہے۔وہ سعید انور کے ساتھ مل کر تبلیغی خدمات انجام دے رہے ہیں۔خاص طور پر کرکٹرز کو اسلام کی طرف واپس لارہے ہیں۔ان کا دعویٰ ہے کہ وہ ایک دن وسیم اکرم کو بھی اس طرف لے آئیں گے۔ہیلو ہماوسیم اکرم کے لیے کپتانی کا نٹوں کی سیج بن گئی تھی۔اس نے تہیہ کرلیا تھا کہ اگلے ٹیسٹ سے پہلے ہی وہ کوئی فیصلہ کرلے گا کیونکہ وہ ایسا کھلاڑی نہیں تھا جو اپنی اصل شناخت کو کھو کر کپتانی کی کرسی سے چمٹا رہتا۔

اس کی باؤلنگ اور بیٹنگ بری طرح متاثر ہو رہی تھی۔ عین ممکن تھا وہ دل برداشتہ ہو کر کپتانی چھوڑ دیتا کہ اسی شام جب وہ ہوٹل میں اپنے کمرے میں تنہا بیٹھا تھا، ہما کا فون آگیا۔ وسیم اکرم کے پثر مردہ دل میں زندگی کی لہر دوڑ گئی۔ اس نے ہما کو اپنی پریشانیوں سے آگاہ کیا اور کہا:’ہیلو ہما! میں ان حالات میں کپتانی نہیں کر سکتا۔اب تم ہی بتاؤ میں کیا کروں‘‘۔ہما ایک ماہر نفسیات اور بڑی پر اعتماد لڑکی تھی۔

اس نے سوچا اگر اس نے وسیم اکرم کو ڈپریشن سے نہ نکالا تو اس کا یہ غلط فیصلہ اس کے پیشہ ورانہ کیرئیر کو تباہ کر دڈے گا۔ اس نے وسیم اکرم سے کہا:۔’وسیمٖ!ترقی کے خواب دیکھنا بڑی آسان بات ہوتی ہے۔ باس کی کرسی کا اپنا ہی چارم ہوتا ہے مگر اس کی مشکلات کا کسی کو ادراک نہیں ہوتا۔ ذرا سوچو جب تم ایک کھلاڑی تھے تو اپنے کپتانوں کے بارے میں تمہارے کیا خیالات ہوا کرتے تھے۔ تم بھی یہی سوچتے تھے کہ ان کے بعض فیصلے غلط ہوتے ہیں۔اگر وہ یوں کرتے تو پاکستان جیت جاتا۔

اگروہ یوں نہ کرتے تو نتائج بہتر نکلتے‘‘۔ہما نے بڑی ملائمت کے ساتھ سمجھایا۔’’وسیم!یہی سب کچھ تمہارے جونیئر اور دوسرے ٹیم ممبران سوچ رہے ہوں گے۔یادرکھو وسیم! اب اگر تم نے کشتی بیچ منجدھار میں چھوڑ دی تو کرکٹ کی تاریخ تمہیں ایک بزدل کپتان کہے گی اور پھر تمہیں کبھی بھی کپتان نہیں بنایا جائے گا۔لہٰذا تمہیں چاہئے کہ حالات کا ڈٹ کر مقابلہ کرو، خوب لڑو۔صادق جذبوں کے ساتھ محاذ پر ڈٹ جانے والے سپاہی دشمن کی پوری صف کو الٹ دیتے ہیں‘‘۔

وسیم اکرم دم بخود ہما کی باتیں سنتا رہا۔ اس کا ڈپریشن بہت حد تک دور ہو گیا تھا۔لہٰذا وہ چہکتے ہوئے بولا۔میری ڈاکٹر!مجھے یہ بتاؤ شادی کی تیاریاں کہاں تک پہنچی ہیں‘‘۔ہما سمجھ گئی کہ وسیم کا ذہن اعتدال پر آگیا ہے تو وہ بولی’’ظاہر ہے ابھی کافی دیر ہے۔اکتوبر میں شادی ہونے والی ہے تیاریاں ذرا آہستہ آہستہ ہی ہوں گی‘‘۔صرف چھ مہینے رہ گئے ہیں شادی میں اور تم کہہ رہی ہو ابھی دیر ہے۔۔۔خدارا کوئی ایسا منتر پھونک دو کہ یہ چھ مہینے پل بھر میں کٹ جائیں تم ماہر نفسیات ہو، وقت کو ہپناٹائز کر دوکم بخت یہ گزر ہی نہیں رہا‘‘۔

ہما نے قہقہہ لگایا اور کہنے لگی’’اگر وقت کو ہپناٹائز کر دیا تو پھر ایک جگہ ہی رک جائے گا۔ یہ چھ مہینے تو قیامت کی گھڑی بن جائیں گے‘‘۔ وسیم اکرم اپنی ہونے والی بیوی کے جواب سے محظوظ ہوا اور کہنے لگا۔ ’’ہما تم جانتی ہو کہ اس وقت مجھے تمہاری شدید ضرورت ہے ایک تم ہی ہو جو میرے درد کو سمجھ رہی ہے۔۔۔پلیز روزانہ مجھے فون کرنا۔

یا پھر ایسا ہے کہ میں خود تمہیں فون کیا کروں گا‘‘۔’ٹھیک ہے!‘‘ ہما چہک کر بولی۔’’جب بھی تم پریشان ہوا کرو مجھے فون کر لیا کرو‘‘’’بہت اچھا میری ڈاکٹر ’’وسیم اکرم نے مسکراتے ہوئے کہا۔ہما کے فون نے وسیم اکرم کو مسائل سے لڑنے کا حوصل بخش دیا تھا۔دنیائے کرکٹ میں تہلکہ مچانے والے بائیں بازو کے باؤلروسیم اکرم نے تاریخ ساز کرکٹ کھیل کر اسے خیرباد کہا مگرکرکٹ کے میدان سے اپنی وابستگی پھریوں برقرار رکھی کہ آج وہ ٹی وی سکرین اور مائیک کے شہہ سوار ہیں۔

وسیم اکرم نے سٹریٹ فائٹر کی حیثیت میں لاہور کی ایک گلی سے کرکٹ کا آغاز کیا تو یہ ان کی غربت کا زمانہ تھا ۔انہوں نے اپنے جنون کی طاقت سے کرکٹ میں اپنا لوہا منوایااور اپنے ماضی کو کہیں بہت دور چھوڑ آئے۔انہوں نے کرکٹ میں عزت بھی کمائی اور بدنامی بھی لیکن دنیائے کرکٹ میں انکی تابناکی کا ستارہ تاحال جلوہ گر ہے

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎