بانو قدسیہ

  پیر‬‮ 6 ‬‮نومبر‬‮ 2017  |  19:40

ہم ننگے سر گھومنے والی بیٹی کو تو شرمندگی کا سبب سمجھتے ہیںمگر اُس لڑکی کو دیکھنے والے بیٹے کو کچھ نہیں کہتےزمانے نے عجب پلٹا کھایا ہے۔ پچھلے لوگ چھپ کر عبادت اس لئے کرتے تھے کہ کہیں شہرت نہ ہو جائے اور اب اس لئے چھپا کر کرتے ہیں کہ کہیں لوگ مذاق نہ اڑائیں۔ اشفاق احمدمحبت کسی کیلئے اپنی جان قربان کرنا نہیں ہے‘ کیونکہ یہ جان تو اللہ کی امانت ہے ہمارے پاس۔۔۔ محبت تو کسی کی رضا اور خوشی کیلئے اپنی رضا اور خوشی قربان کرنے کا نام ہے۔ اشفاق احمد جوان بوڑھوں کو تجربے کے طور پہ لیں تو ان کی جوانی بے داغ اور بے عیب گزرے۔ اشفاق احمد (زاویہ)کوئی رشتہ کوئی جذبہ کبھی مشکل نہیں ہوتا، ان کے بھی پاؤں ہوتے ہیں، بس ہمارا سلوک اور رویہ دیکھ کر کبھی یہ بھاگ کر قریب آجاتے

کر قریب آجاتے ہیں اور کبھی آہستہ آہستہ دور چلے جاتے ہیں ۔ اشفاق احمدصالح افراد کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا فلاح اور بہبود کی طرف دعوت دیتا ہے۔علماءکا ادب کرنا عقل میں اضافہ کا سبب ہے۔

۔ جو شخص اپنے غیظ و غضب کو لوگوں سے روکے تو قیامت میں خدا اس کواپنے غضب سے محفوظ رکھے گا۔ معرفت الٰہی کے بعد جو چیزیں انسان کو سب سے زیادہ خدا سے نزدیک کرتی ہیں وہ نماز ،والدین کے ساتھ اچھا برتائو،حسد نہ کرنا،خود پسندی سے پرہیز کرنا،فخر و مباہات سے اجتناب کرنا۔•۔ مخلوقات کا نصب العین اطاعت پروردگار ہے ۔ اطاعت کے بغیر نجات ممکن نہیں ۔ اطاعت علم کے ذریعہ حاصل ہوتیہے ۔ علم سیکھنے سے حاصل ہوتا ہے۔ علم عقل کے ذریعہ حاصل کیا جاتا ہے ۔ علم تو بس عالم ربانی کے پاس ہے ۔عالم کی معرفت اس کی عقل کے ذریعہ سے ہے