بہترین زندگی کے راز, اسپیشل نفسیاتی مسائل کا حل , اپنی صحت بہتربنائیں, اسلام اورہم, ترقی کےراز, عملی زندگی کےمسائل اورحل, تاریخ سےسیکھیئے, سماجی وخاندانی مسائل, ازدواجی زندگی بہتربنائیں , گھریلومسائل, روزمرہ زندگی کےمسائل, گھریلوٹوٹکے اسلامی واقعات, کریئر, کونساپیشہ منتخب کریں, نوجوانوں کے مسائل , بچوں کی اچھی تربیت, بچوں کے مسائل , معلومات میں اضافہ , ہمارا پاکستان, سیاسی سمجھ بوجھ, کالم , طنز و مزاح, دلچسپ سائینسی معلومات, کاروبار کیسے کریں ملازمت میں ترقی کریں, غذا سے علاج, زندگی کےمسائل کا حل قرآن سے, بہترین اردو ادب, سیاحت و تفریح, ستاروں کی چال , خواتین کے لیے , مرد حضرات کے لیے, بچوں کی کہانیاں, آپ بیتی , فلمی دنیا, کھیل ہی کھیل , ہمارا معاشرہ اور اس کی اصلاح, سماجی معلومات, حیرت انگیز , مزاحیہ


کرونا وائرس نے ڈالر کو بھی پر لگا دیے، ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا

  جمعرات‬‮ 26 مارچ‬‮ 2020  |  20:16

امریکی ڈالرکے مقابلے میں پاکستانی روپے کی بے قدری کا تسلسل جاری، کاروباری ہفتے کے چوتھے روز جمعرات کوانٹربینک میں ڈالر کی قیمت میں چار روپے 50 پیسے کا اضافہ ریکارڈ کیاگیا جس کے بعد یہ ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا،جس کے نتیجے میں بیرونی قرضوں میں اربوں روپے کا اضافہ ہوگیا۔روپے کی قدر میں مسلسل کمی اور ڈالر کی اڑان جاری ہے۔

جمعرات کو انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر مزید ساڑھے 5.85 روپے مہنگا ہوکر ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ فاریکس ڈیلرز کے مطابق انٹربینک میں ڈالر 5

روپے 85 پیسے مہنگا ہوکر 167.45 روپے پر پہنچ گیا۔ ڈالر9 ماہ بعد اتنی مہنگی سطح پر ٹریڈ ہوا جبکہ انٹر بینک میں امریکی کرنسی کی قدر میں 3 روز کے دوران 8 روپے 45 پیسے کا اضافہ ہوچکا ہے۔ڈالر کی قدر میں ہوشربا اضافے کے باعث ملک پر قرضوں کے بوجھ میں 600 ارب روپے کا اضافہ ہو گیا ہے۔غیر ملکی سرمایہ کاروں کی جانب سے گھریلو قرضوں اور اسٹاک مارکیٹوں سے قلیل مدتی سرمایہ کاری نکالنے سے روپے کی قدر میں گراوٹ آئی ہے۔ اقتصادی ماہرین کے مطابق حکومت کی جانب سے شرح سود میں ڈیڑھ فیصد کمی کے باعث سرمایہ کار پاکستان سے اپنا پیسہ نکال رہے ہیں جو ڈالر مہنگا ہونے کا سبب بن رہا ہے۔اسٹیٹ بینک کے گورنر رضا باقر نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کے باعث غیرملکی سرمایہ کار نقد رقم کو ہاتھ میں رکھنے کے لئے پاکستان سمیت دنیا بھر سے اپنی سرمایہ کاری واپس نکال رہے ہیں۔عارف حبیب لمیٹڈ کے ہیڈ آف ریسرچ سمیع اللہ طارق نے اس ضمن میں بتایاکہ اسٹیٹ بینک کے اعدادوشمار کے مطابق، پچھلے تین ہفتوں میں غیر ملکی سرمایہ کاروں نے حکومتی قرضوں کی سیکیورٹیز سے 1.56 بلین ڈالر کی قلیل مدتی سرمایہ کاری واپس لے لی ہے، جس کے نتیجے میں روپیہ پر دباؤ اس وقت جزوی طور پر بڑھ گیا، تاہم گھبراہٹ میں مبتلا کچھ سرمایہ کاروں نے پختگی ہونے سے پہلے سیکیورٹیز فروخت کردیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ سال اگست میں انٹر بینک میں ڈالر کی قیمت 164 روپے اور پانچ پیسے تھی جو اب تک کی بلند ترین سطح تھی۔گزشتہ سال کے آغاز میں ڈالر کی قیمت مسلسل بڑھتی رہی، جنوری میں ڈالر 138 روپے 93 پیسے، فروری میں 138 روپے 90 پیسے اور مارچ میں 139 روپے10 پیسے تک پہنچ گیا۔اپریل 2019 میں ڈالر نے بڑی چھلانگ لگئی اور 141

روپے 50 پیسے پر آ گیا۔ مئی میں اس کی قیمت میں تاریخ کا ایک بڑا اضافہ دیکھا گیا اور یہ 151 روپے تک پہنچ گیا۔

جون میں ڈالر نے تمام ریکارڈ توڑ دیے اور تاریخ کی بلند ترین سطح 164 روپے پر پہنچ گیا۔جولائی 2019 میں ڈالر کی اڑان رک گئی اور ڈالر کمی کے بعد انٹربینک میں 160 روپے اور اوپن مارکیٹ میں 161 روپے کا ہوگیا۔اگست 2019 میں روپے نے ڈالر کا جم کر مقابلہ کیا اور ڈالر 157.20 روپے تک پہنچ گیا۔ ستمبر 2019 کے اختتام پر ڈالر کی قیمت میں مزید کمی واقع ہوئی اور یہ 156.40 روپے پر پہنچ گیا۔اکتوبر 2019 کے اختتام پر روپے کی قدر مزید بہتر ہوئی اور ڈالر کی قیمت 155.70 روپے رہ گئی۔ نومبر2019 کے اختتام پر ڈالرکی قیمت خرید 155.25 اور قیمت فروخت 155.65 تھی۔ گزشتہ چھ ماہ سے ڈالر کی قیمت میں مسلسل کمی دیکھنے میں آرہی ہے اور اس دوران 9 روپے کی کمی آئی۔


دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎