بہترین زندگی کے راز, اسپیشل نفسیاتی مسائل کا حل , اپنی صحت بہتربنائیں, اسلام اورہم, ترقی کےراز, عملی زندگی کےمسائل اورحل, تاریخ سےسیکھیئے, سماجی وخاندانی مسائل, ازدواجی زندگی بہتربنائیں , گھریلومسائل, روزمرہ زندگی کےمسائل, گھریلوٹوٹکے اسلامی واقعات, کریئر, کونساپیشہ منتخب کریں, نوجوانوں کے مسائل , بچوں کی اچھی تربیت, بچوں کے مسائل , معلومات میں اضافہ , ہمارا پاکستان, سیاسی سمجھ بوجھ, کالم , طنز و مزاح, دلچسپ سائینسی معلومات, کاروبار کیسے کریں ملازمت میں ترقی کریں, غذا سے علاج, زندگی کےمسائل کا حل قرآن سے, بہترین اردو ادب, سیاحت و تفریح, ستاروں کی چال , خواتین کے لیے , مرد حضرات کے لیے, بچوں کی کہانیاں, آپ بیتی , فلمی دنیا, کھیل ہی کھیل , ہمارا معاشرہ اور اس کی اصلاح, سماجی معلومات, حیرت انگیز , مزاحیہ


’’26پولیس کی ٹیمیں ،گھیرا تنک، 66چھاپے مگر پھر بھی خالی ہاتھ‘‘ موٹروے کیس کاماسٹر مائنڈ عابد علی شاطر نکلا ،پولیس ابھی تک اسے کیوں گرفتار نہ کر سکی ، ملزم کے کس کام نے پولیس کیلئے مزید مشکلات کھڑی کر دیں، تہلکہ خیز انکشاف

  بدھ‬‮ 16 ستمبر‬‮ 2020  |  20:54

آئی جی پولیس پنجاب انعام غنی نے موٹروے کیس کی تفتیش کرنے والے ایک سب انسپکٹر سے تفتیش کے اختیارات واپس لے لئے ہیں جبکہ آئی جی پولیس پنجاب نے کیس کی تفتیش کے لئے انسپکٹر رینک کے عہدے کے افسر ایس ایچ او پرانی انار کلی کو تفتیش سونپ دی ہے

یہ بھی بتایا گیا ہے کہ لاہور پولیس سانحہ موٹر وے کی تفتیش کو آٹھ روز مکمل ہوجانے کے باوجود سانحہ کے مرکزی ملزم عابد ملہی کا تاحال سراغ نہیں لگا سکی۔ کیس کی تفتیش کے سلسلے میں پولیس نے عابد ملہی کے جن 9

رشتہ داروں سمیت کیس کے تیسرے ملزم اقبال عرف بالا مستری اور شفقت کو حراست میں لیا تھا ان سے ملنے والی معلومات بھی اب تک پولیس کے کام نہیں آسکی۔ یہ بھی بتایا ہے کہ پولیس نے مقدمہ کے مرکزی کردار عابد ملہی کی گرفتاری کے لئے 66 چھاپے بھی مارے ہیں۔ لیکن ملزم ان چھاپوں کے دوران بھی کہی سے نہیں مل سکا جبکہ دوسری طرف ملزم عابد ملہی نے موبائل فون کا استعمال بھی بند کردیا ہے جس کے باعث پولیس کے لئے مزید مشکلات پیدا ہوگئی ہیں۔ مزید برآں پولیس نے حراست میں لئے جانے والے ایک مبینہ ملزم وقار الحسن کے برادر نسبتی عباس اور دو بھائیوں سلامت اور بوٹا کو چھوڑ دیا گیا تینوں کو شک کی بنیاد پر حراست میں لیا گیا تھا۔ ذرائع کے مطابق وقارالحسن بھی اس کیس کی ابتدائی تحقیقات میں ملوث نہیں پایا گیا تھا۔ اس مقدمے میں بے گناہی کے بعد ان کو ریلیز کردیا ہے۔


انٹرنیٹ کی دنیا سے ‎‎

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎