بہترین زندگی کے راز, اسپیشل نفسیاتی مسائل کا حل , اپنی صحت بہتربنائیں, اسلام اورہم, ترقی کےراز, عملی زندگی کےمسائل اورحل, تاریخ سےسیکھیئے, سماجی وخاندانی مسائل, ازدواجی زندگی بہتربنائیں , گھریلومسائل, روزمرہ زندگی کےمسائل, گھریلوٹوٹکے اسلامی واقعات, کریئر, کونساپیشہ منتخب کریں, نوجوانوں کے مسائل , بچوں کی اچھی تربیت, بچوں کے مسائل , معلومات میں اضافہ , ہمارا پاکستان, سیاسی سمجھ بوجھ, کالم , طنز و مزاح, دلچسپ سائینسی معلومات, کاروبار کیسے کریں ملازمت میں ترقی کریں, غذا سے علاج, زندگی کےمسائل کا حل قرآن سے, بہترین اردو ادب, سیاحت و تفریح, ستاروں کی چال , خواتین کے لیے , مرد حضرات کے لیے, بچوں کی کہانیاں, آپ بیتی , فلمی دنیا, کھیل ہی کھیل , ہمارا معاشرہ اور اس کی اصلاح, سماجی معلومات, حیرت انگیز , مزاحیہ


چین نہ ہی امریکہ ۔ دنیا میں خوف کرونا وائرس کہاں سے آیا،تحقیق کے بعد سائنسدانوں کا بڑا انکشاف

  جمعہ‬‮ 18 ستمبر‬‮ 2020  |  17:33

کرونا وائرس کے حوالے سے کی جانے والی تحقیق کے دوران سائنسدانوں نے دریافت کیا کہ کووڈ 19 کی وبا کا باعث بننے والا وائرس چمگادڑوں میں پایا جاتا تفصیلات کے مطابق جریدے میں شائع تحقیق میں امریکا، چین اور یورپ کے سائنسدانوں کی ٹیم نے کو وڈ 19 کا باعث بننے والے سارس کو وڈ 2 میں تبدیلیوں کا موازنہ دیگر وائرسز سے کیا اور

پھر متعلقہ وائرسز کی ارتقائی تاریخ کو تشکیل دیا۔تحقیق کے دوران سائنسدانوں نے دریافت کیا کہ کووڈ 19 کی وبا کا باعث بننے والا وائرس چمگادڑوں میں پایا جاتا ہے۔ محققین

نے کہا کہ ہمارے تجزیے میں اجتماعی طور پر چمگادڑوں کی جانب اشارہ کیا گیا جو اس وائرس کا بنیادی ماخذ ہے، ایسا ممکن ہے کہ پینگولین یا کسی اور جانور نے عارضی میزبان کی شکل میں اسے انسانوں میں منتقل کیا ہو۔سائنسدانوں نے کہا کہ موجودہ شواہد سے یہی عندیہ ملتا ہے کہ اس وائرس کا ارتقا چمگادڑوں میں ہوا، جو انسانوں اور پنگولینز کی اوپری نظام تنفس میں اپنی نقول بنا سکتا ہے۔محققین کا کہنا تھا کہ کرونا وائرس کا ارتقا اس پرندے میں پائے جانے والے دیگر وائرسز کے ساتھ 40 سے 70 سال قبل ہوا انہوں نے کہا چمگادڑوں میں یہ وائرس دہائیوں پہلے سے موجود تھا مگر اس کا علم پہلے نہیں ہوسکا۔درحقیقت تحقیقی ٹیم کا تو کہنا تھا کہ نوول کورونا وائرس کا ارتقا اس پرندے میں پائے جانے والے دیگر وائرسز کے ساتھ 40 سے 70 سال قبل ہوا۔انہوں نے کہا کہ چمگادڑوں میں یہ وائرس دہائیوں پہلے سے موجود تھا مگر اس کا علم پہلے نہیں ہوسکا۔سائنسدانوں نے اس بات پر زور دیا کہ چمگادڑوں کے بہتر نمونے وبائی جراثیموں کی شناخت اور مستقبل میں وبائی امراض کی روک تھام کے لیے بہت ضروری ہیں۔


انٹرنیٹ کی دنیا سے ‎‎

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎