بہترین زندگی کے راز, اسپیشل نفسیاتی مسائل کا حل , اپنی صحت بہتربنائیں, اسلام اورہم, ترقی کےراز, عملی زندگی کےمسائل اورحل, تاریخ سےسیکھیئے, سماجی وخاندانی مسائل, ازدواجی زندگی بہتربنائیں , گھریلومسائل, روزمرہ زندگی کےمسائل, گھریلوٹوٹکے اسلامی واقعات, کریئر, کونساپیشہ منتخب کریں, نوجوانوں کے مسائل , بچوں کی اچھی تربیت, بچوں کے مسائل , معلومات میں اضافہ , ہمارا پاکستان, سیاسی سمجھ بوجھ, کالم , طنز و مزاح, دلچسپ سائینسی معلومات, کاروبار کیسے کریں ملازمت میں ترقی کریں, غذا سے علاج, زندگی کےمسائل کا حل قرآن سے, بہترین اردو ادب, سیاحت و تفریح, ستاروں کی چال , خواتین کے لیے , مرد حضرات کے لیے, بچوں کی کہانیاں, آپ بیتی , فلمی دنیا, کھیل ہی کھیل , ہمارا معاشرہ اور اس کی اصلاح, سماجی معلومات, حیرت انگیز , مزاحیہ


اچھا تو اس وجہ سے گرفتاری نہیں ہو رہی تھی؟ تہلکہ مچ گیا

  ہفتہ‬‮ 19 ستمبر‬‮ 2020  |  13:23

سینئر صحافی نے عابد ملہی کے حوالے اہم انکشاف کردیا، نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انکا کہنا تھا تھا کہ کہ ایک نیوز بریک کردوں کے ملزم عابد کا تعلق ایک سیاسی جماعت سے ہے، اور بہت سرگرم کارکن ہے، اور عابد اسکے لیے الیکشن میں بھرپور کردار

ادا کرتا تھا۔رانا عظیم کے مطابق ان کی ہاؤسنگ سوسائٹیز ہیں،اور عابد ان سوسائٹیز میں لڑائی جھگڑا کرتا تھا، سات دن سے سنتے آرہے ہیں کہ عابد پر اور بھی کیسز ہیں اور رہا ہوجاتا تھا تو سیاسی پشت پناہی حاصل ہے جب ہی ایسا

ہوتا تھا۔رانا عظیم نے بتایا کہ متاثرہ خاتون پولیس کارروائی سے اب تک کافی مطمئن ہیں، لیکن خاتون نے عدالتوں کے چکر لگانے اور وقت دینے سے صاف منع کردیا ہے، اس لئے اب غور کیا جارہا ہے کہ اس کیس کا ٹرائل جیل میں کیا جائے،اور جب جیل میں ٹرائل کیا جائے گا تو یہ اینٹی ٹیرراِزم کورٹ میں چلا جائے گا جس پر سماعت جلدی ہوگی اور فیصلہ بھی جلدی آئے گا، یا پھر ایسا بھی نہیں ہوا تو متاثرہ خاتون کا بیان دفعہ ایک سو چونسٹھ کے تحت لے لیا جائے اور پھر کہا جائے کہ آپ جہاں جانا چاہتی ہیں جائیں، قانونی سقم پورے کرلئے

 جائیں گے۔رانا عظیم نے کہا پورے ملک میں چھاپے مارے جارہے ہیں، عابد کے رشتے داروں کوبھی گرفتار کرلیا ،لیکن سسٹم کی خرابی ہے اس لئے اب تک عابد کی گرفتاری عمل میں نہیں آسکی، اگر یہ سسٹم درست ہوتا تو کیا روزانہ سڑکوں پر لوٹ مار کرنے والے پکڑے نہیں جاتے، اور اگر یہ لوٹ مار کرنے والا گروہ پکڑا جاتا تو کیا سانحہ ہوتا؟ نہیں ہوتا لیکن مسئلہ یہ ہے کہ جب تک سیاسی بھرتیاں ہوتی رہیں گی نظام اسی طرح خراب رہے گا۔رانا عظیم نے کہا جب پیسے دے کر بھرتیاں ہونگی اور افسران کرائم روکنے کے بجائے کرمنلز سے پیسے لے کر کرائمز کرنے دینگے، جب آپ ڈیوٹی کے بجائے گھروں میں سو رہے ہوتے ہیں گشت نہیں کرتے تو نظام درست نہیں ہوتا۔ اگر نظام درست ہوتا وفاقی وزیراطلاعات فیاض چوہان ابشام کی جانب سے اریبہ کو ہراساں کرنے کے معاملے کا خود نوٹس نہیں لیتے، کتنے لوگ فیاض صاحب کے پاس عثمان بزدار کے پاس جائیں گے، جب تک انصاف نہیں ملے گا تو نظام ٹھیک نہیں ہوگا۔


انٹرنیٹ کی دنیا سے ‎‎

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎