بہترین زندگی کے راز, اسپیشل نفسیاتی مسائل کا حل , اپنی صحت بہتربنائیں, اسلام اورہم, ترقی کےراز, عملی زندگی کےمسائل اورحل, تاریخ سےسیکھیئے, سماجی وخاندانی مسائل, ازدواجی زندگی بہتربنائیں , گھریلومسائل, روزمرہ زندگی کےمسائل, گھریلوٹوٹکے اسلامی واقعات, کریئر, کونساپیشہ منتخب کریں, نوجوانوں کے مسائل , بچوں کی اچھی تربیت, بچوں کے مسائل , معلومات میں اضافہ , ہمارا پاکستان, سیاسی سمجھ بوجھ, کالم , طنز و مزاح, دلچسپ سائینسی معلومات, کاروبار کیسے کریں ملازمت میں ترقی کریں, غذا سے علاج, زندگی کےمسائل کا حل قرآن سے, بہترین اردو ادب, سیاحت و تفریح, ستاروں کی چال , خواتین کے لیے , مرد حضرات کے لیے, بچوں کی کہانیاں, آپ بیتی , فلمی دنیا, کھیل ہی کھیل , ہمارا معاشرہ اور اس کی اصلاح, سماجی معلومات, حیرت انگیز , مزاحیہ


بڑا سیاسی تہلکہ۔۔!! نواز شریف کی احمد نورانی کو رات گئے فون کال۔۔۔۔۔۔ فوج کیخلاف سازشیں کون کر رہا ہے؟ کچا چٹھا کھل کر سامنے آگیا

  پیر‬‮ 21 ستمبر‬‮ 2020  |  12:28

نواز شریف کی احمد نورانی کو فون کال ، جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ کے خلاف خبر پر سراہا۔ باوثوق ذرائع کے مطابق آج اے پی سی میں نواز شریف نے حسب عادت پاک فوج کے اداروں کے خلاف نفرت انگیز اورنفرت آمیز گفتگو کرنے سے باز نہیں آ رہے۔

ذرائع کے مطابق آج نواز شریف نے جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ کے خلاف خبریں پھیلانے پراحمد نورانی کی بڑی تعریف کی اور اس عمل کو بہت پسند کیا۔ ذرائع کے مطابق نواز شریف نے اپنی ویڈیو لنک تقریر میں اداروں کو بہت تنقید کا نشانہ بنایا

اور اداروں کے خلاف خبریں جاری کرنے والوں کی بہت زیادہ تعریف کر کے اپنی نفرت کا اعادہ کیا ہے۔ دوسری جانب لندن سے اے پی سی میں بذریعہ ویڈیو لنک شریک ہونے والے سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہمارا مقابلہ عمران سے نہیں ان کے لانے والوں سے ہے۔ اے پی سے جو بھی لائحہ عمل طے کرے گی مسلم لیگ (ن) اس کا بھرپور ساتھ دے گی۔ ایک سیکنڈ کے لیے بھی

پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ روایت سے ہٹ کر حقیقی تبدیلی کے لیے لائحہ عمل طے کریں۔ علاج کے لیے لندن روانگی کے بعد پہلی مرتبہ باضا بطہ کسی سیاسی سرگرمی میں حصہ لینے والے مسلم لیگ (ن) کے قائد نے کہا کہ اختیار چند لوگوں کو دے دینا بددیانتی ہے۔ الیکشن کے نتائج میں تبدیلی نہ ہوتی تو بیساکھیوں پر کھڑی حکومت وجود میں نہ آتی۔ دکھ کی بات ہے معاملہ ریاست سے اوپر تک پہنچ چکا ہے۔ ملک میں ہر ڈکیٹیٹر نےاوسط 9 سال حکومت کی۔ آئین پر عمل کرنےوالے کٹہرے میں کھڑے ہیں۔ عوام کی ووٹ سے جمہوری حکومت بننے پر ہاتھ پاؤں باندھ دئیے جاتے ہیں۔ ہماری تاریخ میں 33 سال کا عرصہ فوجی آمریت کی نذر ہو گیا۔


انٹرنیٹ کی دنیا سے ‎‎

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎