بہترین زندگی کے راز, اسپیشل نفسیاتی مسائل کا حل , اپنی صحت بہتربنائیں, اسلام اورہم, ترقی کےراز, عملی زندگی کےمسائل اورحل, تاریخ سےسیکھیئے, سماجی وخاندانی مسائل, ازدواجی زندگی بہتربنائیں , گھریلومسائل, روزمرہ زندگی کےمسائل, گھریلوٹوٹکے اسلامی واقعات, کریئر, کونساپیشہ منتخب کریں, نوجوانوں کے مسائل , بچوں کی اچھی تربیت, بچوں کے مسائل , معلومات میں اضافہ , ہمارا پاکستان, سیاسی سمجھ بوجھ, کالم , طنز و مزاح, دلچسپ سائینسی معلومات, کاروبار کیسے کریں ملازمت میں ترقی کریں, غذا سے علاج, زندگی کےمسائل کا حل قرآن سے, بہترین اردو ادب, سیاحت و تفریح, ستاروں کی چال , خواتین کے لیے , مرد حضرات کے لیے, بچوں کی کہانیاں, آپ بیتی , فلمی دنیا, کھیل ہی کھیل , ہمارا معاشرہ اور اس کی اصلاح, سماجی معلومات, حیرت انگیز , مزاحیہ


جب ڈولفن اہلکار خاتون کی مدد کے لیے پہنچے تو اس وقت ملزمان کہاں بیٹھے ہو ئے تھے؟ ایک اور پنڈوراباکس کھل گیا

  منگل‬‮ 22 ستمبر‬‮ 2020  |  21:23

سانحۃ رنگ روڈ، مزید حقائق سامنے آئے ہیں۔بتایا گیا ہے جب ڈولفن اہلکار خاتون کی مدد کے لیے پہنچے تو اس وقت بھی ملزمان خاتون کے پاس موجود تھے۔ذرائع کے مطابق یہ واقعہ 20 سے 25 منٹ کے اندر ہوا۔دونوں درندے بچوں اور عورت کو جنگل میں لے جانے کی کوشش میں ہوتے ہیں کہ اسی اثناء میں ڈولفن فورس

کے چار اہلکار انہیں گاڑی کے پاس نظر آتے ہیں جس پر شفقت عابد کو کہتا ہے یہاں سے بھاگ نکلیں۔جس پر دونوں ملزمان عورت کو کہتے ہیں کہ ہم پاس ہی موجود ہیں اگر تم نے

شور مچایا تو تمہارے بچوں کو گولی مار دیں گے۔ جس پر مظلوم عورت اپنے بچوں کو پکڑ کر سہم کر بیٹھ جاتی ہے اور یہ وہاں سے دور جنگل میں جا کر چھپ جاتے ہیں۔ذرائع کے مطابق یہ اتنے فاصلے پر ہوتے ہیں کہ انہیں پولیس کے نیچے آنے سے لے کر نشانہ بننے والی عورت اور بچوں کے اوپر جانے تک سب کچھ دیکھتے ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اس کے بعد دو تین گھنٹوں تک یہ دونوں درندے اسی علاقے میں رہتے ہیں۔اس کے بعد یہ دونوں قلعہ ستار شاہ کے علاقہ لوٹو پورہ میں چلے

جاتے ہیں جہاں عابد علی اپنے گھر اور شفقت کچھ دیر وہاں رہنے کے بعد اوکاڑہ چلا جاتا ہے۔سانحہ رنگ روڈ کیس کیس میں آئی جی پنجاب انعام غنی نے مرکزی ملزم عابد علی ملہی کی گرفتاری کیلئے تمام اضلاع میں ریپڈ رسپانس فورس تشکیل دے دی ، ہرشہر میں ایک پولیس کی گاڑی ایک اے ایس آئی اور 4 کانسٹیبلز24 گھنٹے ڈیوٹی پر موجود ہونگے ۔بتایا گیا ہے کہ آئی جی پنجاب انعام غنی کی طرف سے نے کیس میں مرکزی ملزم کی گرفتاری کیلئے تمام اضلاع میں ریپڈ رسپانس فورس تشکیل دے دی گئی ہے جو ڈی آئی جی انویسٹی گیشن لاہور کورپورٹ کرے گی ، نئی فورس کے تحت صوبے کے تمام اضلاع میں پولیس ایک گاڑی، 4 کانسٹیبلز اور ایک اے ایس آئی انچارج کے طور پر ڈیوٹی پر موجود ہوگا ، اس سلسلے میں تمام انچارجز کے موبائل فون نمبروں پر مشتمل ایک گروپ بھی بنایا گیا ہے تاکہ اطلاع ملنے پر فوری کارروائی عمل میں لائی جاسکے ۔


انٹرنیٹ کی دنیا سے ‎‎

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎