بہترین زندگی کے راز, اسپیشل نفسیاتی مسائل کا حل , اپنی صحت بہتربنائیں, اسلام اورہم, ترقی کےراز, عملی زندگی کےمسائل اورحل, تاریخ سےسیکھیئے, سماجی وخاندانی مسائل, ازدواجی زندگی بہتربنائیں , گھریلومسائل, روزمرہ زندگی کےمسائل, گھریلوٹوٹکے اسلامی واقعات, کریئر, کونساپیشہ منتخب کریں, نوجوانوں کے مسائل , بچوں کی اچھی تربیت, بچوں کے مسائل , معلومات میں اضافہ , ہمارا پاکستان, سیاسی سمجھ بوجھ, کالم , طنز و مزاح, دلچسپ سائینسی معلومات, کاروبار کیسے کریں ملازمت میں ترقی کریں, غذا سے علاج, زندگی کےمسائل کا حل قرآن سے, بہترین اردو ادب, سیاحت و تفریح, ستاروں کی چال , خواتین کے لیے , مرد حضرات کے لیے, بچوں کی کہانیاں, آپ بیتی , فلمی دنیا, کھیل ہی کھیل , ہمارا معاشرہ اور اس کی اصلاح, سماجی معلومات, حیرت انگیز , مزاحیہ


سعودی عرب میں مقیم پاکستانیوں کیلئے بُری خبر مزید اہم شعبوں سے ہزاروں پاکستانیوں کو فارغ کردیا گیا

  بدھ‬‮ 23 ستمبر‬‮ 2020  |  18:48

سعودی عرب میں گزشتہ دو سال کے دوران مقامی آبادی کو روزگار دلانے کے لیے لاکھوں غیرملکی کی ملازمتیں ختم کر کے انہیں مملکت سے واپس بھیج دیا گیا ہے۔ چونکہ سعودی عرب میں سب سے زیادہ غیر ملکی ملازمین پاکستانی ہیں اس لیے سعودائزیشن کے نتیجے میں سب سے زیادہ وہی بے روزگار ہوئے ہیں۔ سعودی حکومت کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ

بیشتر سعودی شہروں میں جیولرز شاپ، رینٹ اے کار، زنانہ ملبوسات، موبائل شاپس اور آٹو سپیئر پارٹس میں پاکستانیوں اور دیگر تارکین کی جگہ مقامی افراد بھرتی کر لیے گئے ہیں۔ ان شعبوں

میں پہلے سعودیوں کی گنتی بمشکل 20فیصد تھی تاہم اب یہ گنتی 95 فیصد تک جا پہنچی ہے۔ سعودی وزارت برائے افرادی قوت و سماجی بہبود کے مطابق سعودائزیشن پر عمل درآمد کے لیے مختلف تجارتی مراکز اور دُکانوں پر چھاپے ما رہے ہیں جس کی وجہ سے سعودائزیشن کی شرح میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ خصوصاً الخرج، وادی الدواسر، الافلاج، المجمعہ، الدوادمی، شقرا، الزلفی، حوطہ سدیر، حوطہ بنی تمیم اور الغاط کمشنریوں میں مخصوص شعبوں میں سعودائزیشن کی شرح 95 فیصد سے بھی زیادہ بڑھ گئی۔

واضح رہے کہ سعودی حکومت کی جانب سے مقامی افراد کی بڑی گنتی کو برسرروز گار کرنے کے لیے ایک اور فیصلہ عنقریب لیا جا رہا ہے جس کے بعد نجی اداروں میں بڑے عہدوں پر فائز مزید ہزاروں تارکین بھی نوکریوں سے فارغ ہو جائیں گے جن میں پاکستانیوں کی بھی بڑی گنتی شامل ہو گی۔ عنقریب نجی اداروں میں 75 فیصد کلیدی اسامیاں سعودیوں کے لیے مخصوص کر دی جائیں گی۔ سعودی عرب میں اعلیٰ تعلیم یافتہ بے روزگاروں میں اچھے عہدوں کی ملازمتیں نہ ہونے پر مایوسی بڑھ رہی ہے جس کے باعث فیصلہ کیا گیا ہے کہ نجی شعبوں میں کلیدی عہدوں پر 75 فیصد سعودیوں کو تعینات کیا جائے گا۔ واضح رہے کہ سعودی وزارت افرادی قوت و سماجی بہبود کی جانب سے بقالوں (جنرل سٹورز و کریانہ شاپس) میں سعودائزیشن کی پالیسی نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ جس کے تحت ان جنرل سٹورز میں غیر ملکی ملازمین کی تعداد گھٹا کر ان کی جگہ بڑی تعداد میں مقامی افراد کو نوکریاں دلوائی جائیں گی۔ وزارت کی جانب سے بقالوں میں 70 فیصد سعودائزیشن کا اعلان کیا گیا ہے۔ اگلے چند ماہ کے دوران جنرل سٹورز پر غیر ملکی ملازمین کی تعداد کم کرنے کے لیے ایک پالیسی

تیار کر لی گئی ہے،

جس پر تیزی سے عمل درآمد کروایا جا رہا ہے۔ سعودائزیشن پروگرام کے مطابق دوسرے مرحلے میں جن 9 شعبوں میں 70 فیصد سعودائزیشن کے احکامات صادر کیے گئے ہیں ان میں چائے، قہوہ ، شہد ، چینی اور مسالے، پانی و مشروبات، سبزیاں پھل اور کھجور، پھول پودے اور زراعتی اشیا، سٹیشنری کی دکانیں و بک سٹورز، گفٹ شاپس اور دستکاری کا سامان فروخت کرنے والی دکانیں، بچوں کے کھلونوں کی دکانیں، گوشت ، مچھلی ، پنیر اور انڈے ، نباتاتی تیل فروخت کرنے والے ، پلاسٹک کی مصنوعات اور صفائی کی اشیا، ہول سیل اور ریٹیل میں فروخت کرنے والا شعبہ شامل ہے۔


انٹرنیٹ کی دنیا سے ‎‎

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎