بہترین زندگی کے راز, اسپیشل نفسیاتی مسائل کا حل , اپنی صحت بہتربنائیں, اسلام اورہم, ترقی کےراز, عملی زندگی کےمسائل اورحل, تاریخ سےسیکھیئے, سماجی وخاندانی مسائل, ازدواجی زندگی بہتربنائیں , گھریلومسائل, روزمرہ زندگی کےمسائل, گھریلوٹوٹکے اسلامی واقعات, کریئر, کونساپیشہ منتخب کریں, نوجوانوں کے مسائل , بچوں کی اچھی تربیت, بچوں کے مسائل , معلومات میں اضافہ , ہمارا پاکستان, سیاسی سمجھ بوجھ, کالم , طنز و مزاح, دلچسپ سائینسی معلومات, کاروبار کیسے کریں ملازمت میں ترقی کریں, غذا سے علاج, زندگی کےمسائل کا حل قرآن سے, بہترین اردو ادب, سیاحت و تفریح, ستاروں کی چال , خواتین کے لیے , مرد حضرات کے لیے, بچوں کی کہانیاں, آپ بیتی , فلمی دنیا, کھیل ہی کھیل , ہمارا معاشرہ اور اس کی اصلاح, سماجی معلومات, حیرت انگیز , مزاحیہ


خبردار! آئندہ آنے والے پانچ سال انتہائی اہم ، زمین پر کونسی تبدیلی رونما ہو گی ، چونکا دینے والی پیش گوئی

  پیر‬‮ 19 اکتوبر‬‮ 2020  |  21:32

اقوامِ متحدہ کے عالمی ادارہ برائے موسمیات (ڈبلیو ایم او) نے امکان ظاہر کیا ہے کہ آئندہ پانچ سال حالیہ تاریخ کے گرم ترین سال ثابت ہوں گے، اس دوران عالمی درجہ حرارت “پری انڈسٹریل دور” کے مقابلہ میں کم از کم ایک ڈگری سینٹی گریڈ سے بڑھ جائے گا۔

قومی موقر نامے کی رپورٹ کے مطابق پری انڈسٹریل دور 1850ء سے 1900ء کے درمیانی عرصہ کو کہا جاتا ہے جب دنیا میں صنعتی سرگرمیوں کا صحیح معنوں میں آغاز بھی نہیں ہوا تھا جبکہ موسم اور درجہ حرارت پر ان کے اثرات نہ ہونے کے برابر

تھے۔عالمی ادارہ کے مطابق آئندہ پانچ سالوں کے دوران مغربی یورپ میں مزید طوفان آئیں گے جب کہ سال 2020ء کے دوران جنوبی امریکہ، جنوبی افریقہ اور آسٹریلیا کے متعدد حصے زیادہ تر خشک موسم کی لپیٹ میں رہیں گے۔

پیش گوئی کے مطابق آئندہ پانچ سال کے دوران 20 فی صد امکانات ہیں کہ عالمی درجہ حرارت کسی ایک سال میں پری انڈسٹریل دور کی اوسط سے کم از کم 1.5 سینٹی گریڈ تک زیادہ ہو گا۔ واضح رہے کہ اقوام متحدہ کے ذیلی ادارہ ورلڈ میٹرولوجیکل آرگنائزیشن کے رکن ممالک کی تعداد 193 ہے۔ ڈبلیو ایم او کے مطابق گزشتہ پانچ سال کے دوران درجہ حرارت میں واضح اضافہ ہوا ہے اور ریکارڈ کے مطابق گزشتہ پانچ سال دنیا کے گرم ترین سال تھے لیکن 2020ء تا 2024ء کی پانچ سالہ مدت کے دوران عالمی درجہ حرارت نئی بلندیوں تک پہنچ جائے گا۔

ورلڈ میٹرولوجیکل آرگنائزیشن کے سیکریٹری جنرل پیٹیری تالاس نے اس حوالہ سے کہا ہے کہ کاربن ڈائی آکسائیڈ فضا میں دیر تک موجود رہتی ہے اس لیے رواں سال کورونا وائرس کے باعث معاشی اور صنعتی سرگرمیاں بند ہونے کے باوجود عالمی درجہ حرارت پر اس کے مثبت اثرات کے امکانات کم ہیں۔ رپورٹ کے مطابق زمین کا اوسط عالمی درجہ حرارت پری انڈسٹریل دور سے ایک سینٹی گریڈ بڑھ چکا ہے اور آئندہ پانچ سال کے دوران 1.5 سینٹی گریڈ تک پہنچ سکتا ہے۔


انٹرنیٹ کی دنیا سے ‎‎

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎