بہترین زندگی کے راز, اسپیشل نفسیاتی مسائل کا حل , اپنی صحت بہتربنائیں, اسلام اورہم, ترقی کےراز, عملی زندگی کےمسائل اورحل, تاریخ سےسیکھیئے, سماجی وخاندانی مسائل, ازدواجی زندگی بہتربنائیں , گھریلومسائل, روزمرہ زندگی کےمسائل, گھریلوٹوٹکے اسلامی واقعات, کریئر, کونساپیشہ منتخب کریں, نوجوانوں کے مسائل , بچوں کی اچھی تربیت, بچوں کے مسائل , معلومات میں اضافہ , ہمارا پاکستان, سیاسی سمجھ بوجھ, کالم , طنز و مزاح, دلچسپ سائینسی معلومات, کاروبار کیسے کریں ملازمت میں ترقی کریں, غذا سے علاج, زندگی کےمسائل کا حل قرآن سے, بہترین اردو ادب, سیاحت و تفریح, ستاروں کی چال , خواتین کے لیے , مرد حضرات کے لیے, بچوں کی کہانیاں, آپ بیتی , فلمی دنیا, کھیل ہی کھیل , ہمارا معاشرہ اور اس کی اصلاح, سماجی معلومات, حیرت انگیز , مزاحیہ


اتحادیوں میں اضافہ۔۔!! پاکستان کے ایک اور قریبی دوست اسلامی ملک نے اسرائیل کو تسلیم کرلیا

  پیر‬‮ 19 اکتوبر‬‮ 2020  |  21:50

مشرق وسطیٰ کے ایک اور اہم ملک بحرین اور اسرائیل کے درمیان معاہدہ ہو گیا ہے جس کے بعد وہ یہودی ریاست کو تسلیم کرنے والا چوتھا ملک بن گیا ہے۔ یہ معاہدہ امریکا کے زیر سرپرستی منامہ میں ہوا۔ اس تاریخی معاہدے کی تقریب گزشتہ رات بحرین کے دارالحکومت منامہ میں منعقد ہوئی،

جس میں بحرین اور اسرائیلی حکام نے مکمل سفارتی تعلقات کی بحالی کا اعلان کیا۔ خیال رہے کہ بحرین سے قبل متحدہ عرب امارات (یو اے ای)، مصر اور اُردن اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کر چکے ہیں۔ بحرین اب مشرق وسطیٰ

کا چوتھا ملک بن گیا ہے جس نے اسرائیل کو باقاعدہ طور پر تسلیم کر لیا ہے۔ تاہم سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات معمول پر لانے کی مخالفت کی ہے۔ اس موقع پر بحرین کے وزیر خارجہ عبدالعاطف بن راشد الزیانی نے اپنے خطاب میں کہا کہ انھیں امید ہے کہ دونوں ملک ہر شعبے میں تعاون کریں گے۔ انہوں نے فلسطین کے مسئلے کا دو ریاستی حل تجویز کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

ادھر فلسطینی رہنمائوں نے متحدہ عرب امارات اور بحرین کی جانب سے ایسے معاہدوں کی سخت مخالفت کی ہے۔ فلسطینی قیادت نے متنبہ کیا ہے کہ ان اقدامات سے فلسطینی عوام کے قومی حقوق اور عرب ممالک کو خطرہ لاحق رہے گا۔ اس سے قبل بحرین کے وزیر خارجہ نے اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے مابین ‘ابراہیم معاہدے’ پر دستخط کے دوران امریکہ کا دورہ کیا تھا۔ تعلقات کو معمول پر لانے کے علاوہ اس معاہدے سے مختلف معاملات پر دوطرفہ تعاون کو وسعت ملتی ہے۔

اس معاہدے میں دونوں ممالک کے درمیان رسمی اور سفارتی تعلقات پر زیادہ توجہ دی گئی ہے۔ معاہدے میں اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف اسلحے کی پابندیاں اٹھانے پر اتفاق کیا گیا۔ واضح رہے کہ جی سی سی، عرب لیگ، بیشتر عرب ریاستوں اور اسرائیل نے بارہا ان پابندیوں کے خاتمے اور اس خطے کو درپیش خطرات کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا ہے۔ دونوں فریقین آئندہ مہینوں میں ایک سفارت خانہ کھولنے کے لیے بات چیت کر رہے ہیں جبکہ

بحرینی حکام نے امریکی اور اسرائیلی وفد کے دورے کو ‘ تاریخی’ قرار دیتے ہوئے دو طرفہ مذاکرات کو نتیجہ خیز قرار دیا ہے۔ اگرچہ متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے مابین یہ معاہدہ مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے، تاہم بحرین بھی خطے میں تناؤ

کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ یہ رپورٹس بھی سامنے آرہی ہیں کہ سوڈان نے بھی اسرائیل کے ساتھ باضابطہ تعلقات استوار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔


انٹرنیٹ کی دنیا سے ‎‎

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎