بہترین زندگی کے راز, اسپیشل نفسیاتی مسائل کا حل , اپنی صحت بہتربنائیں, اسلام اورہم, ترقی کےراز, عملی زندگی کےمسائل اورحل, تاریخ سےسیکھیئے, سماجی وخاندانی مسائل, ازدواجی زندگی بہتربنائیں , گھریلومسائل, روزمرہ زندگی کےمسائل, گھریلوٹوٹکے اسلامی واقعات, کریئر, کونساپیشہ منتخب کریں, نوجوانوں کے مسائل , بچوں کی اچھی تربیت, بچوں کے مسائل , معلومات میں اضافہ , ہمارا پاکستان, سیاسی سمجھ بوجھ, کالم , طنز و مزاح, دلچسپ سائینسی معلومات, کاروبار کیسے کریں ملازمت میں ترقی کریں, غذا سے علاج, زندگی کےمسائل کا حل قرآن سے, بہترین اردو ادب, سیاحت و تفریح, ستاروں کی چال , خواتین کے لیے , مرد حضرات کے لیے, بچوں کی کہانیاں, آپ بیتی , فلمی دنیا, کھیل ہی کھیل , ہمارا معاشرہ اور اس کی اصلاح, سماجی معلومات, حیرت انگیز , مزاحیہ


جیل حکام نے لاہور سیالکوٹ موٹر وے کیس کے مرکزی ملزم عابد علی ملہی کی بڑی خواہش پوری کردی

  منگل‬‮ 24 ‬‮نومبر‬‮ 2020  |  15:33

لاہور سیالکوٹ موٹروے کیس کے مرکزی ملزم عابد علی ملہی کی کیمپ جیل میں فیملی سے پہلی ملاقات کروا دی گئی، جیل عملے کی موجودگی میں ملاقات 20 منٹ جاری رہی۔نجی ٹی وی کے مطابق عابد ملہی کی فیملی سے ملاقات کی

درخواست پر عملدرآمدکروادیا گیا ہے۔ عابد ملہی سے بیوی ابیٹی اور والدہ کی کیمپ جیل میں ملاقات کروائی گئی ہے۔ ملزم نے شناخت پریڈ کے دوران بیٹی اور بیوی اور ساتھی ملزم سے ملاقات کی اعلیٰ حکام سے درخواست کی تھی جس پر جیل کے اعلیٰ حکام کی جانب سے عابد ملہی سے بیٹی ،

بیوی اور والدہ کوملاقات کی اجازت دی گئی جبکہ ساتھی سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔ عابد ملہی سی کلاس جیل میں عملے کی موجودگی میں ملاقات کروائی گئی۔ عابد ملہی کیمپ جیل لاہور کی چکی میں تنہا بند ہے۔ملزم کا کہنا ہے کہ وہ ایک ماہ تک ڈرا سہما رہا۔لگتا تھا کہ ہر فرد پولیس والا ہے اور سے پہچانتے ہی مار دے گا۔ملزم نے مزید کہا کہ گرفتاری کے بعد پہلی بار اچھی طرح سویا ہوںاور ایک ماہ بعد پیٹ بھر کر کھانا کھایا ہے اور سکھ کی نیند سویا ہوں۔عابد نے مزید کہا کہ اس سے قبل مسلسل بے چین اور خوف زدہ رہا۔گرفتاری سے قبل والدین سے ملنا چاہتا تھا ۔یہ خواہش پوری ہو گئی۔گرفتاری کے بعد خود کو محفوظ سمجھنے لگا ہوں۔

جب کہ عدالت جو بھی سزا دے گی قبول کروں گا۔ ملزم کو شناخت پریڈ ہونے تک فیملی سے ملاقات کی اجازت نہیں ہو گی۔واضح رہے کہ لاہور موٹر وے پر خاتون کی آبرو ریزی کے مرتکب مرکزی ملزم عابد ملہی کو واقعے کے 33 دن بعد دو روز قبل فیصل آباد کے علاقے مانگامنڈی

سے گرفتار کیاگیا تھا۔عابد کی گرفتاری سے متعلق مختلف قسم کے دعوے سامنے آ رہے ہیں۔پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم کو ہم نے اپنی انتھک محنت سے گرفتار کیا ہے جب کہ ملزم کے والدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے خود بیٹے کو پولیس کے حوالے کیا۔عابد ملہی کے والد کا بتانا ہے کہ

بیٹے نے جب رابطہ کیا تو اسے گھر آنے کیلئے کہا۔ جب بیٹا گھر آیا تو وہاں موجود پولیس اہلکار بے خبر موبائل پر ویڈیو دیکھنے میں مصروف تھے۔گھر آنے پر بیٹے کو تبدیل کرنے کیلئے کپڑے اور چادر دی اور اسے ایک طرف لے گیا۔ مجھے خدشہ تھا کہ اگر پکڑنے کی کوشش کی

تو وہ

بھاگ جائے گا۔ اس پر عابد نے کہا کہ ابا جی میں اس لیے گرفتاری نہیں دیتا تھا کیوںکہ یہ مجھے مار دیتے۔ صرف آپ کی یقین دہانی کروانے پر گرفتاری دینے کیلئے گھر آیا۔ اس موقع پر علاقے کا بااثر شخص خالد بٹ گھر آ گیا اور پھر کچھ دیر بعد اپنی گاڑی میں بٹھا کر عابد کو پولیس کے پاس گیا۔


انٹرنیٹ کی دنیا سے ‎‎

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎