بہترین زندگی کے راز, اسپیشل نفسیاتی مسائل کا حل , اپنی صحت بہتربنائیں, اسلام اورہم, ترقی کےراز, عملی زندگی کےمسائل اورحل, تاریخ سےسیکھیئے, سماجی وخاندانی مسائل, ازدواجی زندگی بہتربنائیں , گھریلومسائل, روزمرہ زندگی کےمسائل, گھریلوٹوٹکے اسلامی واقعات, کریئر, کونساپیشہ منتخب کریں, نوجوانوں کے مسائل , بچوں کی اچھی تربیت, بچوں کے مسائل , معلومات میں اضافہ , ہمارا پاکستان, سیاسی سمجھ بوجھ, کالم , طنز و مزاح, دلچسپ سائینسی معلومات, کاروبار کیسے کریں ملازمت میں ترقی کریں, غذا سے علاج, زندگی کےمسائل کا حل قرآن سے, بہترین اردو ادب, سیاحت و تفریح, ستاروں کی چال , خواتین کے لیے , مرد حضرات کے لیے, بچوں کی کہانیاں, آپ بیتی , فلمی دنیا, کھیل ہی کھیل , ہمارا معاشرہ اور اس کی اصلاح, سماجی معلومات, حیرت انگیز , مزاحیہ


اس کی قبر پر چھ فٹ موٹی کنکریٹ کی تہہ کیوں ڈالی گئی؟ایک انتہائی دلچسپ واقعہ‎دنیا کو ہنسانے والے چارلی چپلن کے ساتھ مرنے کے بعد کیا ہوا؟

  منگل‬‮ 27 فروری‬‮ 2018  |  12:33

دنیا کے پہلے ہر دل عزیز عالمی شہرت یافتہ سٹار چارلی چپلن کی شاندار صحت انکی آخری فلم ’’اے کاؤنٹیس فرام ہانگ کانگ‘‘کی تکمیل کے بعد 1960 ء کی دہائی کے اواخر میں گرنے لگی، اور 1972ء میں انھیں اکیڈمی ایوارڈ ملنے کے بعد اس میں تیزی آگئی اور 1977ء تک انہیں

اس پوسٹ کہ بعد اگلی پوسٹ یہ والی ہےبولنے اور چلنے پھرنے میں مشکل ہونے لگی اور انہوں نے وہیل چیئر کا استعمال شروع کردیا۔اپنی عمر کے آخری ایام انہوں نے سوئٹزرلینڈ میں جنیوا لیک کے کنارے گزارے۔ 25 دسمبر کو پوری دنیا میں موجود

گزارے۔ 25 دسمبر کو پوری دنیا میں موجود مسیحی برادری جب کرسمس کی خوشیاں منا رہی تھیں۔ بدقسمتی سے اسی دن ہی اس عظیم فنکار کا بلاوا آگیا۔ کرسمس کے موقع پر جب چارلی چپلن کے بستر مرگ کے قریب بیٹھے پادری نے انھیں حوصلہ دیا اور کہا کہ خداوند آپ کی روح پر رحم فرمائے۔ تو اس پر چپلن نے جواب دیا جو ان کے آخری الفاظ بھی تھے’’کیوں نہیں یہ روح اسی کی تو ہے‘‘۔1977ء میں کرسمس کے موقع پر اْن کے انتقال کی خبر نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا۔ دنیا

بھر میں کرسمس کی خوشی غم میں تبدیل ہوگئی۔ چارلی چپلن کو کورسیئر سر ویوی قبرستان، واؤڈ ، سوئٹزرلینڈ میں دفن کیا گیا۔ ابھی چارلی چپلن کو گزرے تین مہینے ہی گزرے تھے اور چارلی چپلن کے جانے کا غم انکےمداحوں کے لیے ابھی تازہ ہی تھا کہ انہیں ایک اور ناقابل برداشت بری خبر کا سامنا کرنا پڑا۔یکم مارچ 1978 کو سوئٹزرلینڈ میں جنیوا لیک کے مقام پر اغوا کی ایک واردات عمل میں آئی۔ سویس کاریگروں کے ایک گروہ سے تعلق کھنے والے دو اغواکاروں نے جو کہ ان دنوں بیروزگار تھے انہوں نے ایک منصوبے کے تحت دنیا کی مشہور ترین لاش چرا لی، اور وہ لاش چارلی چپلن کی تھی۔اغواکار چوروں نے ان کے خاندان سے ناجائز طور پر رقم ہتھیانے کے لیے لاش چرائی تھیں۔ جو کہ واپس کرنے کے بدلے میں انہوں نے چھ لاکھ سوئس فرانک طلب کیے تھے۔ یہ صورت حال اتنی مضحکہ خیز تھی کہ اْن کی کسی فلم کا حصہ معلوم ہوتی تھی لیکن پولیس کی مسلسل کوششوں سے یہ سازش ناکام ہوگئی چارلی چپلن کو 11 ہفتوں کے بعد جھیل جنیوا کے قریب سے برآمد کرلیا گیا۔ اور چوروں کو گرفتار کرلیا گیا۔ اور پھر چارلی چپلن کی لاش کو دوسری جگہ گہری

قبر میں دفنایا گیا تھا۔ اور قبر پر چھ فٹ موٹی کنکریٹ کی تہہ ڈال دی گئی تاکہ مستقبل میں کوئی دوبارہ ایسی کوشش نہ کرے۔

اگرآپ ہر وقت تھکاوٹ کا شکار رہتے ہیں تو اس کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں لیکن ماہرین کے نزدیک تھکاوٹ کی 7 بڑی وجوہات ہیں جن پر قابو پاکر تازگی اور چستی حاصل کی جاسکتی ہے۔اگر آپ شکر کا بہت زیادہ استعمال کرتے ہیں تو نہ صرف وہ شکر بلکہ سفید بریڈ، چاول اور چپس وغیرہ کی مٹھاس

بھی آپ کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہے۔نیند نہ صرف جسم کی ٹوٹ پھوٹ کو درست کرتی ہے بلکہ دماغ کے افعال کو منظم رکھنے کے لیے بھی بہت ضروری ہے اسی لیے اپنی نیند کا جائزہ لیجئے کہ وہ آپ کے لیے کتنی ضروری ہے اور ساتھ ہی ورزش کو بھی اپنا معمول بنائیے کیونکہ چست اور توانا رہنے کے لیے اس سے بہتر کوئی شے نہیں۔صبح کا ناشتہ دن بھر کی مشقت کے لیے توانائی فراہم کرتا ہے اس کے بغیر بدن کو توانائی نہیں ملتی اور دن بھر تھکاوٹ کا احساس طاری رہتا ہے یہی وجہ ہے کہ توانا اور چست رہنے کے لیے ناشتہ اطمینان اور متوازن خوراک کے ساتھ کرنا چاہیے۔طویل دورانیے تک بیٹھے رہنا صحت کےلیے بہت مضر ہوتا ہے مثلاً ایک گھنٹے تک بیٹھنے سے دل پر اثر پڑتا ہے اور ساتھ ہی خون کا دورانیہ بھی سست پڑتا ہے جب کہ جسم میں آکسیجن بھی کم ہوتی ہے اسی لیے لیے تھوڑی دیر کرسی چھوڑ کر چہل قدمی کرنا بہتر ہوتا ہے اس سے نہ کہ ا?پ تھکاوٹ کے احساس سے بچ پائیں گے۔

اگرآپ کیفین کا زیادہ استعمال کرتے ہیں تو یہ بھی تھکاوٹ اورکاہلی کی ایک وجہ ہے کیونکہ کافی اور سافٹ ڈرنکس وغیرہ کا استعمال آپ میں وقتی چستی تو پیدا کرتا ہے لیکن اس کی زیادتی انسان کو سست بھی بناسکتی ہے۔ پانی انسانی صحت کے لیے بنیادی چیز ہے اس سے آپ کی فعالیت اور تازگی برقراررہتی ہے جب کہ اس کی تھوڑی سی کمی بھی توانائی اورتوجہ پرمتاثر ہوتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پانی کا زیادہ سے زیادہ استعمال آپ کو توانا رکھتا ہے، اسی لیے ہر گھنٹے بعد ایک گلاس پانی ضرور پینا چاہئے۔چلنے پھرنے اور اٹھنے بیٹھنے کے انداز بھی باڈی لینگویج پر اثرانداز ہوتے ہیں جس سے آپ پر تھکاوٹ طاری ہوتی ہے اسی لیے اگر آپ کندھے سکیڑ کر دھیرے دھیرے چل رہے ہیں تو یہ نہ صرف تھکاوٹ بلکہ پریشانی کو بھی ظاہر کرتا ہے۔ چلتے وقت اپنا انداز باوقار رکھیے اس سے آپ تھکاوٹ کا شکار ہونے سے بھی بچ سکیں گے جب کہ خود کو توانا بھی محسوس کریں۔


انٹرنیٹ کی دنیا سے ‎‎

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎