بہترین زندگی کے راز, اسپیشل نفسیاتی مسائل کا حل , اپنی صحت بہتربنائیں, اسلام اورہم, ترقی کےراز, عملی زندگی کےمسائل اورحل, تاریخ سےسیکھیئے, سماجی وخاندانی مسائل, ازدواجی زندگی بہتربنائیں , گھریلومسائل, روزمرہ زندگی کےمسائل, گھریلوٹوٹکے اسلامی واقعات, کریئر, کونساپیشہ منتخب کریں, نوجوانوں کے مسائل , بچوں کی اچھی تربیت, بچوں کے مسائل , معلومات میں اضافہ , ہمارا پاکستان, سیاسی سمجھ بوجھ, کالم , طنز و مزاح, دلچسپ سائینسی معلومات, کاروبار کیسے کریں ملازمت میں ترقی کریں, غذا سے علاج, زندگی کےمسائل کا حل قرآن سے, بہترین اردو ادب, سیاحت و تفریح, ستاروں کی چال , خواتین کے لیے , مرد حضرات کے لیے, بچوں کی کہانیاں, آپ بیتی , فلمی دنیا, کھیل ہی کھیل , ہمارا معاشرہ اور اس کی اصلاح, سماجی معلومات, حیرت انگیز , مزاحیہ


منٹو

  پیر‬‮ 2 اپریل‬‮ 2018  |  16:53

ﺟﺐ ﻣﻨﭩﻮ ﭘﺮ ان ﮐﯽ ﮐﺘﺎﺑﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻓﺤﺎﺷﯽ ﮐﺎ ﻣﺘﻦ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﯽ ﺑﻨﺎ ﭘﺮ ﻣﻘﺪﻣﮧ ﭼﻼ ﺗﻮ ﺳﺮﮐﺎﺭﯼ ﮔﻮﺍﮨﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﻋﻤﺮ ﺭﺳﯿﺪﮦ ﮨﻨﺪﻭ ﺍﺧﺒﺎﺭ ﻧﻮﯾﺲ ﺗﮭﮯ، ﺟﻮ ﺭﻭﺯﺍﻧﮧ ﺍﺧﺒﺎﺭ "ﭘﺮﺑﮭﺎﺕ " ( ﻻﮬﻮﺭ ) ﮐﮯ ﺍﯾﮉﯾﭩﺮ ﺗﮭﮯ۔

ﺍﻥ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﻧﺎﻧﮏ ﭼﻨﺪ ﻧﺎﺯؔ ﺗﮭﺎ۔ ﺟﺐ ﻣﻨﭩﻮ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﻭﮐﯿﻞ ﻧﮯ ﺟﺮﺡ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﯽ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺳﭩﭙﭩﺎ ﮔﺌﮯ۔ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﻣﻨﭩﻮ ﮐﯽ ﺩﻭ ﮐﺘﺎﺑﯿﮟ ﭘﮑﮍﺍ ﺩﯼ ﮔﺌﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ ﮔﯿﺎ ﮐﮧ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﻓﺤﺶ ﺍﻟﻔﺎﻅ ﻧﮑﺎﻝ ﮐﺮ ﺩﮐﮭﺎﺋﯿﮟ۔ ﺑﮯ ﭼﺎﺭﮮ ﭘﮭﻨﺲ ﮔﺌﮯ ﮐﮧ ﻓﺤﺎﺷﯽ " ﺍﻟﻔﺎﻅ" ﻣﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﯽ، ﺳﭽﻮﯾﺸﻦ ﻣﯿﮟ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ۔

ﻭﺭﻕ ﺍﻟﭩﻨﮯ

ﭘﻠﭩﻨﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﮯ، " ﺟﯿﺴﮯ ﮐﮧ ﯾﮧ ﻟﻔﻆ ﮨﮯ۔ "ﻋﺎﺷﻖ "! ۔۔۔ ﻭﮐﯿﻞ ﺩﻓﺎﻉ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﺍﮔﺮ ﯾﮧ ﻓﺤﺶ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﻌﻢ ﺍﻟﺒﺪﻝ ﺑﺘﺎٗﺋﯿﮟ۔ ﻣﻨﭩﻮ ﮐﯽ ﺭﮒ ﻇﺮﺍﻓﺖ ﭘﮭﮍﮎ ﺍﭨﮭﯽ۔ ﺑﻮﻟﮯ، " ﺍﭼﮭﺎ ﻋﺎﺷﻖ ﻓﺤﺶ ﮨﮯ، ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺟﮕﮧ "ﯾﺎﺭ" ﮐﯿﺴﺎ ﺭﮨﮯ ﮔﺎ؟ " ﺍﯾﮏ ﻗﮩﻘﮧ ﭘﮍﺍ ﺍﻭﺭ ﺟﺞ ﺑﮭﯽ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺷﺎﻣﻞ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ۔


انٹرنیٹ کی دنیا سے ‎‎

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎