بہترین زندگی کے راز, اسپیشل نفسیاتی مسائل کا حل , اپنی صحت بہتربنائیں, اسلام اورہم, ترقی کےراز, عملی زندگی کےمسائل اورحل, تاریخ سےسیکھیئے, سماجی وخاندانی مسائل, ازدواجی زندگی بہتربنائیں , گھریلومسائل, روزمرہ زندگی کےمسائل, گھریلوٹوٹکے اسلامی واقعات, کریئر, کونساپیشہ منتخب کریں, نوجوانوں کے مسائل , بچوں کی اچھی تربیت, بچوں کے مسائل , معلومات میں اضافہ , ہمارا پاکستان, سیاسی سمجھ بوجھ, کالم , طنز و مزاح, دلچسپ سائینسی معلومات, کاروبار کیسے کریں ملازمت میں ترقی کریں, غذا سے علاج, زندگی کےمسائل کا حل قرآن سے, بہترین اردو ادب, سیاحت و تفریح, ستاروں کی چال , خواتین کے لیے , مرد حضرات کے لیے, بچوں کی کہانیاں, آپ بیتی , فلمی دنیا, کھیل ہی کھیل , ہمارا معاشرہ اور اس کی اصلاح, سماجی معلومات, حیرت انگیز , مزاحیہ


منگنی کی انگوٹھی الٹے ہاتھ کی چوتھی انگلی میں ہی کیوں؟

  پیر‬‮ 30 جولائی‬‮ 2018  |  19:05

جب بھی کسی انسان کو ہم چوتھی اُنگلی میں انگوٹھی پہنے دیکھتے ہیں تو پہلا خیال یہی آتا ہے، کہ وہ منگنی شدہ یا شادی شدہ ہے۔ لیکن یہ رواج کب اور کہاں سے پڑا؟ اس بات سے بہت ہی کم لوگ واقف ہیں۔الٹے ہاتھ کی چوتھی اُنگلی میں منگنی کی انگوٹھی پہننے کا رواج قدیم زمانے سے چلتا آرہا ہے۔ یہ مصر سے شروع ہوا۔ مصر کے آثارقدیمہ کی تصویری تحریروں میں عورتوں کو اس انگلی میں انگوٹھی پہنے دیکھا گیا ہے۔مصر کی عورتیں محبت کی علامت کے طور پر اس انگلی میں شادی کی انگوٹھی پہنا کرتی تھیں۔

مگر صرف مصری ہی نہیں، یونانی اور رومی تہذیبوں میں بھی یہ رواج قائم تھا۔ان کے عقیدے کے مطابق اس انگلی سے ایک نازک نس سیدھی دل تک جاتی ہے۔جہاں تک دل کا تعلق ہے، در حقیقت دل جسم میں خون کی گردش کے لیئے بنا ہے۔ لیکن عام طور پر اس کا تعلق محبت سے بھی سمجھا جاتا ہے۔حالانکہ اس بات میں کوئی صداقت نہیں، طبی سائنس میں اس بات کی تردید کی گئی ہے کہ ایسی کوئی نس موجود نہیں ہے۔پھر بھی دنیا بھر میں لوگ شادی یا منگنی کے بندھن کا اظہار، اس انگلی میں پہنی انگوٹھی سے کرتے ہیں۔البتہ کچھ ممالک مین میں یہ انگوٹھی سیدھے ہاتھ کی اسی انگلی میں بھی پہنی جاتی ہے۔ایک اور دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ رواج ابتدائی طور پر صرف عورتوں کے لیئے تھا۔ لیکن دوسری عالمی جنگ کے دوران فوجی بھی اپنے بیوی بچوں کی یاد کے طور پر یہ انگوٹھی پہنا کرتے تھے۔ تب سے مردوں میں بھی یہ رواج قائم ہونے لگا۔شادی کی تقریب کا موقع ہر کسی کی زندگی کا اہم ترین دن ہوتا ہے کیوں کہ وہ ہمیشہ یاد رہتا ہے اور اس کے لیے وہ ہر طرح کی تیاریاں بھی کرتا ہے۔ مگر کیا کوئی دلہا یا دلہن شادی کے بعد کی زندگی کے لیے کوئی منصوبہ بندی کرتے ہیں؟ ایسا اکثر نہیں ہوتا اور یہی وجہ ہے کہ کچھ ماہ یا سال بعد یہ تعلق زندگی کا ایسا حصہ بن جاتا ہے جس میں اونچ نیچ آتی رہتی ہے۔ مگر کیا آپ کو معلوم ہے کہ اس رشتے کو آپ چند چھوٹی سی چیزوں سے ہمیشہ ایکرنگ میں ڈھال سکتے ہیں یا شریک حیات کو احساس دلا سکتے ہیں کہ آپ کو اس کی کتنی پروا ہے؟اگر نہیں تو چند سادہ مگر حیران کن اقدامات آپ کے شریک حیات کے چہرے پر

مسکراہٹ لانے کے لیے کافی ثابت ہوتے ہیں جو کہ درج ذیل ہیں۔ برتن دھو دینا یا ایسا کوئی کام: بس یہ جانیں کہ انہیں گھر کے کس کام کو کرنا پسند نہیں اور جب موقع ملے اسے خود کردے، یہاں تک کہ اگر صرف ایک بار بھی ایسا کیا جائے تو دوسرے کے لیے ایسا پیغام ہوگا کہ آپ نے اس کے اندر کی آواز سنی اور یاد رکھی۔ فون اٹھائیں اور میسج کے بجائے فون کردیں: آپ کے ساتھ کوئی پرمزاح واقعہ پیش آیا ہے یا کچھ نیا ہوا ہے؟ تو فون اٹھائیں اور شریک حیات کو میسج کے ذریعے بتانے کے بجائے کال ملا لیں، موجودہ عہد میں اکثر لوگ بات کرنے پر ٹیکسٹ میسج کو ترجیح دیتے ہیں مگر کال کرنا اس کے مقابلے میں دل جیتنے کا زیادہ اچھا طریقہ ہے۔کہیں جانے کا منصوبہ خود بنائیں: کسی جگہ کھانے کے لیے جانے یا فلم دیکھنے سمیت کسی بھی اس طرح کی چیز پر بحث کرنے کے بجائے خود اس کا منصوبہ بنائیں کیوں کہ کئی بار نہ سوچنا بھی اچھا لگتا ہے۔ ایسا منصوبہ بنائیں جو آپ جانتے ہیں کہ شریک حیات کو پسند آئے گا اور اس طرح اپنا وقت بھی بے فضول کی بحث میں ضائع ہونے سے بچائیں۔ شہر سے باہر جانے پر کچھ لانا نہ بھولیں: اب دوستوں کے ساتھ شہر سے باہر گھومنے جائیں یا دفتری امور کے باعث جانا ہو، جس جگہ بھی جائیں وہاں سے واپسی میں کچھ ایسا ضرور ساتھ لے کر گھر جائیں جو شریک حیات کو احساس دلائے کہ دور ہونے پر بھی آپ کو اس کا خیال تھا۔کبھی کبھار پسندیدہ کھانا گھر لے آئیں: اگر آپ کو معلوم ہے کہ آپ کے شوہر/ بیوی کو کسی مخصوص جگہ کا کوئی پکوان پسند ہے تو وہاں جانے کا موقع ملنے پر اسے لینا نہ بھولیں اور گھر میں غیر متوقع دعوت کردیں۔ اگر دن خراب گزرا ہے تو کسی چیز سے سرپرائز کریں: ہر ایک کی زندگی میں کچھ دن ایسے ہوتے ہیں جو بھاری ثابت ہوتے ہیں، جیسے کام میں کوئی مسئلہ ہوگیا اور کوئی بری خبر مل گئی۔تو ایسے موقعوں پر پھولوں کا گلدستہ یا پسندیدہ آئس کریم اچانک مل جائے تو ہوسکتا ہے چہرے پر مسکراہٹ بکھر جائے۔ ضرورت کی چیز خرید کر دے دیں: اگر آپ دیکھیں کہ شریک حیات کی کوئی ضرورت کی چیز جیسے میک اپ یا ایسی کھانے کی چیز جو ہر وقت کھانے کے عادی ہوں، تو اسے چپکے سے خرید کر لادیں یا آن لائن آرڈر کردیں۔ اس سے دوسرے فرد کو اندازہ ہوگا کہ آپ اس پر کتنی توجہ دیتے ہیں اور یہ احساس بہت اہمیت رکھتا ہے۔ چائے یا ناشتہ بناکر کھلادیں: آپ کو ایسا روز کرنے کی ضرورت نہیں مگر کبھی کبھار اچانک جب شریک حیات اٹھے اور دیکھے کے ناشتہ یا چائے ہی تیار رکھی ہے تو مزاج پر کتنا خوشگوار اثر مرتب ہوگا، اس کے لیے زیادہ اندازہ لگانے کی بھی ضرورت نہیں۔چھوٹا سا نوٹ لکھ کر چھوڑ دیں: کسی نمایاں جگہ پر چھوٹا سا نوٹ لکھ کر بتائیں کہ وہ کتنا اچھا/اچھی لگ رہی ہے یا محبت کا اظہار کردیں۔ کسی آن لائن مزاحیہ پوسٹ میں ٹیگ کریں: فیس بک پر کوئی اچھی پرمزاح ویڈیو ہو یا کوئی پوسٹ، اس پر شریک حیات کو ٹیگ کردیں، یہ فوری طور پر چہرے پر مسکراہٹ بکھیرنے والا عمل ہے۔ اپنے پسندیدہ مقام پر لے جائیں: شریک حیات کو وہ تمام اہم مقامات دکھائیں جو آپ کے لیے اہمیت رکھتے ہیں، اب چاہے وہ کوئی پسندیدہ ہوٹل ہو یا کوئی ایسی جگہ جہاں جانا بہت زیادہ پسند کرتے ہوں۔ کسی ٹی وی ڈرامے کو اکھٹا دیکھنے پر اصرار کریں: اب وہ کوئی بھی شو یا ڈرامہ ہوسکتا ہے، چاہے پسند نہ بھی ہو مگر آپ کے شوہر/ بیوی کو پسند ہے تو اکھٹے بیٹھ کر دیکھنے پر اصرار کریں، جب دونوں اکھٹے ہوتے ہیں تو محبت بھی بڑھتی ہے۔اکھٹی تصویر لگائیں: ویسے تو فیس بک یا انسٹاگرام تصاویر شیئرنگ کے لیے زیادہ استعمال ہوتے ہیں تاہم کسی تصویر کا پرنٹ نکلوا کر گھر میں کسی نمایاں جگہ پر لگانا کچھ خاص اہمیت رکھتا ہے، جب آپ کے شریک حیات کو وہ نظر آئے گی تو اس کا دل پگھل کر رہ جائے گا۔ یہ بتائیں کہ شخصیت کا کونسا پہلو پسند ہے: اگر تو شادی کو کئی برس ہوچکے ہیں تو ہوسکتا ہے کہ محبت کا سادہ اظہار کافی ثابت نہ ہو، تو شریک حیات کو ان کی شخصیت کی وہ چیزیں بتائیں جو آپ کو اچھی لگتی ہوں، وہ یہ جان کر ضرور حیران رہ جائے گا/گی، اور آپ انہیں یہ بھی بتائیں کہ آپ دل سے انہیں سراہتے ہیں۔ان کے پیاروں کے کام آئیں: شادی کا تعلق صرف دو افراد کے درمیان نہیں بلکہ دو خاندانوں کے درمیان ہوتا ہے اور شوہر ہو یا بیوی، ان کی زندگی میں چند ایسے افراد ضرور ہوتے ہیں جو بہت اہمیت رکھتے ہیں۔ تو ایسے لوگوں کے کام آنے کی کوشش کریں تاکہ شریک حیات بھی خوش رہے۔ جذبات پڑھنے کی کوشش کریں: ویسے تو جب کوئی غصے میں ہو یا ناخوش ہو تو وہ رومانس کے لیے کوئی اچھا وقت تو نہیں مگر اپنے جذبات کے اظہار کا اچھا وقت ضرور ہوتا ہے۔ جب کچھ ایسا ہو جو شریک حیات کو اپ سیٹ یا ناراض کردے یا چہرے سے ایسا محسوس ہو، تو پوچھیں کہ وہ کیسا محسوس کررہے ہیں اور آپ کیا کرسکتے ہیں۔


انٹرنیٹ کی دنیا سے ‎‎

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎