بہترین زندگی کے راز, اسپیشل نفسیاتی مسائل کا حل , اپنی صحت بہتربنائیں, اسلام اورہم, ترقی کےراز, عملی زندگی کےمسائل اورحل, تاریخ سےسیکھیئے, سماجی وخاندانی مسائل, ازدواجی زندگی بہتربنائیں , گھریلومسائل, روزمرہ زندگی کےمسائل, گھریلوٹوٹکے اسلامی واقعات, کریئر, کونساپیشہ منتخب کریں, نوجوانوں کے مسائل , بچوں کی اچھی تربیت, بچوں کے مسائل , معلومات میں اضافہ , ہمارا پاکستان, سیاسی سمجھ بوجھ, کالم , طنز و مزاح, دلچسپ سائینسی معلومات, کاروبار کیسے کریں ملازمت میں ترقی کریں, غذا سے علاج, زندگی کےمسائل کا حل قرآن سے, بہترین اردو ادب, سیاحت و تفریح, ستاروں کی چال , خواتین کے لیے , مرد حضرات کے لیے, بچوں کی کہانیاں, آپ بیتی , فلمی دنیا, کھیل ہی کھیل , ہمارا معاشرہ اور اس کی اصلاح, سماجی معلومات, حیرت انگیز , مزاحیہ


ایم بی اے ڈگری ہولڈرز کو نوکری نہیں دینی چاہئیے

  پیر‬‮ 30 جولائی‬‮ 2018  |  19:07

ایلن مسک کا کہنا ہے ایم بی اے ڈگری ہولڈر کو نوکری نہیں دینی چاہئیے۔ایلن مسک اسپیس ایکس کمپنی کے مالک ہیں، حال ہی میں ان کی کمپنی نے خلاء میں دنیا کا سب سے بڑا راکٹ لانچ کیا ہے، جبکہ اس کے ساتھ ہی اپنی نجی کار ‘ٹیسلا روڈسٹر’ بھی خلاء میں بھیج دی، جس میں خلائی مخلوق کیلئے کئی پیغامات لکھے گئے ہیں۔ایلن نےایک انٹرویو کے دوران کہا کہ جتنا ممکن ہو سکے ایم بی ایز کو نوکری نہ دی جائے، ایم بی اے پروگرامز نہیں سکھاتے کہ کمپنی کس طرح بنائی جاتی ہے۔امریکا میں ایم بی اے

کی ڈگری حاصل کرنے کیلئے اوسطاً 60 ہزار ڈالرز کا خرچ آتا ہے، جبکہ پاکستان میں بھی تقریباً ایم بی اے کیلئے 3 سے 4 لاکھ روپے خرچ ہوتے ہیں۔اس کے باوجود 41 فیصد گریجویٹس بے روزگار رہ جاتے ہیں۔ جبکہ جو لوگ نوکری حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں ان میں سے 90 فیصد اپنی ڈگری کے مطابق کام نہیں کرتے۔اسی حوالے سے فیس بک کی چیف آپریٹنگ آفیسر شیرل سینڈ برگ کا کہنا ہے کہ ‘فیس بک کیلئے ایم بی ایز ضروری نہیں۔  مجھے نہیں لگتا کہ یہ لوگ ٹیک انڈسٹری کیلئے اہمیت رکھتے ہیں’۔جب فیس بک اور ای بے جیسی بڑی کمپنیاں ایم بی ایز کونوکری پر رکھنے سے گریزاں ہیں، تو ممکن ہے  مستقبل میں ایم بی ایز کی کوئی اوقات نہ رہے اور انہیں بے کار تصور کر لیا جائے۔ایم بی اے میں وقت ضائع کرنے سے بہتر ہے کہ اپنے اس قیمتی وقت کو انٹرن شپ میں صرف کریں اور اس پیسے کو کسی بزنس آئیڈیا میں لگائیں۔کسی بڑی اور کامیاب کمپنی میں ایک ایم بی اے ہولڈر کو نوکری ملنے کے امکانات بہت کم ہوتے ہیں۔ ایم بی اے ہولڈر سے زیادہ تجربہ کار لوگوں کو ترجیح دی جاتی ہے۔ای بے کے ڈائریکٹر سکاٹ کُک کہتے ہیں ‘جب ایک ایم بی اے ہمارے پاس آتا ہے تو ہے اسے دوبارہ سے تربیت دینی پڑتی ہے، انہوں نے جو پڑھا ہے اس میں سے کچھ بھی انہیں کچھ نیا تخلیق کرنے میں مدد نہیں کرتا’۔ان سب کامیاب لوگوں کے خیالات اپنی جگہ، لیکن آخر میں اس کا انحصار آپ پر ہے کہ اپنے لئے کونسی راہ کا انتخاب کرتے ہیں۔کیا آپ کو لگتا ہے ایم بی اے میں وقت اور پیسہ لگانا سمجھ داری ہے؟َ


انٹرنیٹ کی دنیا سے ‎‎

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎