بہترین زندگی کے راز, اسپیشل نفسیاتی مسائل کا حل , اپنی صحت بہتربنائیں, اسلام اورہم, ترقی کےراز, عملی زندگی کےمسائل اورحل, تاریخ سےسیکھیئے, سماجی وخاندانی مسائل, ازدواجی زندگی بہتربنائیں , گھریلومسائل, روزمرہ زندگی کےمسائل, گھریلوٹوٹکے اسلامی واقعات, کریئر, کونساپیشہ منتخب کریں, نوجوانوں کے مسائل , بچوں کی اچھی تربیت, بچوں کے مسائل , معلومات میں اضافہ , ہمارا پاکستان, سیاسی سمجھ بوجھ, کالم , طنز و مزاح, دلچسپ سائینسی معلومات, کاروبار کیسے کریں ملازمت میں ترقی کریں, غذا سے علاج, زندگی کےمسائل کا حل قرآن سے, بہترین اردو ادب, سیاحت و تفریح, ستاروں کی چال , خواتین کے لیے , مرد حضرات کے لیے, بچوں کی کہانیاں, آپ بیتی , فلمی دنیا, کھیل ہی کھیل , ہمارا معاشرہ اور اس کی اصلاح, سماجی معلومات, حیرت انگیز , مزاحیہ


کیا آپ نقلی چاولوں کو پہچاننے کے یہ چار طریقے جانتے ہیں؟

  پیر‬‮ 30 جولائی‬‮ 2018  |  19:26

پاکستا ن اور چین کے درمیان بلند پایا تجارتی تعلقات ہیں اور پاکستانی بازاروں میں بڑی تعداد میں چین کی بنی ہوئی اشیاء دستیاب ہیں۔سوئی سے لے کر موٹر بائیک تک “سب مال چائناکا ہے”۔ان سب چیزوں کے ساتھ ساتھ کھانے پینے کی اشیاء بھی بڑی تعداد میں پاکستان چین سے درآمد کرتا ہے جس میں پھل، سبزیاں  اور بالخصوص  چاولشامل ہیں۔چین سالانہ 200ٹن کی پیداوار کے ساتھ چاول کی پیداوار کرنے والے ممالک میں سرِفہرست ہے۔تاہم چین کی بڑھتی ہوئی چاول کی پیداوار کے ساتھ صحت کے متعلق تحفظات سامنے آرہےہیں۔متعدد رپورٹس میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ

چین کے چاولوں میں پلاسٹک کی بڑی مقدار پائی جاتی ہے۔کورین ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق متعدد چینی کمپنیاں پلاسٹک اور آلو کے آٹے سے تیار شدہ نقلی چاول بیچ رہی ہیں۔ ان چاولوں میں ابلے ہوئے چاولوں کی خوشبو او رذائقہ ڈالا جاتا ہے۔ان نقلی چاولوں کو بعد میں اصلی چاولوں کے ساتھ ملا دیا جاتاہے تاکہ صارفین کو دھوکا دیا جاسکے۔ان نقلی چاولوں کو مندرجہ ذیل طریقوں سے پہچانا  جاسکتا ہے۔پانی کا ٹیسٹایک کھانے کا چمچہ چینی چاول لیں اور ایک گلاس پانی میں ڈال دیں۔ اصلی چاول نیچے بیٹھ جائیں گے جبکہ پلاسٹک کے چاول تیرتے رہیں گے۔آگ کا ٹیسٹمٹھی بھر چاول لیں اور ماچس یا لائٹر کی مدد سے جلائیں۔ اگر چاول پلاسٹک سے بنے ہوں گے تو جلنے کے بعد فوری طور پر  پلاسٹک کی بدبو آنےلگ جائے گی۔مولڈ ٹیسٹچاول کو اُبالیں اور بوتل میں دو سے تین دن رکھیں۔ اگر چاولوں کو پھپھوندی نہ لگے تو یقیناً وہ پلاسٹک کے ہیں۔اُبالنے کا ٹیسٹنقلی چاولوں کو اُبلتے وقت پہچاناجا سکتا ہے۔ اگر چاول پلاسٹک کا بنا ہوتا ہے تو اُبلتے وقت دیگچی میں ایک موتی سطح بن جاتی ہےتمام غذائی اشیا اپنے اندر علیحدہ افادیت رکھتی ہیں، مناسب مقدار اور وقت پر کھایا جائے تو یہ ہمارے جسم کے لیے فائدہ مند بن جاتی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر چیز کے کھانے کا ایک مقررہ وقت ہے۔ اگر اس مناسب وقت پر اس شے کو کھایا جائے تو نہ صرف یہ آسانی سے ہضم ہوجاتی ہیں بلکہ یہ جسم کو فائدہ بھی پہنچاتی ہے۔چاکلیٹ کو ہی لے لیجئےچاکلیٹ کے کچھ ٹکڑے ناشتہ کے وقت کھاناجسم میں اینٹی آکسیڈنٹس کی مقدار میں اضافہ کرتے ہیں جو بڑھاپے کے عمل کو سست کرتے ہیں۔چاکلیٹ امراض قلب کے بھی مفید ہے۔لیکن اس کی زیادہ مقدار سے جسم میں چربی ذخیرہ ہونا شروع ہوجائے گی جو موٹاپے،

ہائی بلڈ پریشر سمیت کئی بیماریوں کا سبب بنے گی۔ دودھ جسم اور دماغ کے خلیات کو پرسکون کر کے اچھی نیند لانے میں معاون ثابت ہوتا ہے لہٰذا نیم گرم دودھ کا ایک گلاس رات سونے سےپہلے پینا نہایت مفید ہے۔ اس کے برعکس دن میں دودھ پینا نظام ہاضمہ پر بوجھ بن سکتا ہے اور آپ کے دن بھر کے کھانے کا معمول خراب ہوسکتا ہے۔دہی کو کھانے کا بہترین وقت دن میں ہے۔یہ ہاضمے کے نظام کو بہتر کرتا ہے۔لیکن رات کے وقت دہی کھانا نقصان دہ بھی ہوسکتا ہے۔ خاص طور پر اگر آپ گلے کی خرابی یا کھانسی کا شکار ہیں تو ایسی صورت میں رات میں دہی کھانے سے گریز کریں۔گوشت ہمیشہ دن کے کھانے میں کھائیںکیونکہ یہ ہضم ہونے میں 5سے 6گھنٹے لیتا ہے۔ اسے رات کے کھانے میں کھایا جائے تو یہ نظام ہاضمہ پر بوجھ بن سکتا ہے۔دالیں ہمیشہ شام یا رات کے کھانے میں استعمال کریں کیونکہ یہ نظام ہاضمہ میں بہتری اور کولیسٹرول میں کمی کرنے میں مدد دیتی ہیں۔ صبح ناشتے کے وقت یا دن کے درمیان دالوں سے بنی ڈش جلدی ہضم ہو کر بے وقت بھوک پیدا کرسکتی ہے۔ اکثر افراد رات کے کھانے میں چاول کھاتے ہیں جو ان میں موٹاپے کا سبب بنتا ہے۔چاول کھانے کا بہترین وقت دوپہر میں ہے۔ات کے کھانے میں آلو کے استعمال سے گریز کریں۔ چینی سے بنی اشیا کا استعمال کیلوریز میں اضافہ کا سبب بنتا ہے لہٰذا بہتر ہے کہ میٹھی چیزوں کو شام سے پہلے کھا لیا جائے تاکہ دن بھر چلنے پھرنے کے دوران یہ ہضم ہوجائے۔دن بھر میں خشک میوہ جات کا استعمال آپ کو بے وقت کھانے سے بچائے گا یوں آپ کے وزن میں --> اضافہ نہیں ہوگا۔لیکن خیال رہے کہ خشک میوہ جات جیسے بادام، پستہ، اخروٹ وغیرہ بھرپور غذائیت کے حامل ہوتے ہیں لہٰذا انہیں رات میں کھانے سے پرہیز کرنا چاہئے۔ نارنگی کو صبح ناشتے میں خالی پیٹ کھانے سے گریز کریں۔ صبح نہار منہ نارنگی کھانے سے جسم میں الرجی پیدا ہوسکتی ہے۔ناشتہ میں یا دن کے کسی بھی حصہ میں کیلا کھانا آپ کے ہاضمہ کے عمل کو تیز کرسکتا ہے۔شام یا رات میں کیلا کھانانقصان کا سبب بن سکتا ہے۔ یہی بات سیب کیلئے بھی ہے، صبح ناشتے میں ایک سیب کھانا ڈاکٹر سے نجات اور رات کو کھانا ڈاکٹر کے پاس جانے پر مجبور کر سکتا ہے۔


انٹرنیٹ کی دنیا سے ‎‎

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎